دیپ جلتے رہے (20)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچے ننھی سی عمر میں اپنے بابا کے نام، کام، مقام اور اور اماں کی سخت جان سے واقف ہو چکے تھے۔ اپنے بابا کو سوالات کی کھوج میں غلطاں دیکھ کر کبھی انہوں نے بابا سے کچھ پوچھا نہ فرمائش کی۔ نہ کبھی کو ئی تکلیف دی۔ بچوں کا اپنے بابا پر پکا ایمان جوہے کہ اگر بابا سے کو ئی فرمائش کر دی، وہ کچھ بھی اور کیسے بھی کر کے پوری کریں گے۔

 انہیں پنگھوڑے ہی میں احساس ہو گیا تھا کہ انہیں جنم دینے والوں کی سب کو جنم دینے والے کی طرح کوئی پلاننگ نہیں۔ زندگی اور موت کے درمیانی وقفے میں محض بے ہنگم بھاگ دوڑ ہے۔

دنیا میں آئے دھول میں اٹ کے چلے گئے

بل اپنے کھولنے میں لپٹ کے چلے گئے

اس لیے چھوٹی سی عمر میں ہی انہوں نے برد باری اوڑھ لی۔ میرے پاس انہیں بہلانے اور ان سے کھیلنے کا وقت نہ تھا پر ہمارا دل بہلانے کو جو ان کے پاس جو میسر تھا اسی کے کھلونے بنانے شروع کر دیے۔ رامش مٹی سے مجسمے بنا کر اور رشی کاغذ کے کھلونے بنا کر ہمیں بہلایا کرتا۔ رشی کاغذات کو پہلے کاٹ پیٹ کر بکھیرتا، کھلونے بناتا۔ ہمیں خوش کرنے کو کاغذ کے جہاز، کاغذ کی کشتی، کاغذ کی گیندوں، کاغذ کے پھولوں سے کھیلتا اور با اختیار خالق کی طرح دل بھر جانے پر انہیں توڑ موڑ کراپنے ہاتھوں سے بنائے ڈسٹ بن میں ڈال دیتا۔ گھر میں بکھرے کاغذات دیکھ کر مجھے گھر ہنستا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ رامش مٹی سے نہایت حسین مجسمے بنا کے میز یا الماری کے اوپر رکھ دیتا، پھر اپنے ہی بنائے مجسمے میں اسے خامی نظر آنے لگتی، وہ خالق تھا، جسے چاہتا سجا لیتا، اور جسے چاہتا بچا لیتا۔ جسے چاہتا چھپاتا اور جیسے چاہتا دوبارہ مٹی میں ملا دیتا۔ بچ جانے والے مجسمے اکڑے ہوئے الماری کے اوپر براجمان رہتے۔ اور ٹوٹے، ٹیڑھے میڑھے مجسمے صابر انسانوں کی طرح اپنی مزید تباہی کا انتظار کیا کرتے۔

بے بسی دیکھ مرے ہاتھ بھی اب ٹوٹ گئے

پاؤں پہلے ہی میسر نہ تھے چلنے کے لیے

ایک دن میں رشی کے بیگ سے کچھ تلاش کر رہی تھی، ایک پرچہ ملا، جس پر دو مختلف تحریریں تھیں۔ ایک میں رشی کی طرف سے کسی بچی کو مخاطب کر کے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ اس سے دوستی کرے گی، اور یہ کہ وہ تو کالا ہے جب کہ وہ گوری ہے تو اسے برا تو نہیں لگے گا۔

جواب بھی اسی پرچے پر تھا۔ کالے تو اللہ میاں کے پیارے ہوتے ہیں۔

یوں رادھا نے، نند لال کو، یشو متی میا سے سوال پو چھنے کا موقع دیے بغیردوستی کا ہاتھ بڑھا دیا تھا۔ میں نے مسکرا کے پرچہ اس کے بیگ میں ڈال دیا۔

بہت سے لوگ بڑے دیالو ہو تے ہیں، احمد کی تو الگ بات ہے، انہیں نہ کمانا آیا نہ خرچ کرنا، پر ہماری عقل پر پتھرکیوں پڑ گئے تھے۔ ہمیں ایڈوانس کی رقم ہر صورت میں بچانی چا ہیے تھی۔ اسٹینڈ لینا چا ہیے تھا۔ لیکن احمد کا کہنا بھی ٹھیک تھا گجو بھائی کو ایک دن کے لیے سہی، اپنی اہمیت کا احساس تو ہو گا۔ ہمیں اس فلیٹ میں آئے دس دن ہی ہوئے تھے۔ مالک فلیٹ جن کا نام مستقیم تھا، ہمارے دروازے پر آکر کھڑے ہو گئے۔ احمد سے اونچی آواز میں ایڈوانس کی رقم ادا کرنے کے لیے کہا، احمد نے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس مہینے کے اختتام تک وہ ادائیگی کر دیں گے، مگر مسقیم صرف پانچ دن کی مہلت دیتے ہوئے پندرہ تاریخ کی ڈیڈ لائن دے کر چلا گیا۔ صرف پانچ روز کے اندر بیس ہزار کا بندوبست کرنا ایک مشکل امر تھا۔ احمد کے انجکشن میں تاخیر کے سبب ان کے مزاج میں تیزی آرہی تھی۔ دوسری طرف میں بچوں کی ایکٹیویٹیز سے بالکل غافل ہو چکی تھی۔

ہمارے اسکول کے ٹائمنگ آغا اسکول نے اپنی سہولت کے اعتبار سے کچھ اس طرح رکھے تھے کہ ان کی مارننگ اور ایوننگ شفٹ کو کور کرنے کے لیے ہم دن دس بجے جاتے اور تین بجے فارغ ہوتے۔ رشی نے اب کاغذ سے کھلونے بنانے چھوڑ دئیے تھے لیکن اپنی مصروفیت میں، سمٹے ہوئے گھر کی بے رونقی کو بھی ہم نے نوٹس نہیں کیا۔

ایک دن اسکول کی جلدی چھٹی ہوگئی، ہم گھر پہنچے تو رشی نہیں تھا۔

رامش نے بتایا کہ رشی اسکول سے آنے کے بعد روزآنہ اپنی کلاس میٹ کے پاس چلا جا تا ہے جو اسی اپارٹمنٹ میں رہتی ہے۔ ہم اسے تلاش کرنے پہنچے تو دونوں اپارٹمنٹ کی مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔

 دونوں چوتھی جماعت میں پڑھتے تھے۔ رشی نے مجھے دیکھتے ہی بچی کا تعارف کرایا۔ ثوبیہ (فرضی نام) بڑی پیاری سی بڑی بڑی آنکھوں والی بچی تھی۔ ہمارے ہاں بچوں کی دوستی میں بھی لڑکا اور لڑکی کی دوستی کو معیوب سمجھا جا تا ہے۔

پتہ نہیں اس بچی کے والدین کو بھی معلوم ہے کہ نہیں، کہ ان کی بچی اس وقت کہاں ہے، یہ سوچ کر میں نے ثوبیہ سے کہا کہ وہ مجھے اپنے گھر لے چلے۔ دونوں بچے اعتماد سے میرے ساتھ چلے۔

بچی گھر جا کر ماں کو اندر سے بلا لائی۔

ماں نے تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد، ثوبیہ اور رشی کو باہر کھیلنے کے لیے بھیج دیا۔

میرے سامنے شربت کا گلاس رکھتے ہوئے پوچھا: آپ شیعہ ہیں؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا، ان کے چہرے پر اطمینان کی واضح لہر نظرآئی پھر خود ہی مسکراتے ہوئے بولیں، ہم بھی شیعہ ہیں۔ اسکول سے آتے ہی ثوبیہ آپ کے بیٹے سے ملنے کے لیے بے چین ہوتی ہے۔ بڑی مشکل سے اسے کھانا کھلاتی ہوں۔

 کوئی بات نہیں، دونوں بچے ہی تو ہیں، میرے بیٹے کا بھی یہ ہی حال ہے۔ میں نے ہنس کر انہیں دلاسا دیا۔

آپ کو برا تو نہیں لگتا۔ انہوں نے پوچھا

نہیں اس میں برا لگنے والی تو کوئی بات نہیں لیکن مجھے لگتا تھا کہ آپ کو ان کمفرٹ لگتا ہو گا، کہ اسکول سے آتے ہی یہ باہر نکل کر رشی کے پاس بیٹھ جاتی ہے۔ میں نے دل کی بات کی۔

کہنے لگیں اگر اسے زبردستی روکنے کی کوشش کروں تو بے حد بے چین رہتی ہے۔ آخر اجازت دینی ہی پڑتی ہے۔

کوئی بات نہیں دونوں ایک کلاس میں ہیں اس لیے۔ آپ پریشان مت ہوں۔

نہیں اب تو میں بالکل پریشان نہیں ہوں، کیوں کہ آپ بھی شیعہ ہیں، اگر ان کی دوستی زیادہ بڑھی تو آپ کو کو ئی اعتراض تو نہیں ہو گا۔ انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا۔

دیکھیے یہ بہت قبل از وقت ہے، بڑوں کی ایسی سوچیں ہی بچوں کو بچہ نہیں رہنے دیتیں۔ انہیں خوب پڑھنا اور ترقی کرنی ہے۔ شادی کب کس سے ہونی ہے، یہ وقت پر چھوڑ دیں۔ لڑکیوں کی اور لڑکوں کی بھی تو آپس میں گہری دوستی ہو تی ہے۔ اب اگر یہ دونوں لڑکا اور لڑکی ہیں تو ان کا کیا قصور ہے۔

بس آپ صرف اتنا کہہ دیں آپ کو تو اعتراض نہیں۔

مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ یہ کہہ کر میں نے جان چھڑائی، اور انہوں نے اطمینان کا گہرا سانس لیا۔

میں رشی کا ہاتھ پکڑ کر گھر چلی آئی اور کافی دن تک خاتون کی اس احمقانہ بات کو سوچ کر کڑھتی رہی۔

اور اب سمجھ آیا کہ رشی نے کاغذ کے کھلونے بنانا کیوں چھوڑ دیے تھے۔

رشی کا وہی معمول رہا، چھٹی کے دو دن وہ گھر پر ہی ہوتا۔ پوچھنے پر بتا یا کہ ہفتہ اتوار ثوبیہ کے ابو گھر پر ہوتے ہیں اس لیے ثوبیہ نہیں آتی۔

 ان دنوں رشی پڑھائی کے ساتھ اپنی اردو کی لکھائی بہتر کرنے کی کوشش کرتا۔

اور باقی دنوں ٹھیک چار بجے گھر آجاتا۔

احمد نے قرض کے لیے ادھر ادھر ہاتھ مارنے شروع کر دیے۔ ٹھیک پانچ روزبعد مستقیم دروازے پر آگیا۔ احمد گھر پر ہوتے تب بھی ہم انہیں اس بد تمیز انسان سے بات نہ کرنے دیتے۔ ہمیں دیکھتے ہی مستقیم نے جیب سے فون نکالا ایک نمبر ڈائل کر کے آہستہ سے کچھ کہا اور فون ہمیں تھما دیا۔ دوسری طرف ایک عورت دھا ڑی۔

اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ آپ کے میاں شاعر ہیں تو ہم کبھی آپ کو اپنا فلیٹ کرائے پر نہیں دیتے، ہم نے تو آپ کو شریف سمجھ کر فلیٹ دیا تھا۔

انتہائی بد تمیز عورت تھی۔ حالانکہ مسقیم بھی کم بد تمیز نہیں تھا۔ لیکن شاید وہ یہ سب ہم سے نہیں کہہ سکتا تھا۔

ہمیں بھی غصہ آگیا۔ ہم نے کہہ دیا کہ ایڈوانس پیسوں کا انتظام ہو بھی گیا تو ہم اب اس فلیٹ میں نہیں رہیں گے، ہم مہینہ پورا ہوتے ہی فلیٹ خالی کر دیں گے۔

 فیڈرل بی ایریا بلاک انیس (پاور ہاؤس) میں کسی نے بتایا کہ ایک کمرے کا مکان خالی ہے کرایہ بھی بہت کم ہے، اور ایڈوانس کرائے کی شرط بھی نہیں۔

ہم نے سکون کا سانس لیا اور مکان دیکھے بغیر انہیں کہہ دیا کہ مکان ڈن کر دیں۔

ایک کمرے کے مکان میں کیا سمویا جا سکتا تھا۔ دماغ غصے سے بھر گیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ احمد اعصابی تناؤ سے گزر رہے ہیں انہیں سنا ڈالیں۔

آپ جیسے معصوم لوگوں کو دنیا ایسے ہی بے وقوف بناتی ہے، سوائے گجو بھا ئی کی بدنامی اور ہماری بربادی کے اس ولیمے سے کیا ہا تھ آیا بتائیے“۔

 لفظ ”معصوم“ جو ہم نے بہت احتیاط سے استعمال کیا تھا، پر سخت معترض ہوئے۔ کہ اصل میں تم مجھے بے وقوف کہنا چا ہتی ہوں۔ بات تو سچی تھی، لیکن انہیں طیش میں دیکھ کر ہم نے لاکھ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جو ہم نے کہا وہ ہی سچائی ہے۔

مالک مکان کی چخ چخ سے تو جان چھوٹ گئی۔ لیکن اب اگلا مرحلہ انہیں ڈاکٹر ایاز کے پاس لے جانے کا تھا۔

خیر بڑی مشکلوں سے ان کے پاس چلے تو گئے۔ لیکن ان کے سوال و جواب کے بعد انہیں ڈاکٹری چھوڑ کر سبزی کا ٹھیلا لگا نے کا مشورہ دے کر کمرے سے نکل آئے۔

پھر فون پر ہم نے ان سے ساری ہدایات لیں۔ اس زمانے میں میری چھوٹی بہن شفو پنڈی سے آئی ہو ئی تھی۔ یہ اس کی بات بہت مانتے ہیں۔ اس کے کہنے پر ٹیبلیٹ لینے اور انجکشن لگوانے پر راضی ہوئے۔ یوں ایک طوفان ِبلا نے رخ موڑ لیا۔

اس اثنا میں، میں بچوں کی طرف سے بالکل غافل ہو چکی تھی۔ اب جو زرا سکون ملا تو میں نے محسوس کیا کہ رشی چپ چپ رہنے لگا ہے، اب باہر بھی نہیں جاتا تھا۔ میں نے سوچا شاید اپنی دوست ثوبیہ سے بچھڑنے کا دکھ ہے۔

میں نے اسے اپنے پاس بلا کر بٹھایا۔

 ہم ہر ہفتے یہاں آیا کریں گے میں مونا آنٹی کے گھر چلی جایا کروں گی اور آپ اپنی دوست سے مل لینا۔

اس نے سر جھکا لیا۔ میں نے اس کا سر اوپر کیا اس کی آنکھ میں آنسو تھے۔

میں نے کہا نا ہم ہر ہفتے آئیں گے۔ اچھا ہم نہیں جا تے۔ ہم یہیں کہیں کوئی مکان دیکھ لیں گے۔ آپ رو مت ۔۔۔

میں پریشان ہو کر اسے وقتی دلاسہ دینے کے لیے کچھ بھی الٹا سیدھا بولتی رہی۔

کچھ دیر بعد اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور بولا۔

امی ثوبیہ لوگ فلیٹ چھوڑ کر چلے گئے ہیں

 تو کیا ہوا اسکول میں تو ملا قات ہو جا تی ہے نا۔

 اس نے اسکول بھی چھوڑ دیا۔ اب آنسو چھپانے کی باری میری تھی۔

(جاری ہے)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •