ایشز سیریز: ٹِم پین بس آسٹریلوی وزیراعظم کو کال نہ کر سکے

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آسٹریلوی کپتان ٹِم پین کا کرئیر عجیب موڑ سے گزر رہا ہے۔ دو سال پہلے ان کی ٹیم میں جگہ نہیں بن رہی تھی۔ 30 سال سے زائد عمر ہو چکی تھی اور مزید انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی امید اور ہمت، دونوں معدوم ہوتے جا رہے تھے یہاں تک کہ وہ بلے ساز کمپنی ‘کوکابرا’ میں ملازمت بھی ڈھونڈ چکے تھے۔

لیکن پھر اچانک آسٹریلوی کرکٹ پہ ایسا عجب وقت پڑا کہ یکے بعد دیگرے تمام وکٹ کیپر فلاپ ہونے لگے اور بادلِ نخواستہ پین کو واپس بلایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

آخری ایشز ٹیسٹ میں انگلینڈ کی جیت، 47 سال بعد سیریز برابر

سٹیو سمتھ نے خود کو کتنا بدل لیا!

ایشز سیریز: سمتھ کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے

اسی واپسی کے سفر میں وارنر اور سمتھ بال ٹیمپرنگ کرتے پکڑے گئے اور پوری آسٹریلوی قوم غم و غصے میں ڈوب گئی۔ کپتان اور نائب کپتان فارغ کر دیے گئے اور پیچھے جب نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز، تب کپتانی کی باگیں ٹِم پین کے ہاتھ میں دے دی گئیں۔

حسبِ توقع یہ اچانک بدلاؤ کچھ زیادہ کامیاب نہ رہا اور جیت پین کے ڈریسنگ روم سے دور رہی تاآنکہ حالیہ ایشز سیریز شروع ہوئی اور پین کو اپنا ریکارڈ بدلنے کا موقع ملا۔

ہیڈنگلے میں بین سٹوکس کی مزاحمت اس قدر شاندار تھی کہ ایک لمحے کو لگا شاید یہی وہ نقطۂ آغاز ثابت ہو گا جہاں سے روٹ کی ٹیم عقب سے جھپٹ کر ایشز لے اڑےگی۔ کوئی بھی ٹیم ہوتی، اپنے اعصاب کھو بیٹھتی۔ لیکن پین کی ٹیم نے چوتھے میچ میں کمال ‘کم بیک’ کیا۔

جہاں تک جنگ تھی ایشز کی، تو وہ آسٹریلیا چوتھے میچ میں ہی محفوظ کر چکا تھا۔ جبھی آسٹریلوی وزیرِ اعظم سکاٹ موریسن نے بذاتِ خود پین کو کال کرکے مبارک باد دی اور آخری میچ جیت کر باقاعدہ ایشز جیتنے کی خواہش ظاہر کی۔

پین کی بھی خواہش تھی کہ وہ آخری میچ اور سیریز جیت کر خود وزیرِاعظم کو کال کریں۔ میچ سے پہلے پریس کانفرنس میں انہوں نے مسکرا کر بتایا کہ اب تو میرے پاس وزیرِ اعظم کا نمبر بھی ہے۔

لیکن اس سے اگلے چار روز آسٹریلوی ڈریسنگ روم کے لیے زیادہ امید افزا ثابت نہ ہو سکے۔ روٹ کی ٹیم کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے کر آسٹریلوی فیلڈنگ میں اپنے ہی مقرر کردہ معیارات سے کہیں پیچھے دکھائی دیے۔

فیلڈنگ سے بھی ابتر معاملہ رہا بیٹنگ کا، کہ جہاں اتنے میچ گزر جانے کے بعد بھی ڈریسنگ روم کا سٹیو سمتھ اور لبوشین پہ ہی دارومدار نظر آیا۔ یہ پہلی اننگز تک تو ٹھیک تھا مگر دوسری اننگز میں دونوں بلے باز تھکاوٹ کے مارے نظر آئے۔

سٹیو سمتھ

Getty Images
سٹیو سمتھ کے لیے یہ ایشز سیریز ان کے کریئر کے بہترین لمحات میں سے ایک ثابت ہوئی

پانچ میچوں پہ مشتمل ٹیسٹ سیریز کا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ ہر کھلاڑی کی فٹنس اورلگن کا احوال کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ کئی کھلاڑی جو پچھلے میچوں میں فیصلہ کن پرفارمنس دیتے رہے، وہ اوول میں تھکاوٹ کا شکار دکھائی دیے۔

تازہ قدموں پہ کھڑے مچل مارش نے پہلی اننگز میں خوبصورت بولنگ کی۔ انہوں نے دوسری اننگز میں بھی اتنی ہی خوبصورت بولنگ کی مگر دوسرے اینڈ سے ساتھ دینے والے تھکے ہوئے تھے۔

روٹ کی ٹیم کے لیے بہرحال یہ میچ بہت حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ نہ صرف ان کی کپتانی بچ گئی بلکہ جانے والے کوچ ٹریور بیلس کو بھی اچھا اختتامی نوٹ مل گیا۔

جوفرا آرچر ایک بار پھر تباہ کن فارم میں نظر آئے اور براڈ نے بھی اپنے نام کی لاج رکھ لی۔

بہت عرصے بعد کوئی ایشز سیریز اتنی دلچسپ اور کانٹے کی ہوئی کہ قیاس آرائیوں اور اندازوں کو متواتر مات ہوئی۔ روٹ کی ٹیم نے مزاحمت کے بھرپور آثار دکھائے اور پین کی ٹیم بھی خوب کھل کر کھیلی۔

پین کامیاب رہے کہ ایشز پہ آسٹریلوی قبضہ برقرار رکھا، بس بدقسمتی یہ رہی کہ میتھیو ویڈ کی شاندار سینچری کے باوجود، وہ وزیرِاعظم کو کال نہ کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp