گھوٹکی: مندر کی بےحرمتی پر توہینِ مذہب کا مقدمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ایک ہندو استاد پر توہینِ رسالت کا الزام عائد کیے جانے کے بعد مشتعل ہجوم کی جانب سے مندر کی بےحرمتی اور ہندو برادری کی دکانوں میں لوٹ مار کے الزامات پر درجنوں افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

نوتن مل نامی استاد پر ان کے ایک شاگرد نے سنیچر کو پیغمبر اسلام کی توہین کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد گھوٹکی شہر میں ہنگامہ آرائی کے دوران مشتعل افراد نے مقامی سائیں سادرام داس مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی جبکہ شاہی بازار میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی دکانوں کو لوٹا گیا تھا۔

سندھ پولیس کے ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر جمیل احمد نے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کے خلاف توہینِ مذہب، نقصِ امن عامہ اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلا مقدمہ دفعہ 295 اے کے تحت مندر کو نقصان پہنچانے کے الزام میں درج کیا گیا ہے جس میں 22 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 23 نامعلوم ملزمان ہیں۔

ان کے مطابق اس کے علاوہ شاہی بازار میں ہندو برادری کی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرنے پر بھی 12 نامزد اور 11 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 28 افراد کو سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور راستہ روکنے کے مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جمیل کے مطابق نامزد افراد کو واقعے کے ویڈیو کلپس اور عینی شاہدین کی جانب سے شناخت کیے جانے کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہندو استاد کے سکول کی انتظامیہ سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ سکول میں توڑپھوڑ کے حوالے سے مقدمہ درج کروا سکتے ہیں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ مقدمہ بھی ریاست کی مدعیت میں درج کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پولیس نے مذکورہ استاد نوتن مل جو کہ ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہیں، کے خلاف بھی توہینِ رسالت کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس معاملے کی ابتدائی تفتیش ہو رہی ہے جس کے بعد ہی اس بارے میں مزید کارروائی ہو گی۔

صحافی علی حسن کے مطابق اس واقعے پر مذہبی جماعتوں نے اپیل پر ضلع بھر میں ہڑتال کے بعد پیر کو حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ گھوٹکی شہر میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے رینجرز کو طلب کیا تھا جو پیر کو بھی شہر میں گشت کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے بھی اتوار کی شب گھوٹکی میں توڑ پھوڑ کا نشانہ بننے والے مندر کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہندو برادری کے رہنماؤں کو یقین دلایا گیا ہے مندر کی بے حرمتی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہو گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ علمائے کرام نے تمام شرپسندوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور سندھ میں بدامنی پھیلانے کی سازش کی پرزور مذمت کی ہے۔

سعید غنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت سندھ تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی۔

واضح رہے کہ گھوٹکی شہر میں ہندو آبادی کا تناسب 30 فیصد ہے جبکہ پورے ضلع میں ہندو آبادی 20 سے 25 فیصد بتائی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp