تعلیم سے وقفہ اور بیکنگ کا شوق، مانچسٹر کی ثنا انسٹاگرام پر انفلوئنسر بن گئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ثنا سوڈاوالا

BBC

’کالج کے بعد میں سیدھا یونیورسٹی نہیں جانا چاہتی تھی، اس لیے میں نے ایک سال کا وقفہ لے لیا اور اپنے شوق میں بیکنگ کرنا شروع کردی۔‘

جب برطانیہ کے شہر مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی ثنا سوڈاوالا نے اے لیول کی تعلیم مکمل کی تو انھیں اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ زندگی میں آگے کیا کرنا ہے۔

مستقبل کی غیر یقینی میں انھیں بیکنگ کا شوق پیدا ہوا تو انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بنائے کھانوں کی تصاویر لگانا شروع کر دیں۔ صرف چار سال میں انھوں نے کیک اور بسکٹ بنانے میں مہارت حاصل کر لی اور انسٹاگرام پر اپنے ایک لاکھ 33 ہزار فالوورز کے ساتھ پیسے کمانے لگیں اور انفلوئنسر بن گئیں۔

اپنی کامیابی کے اس ’اتفاق‘ پر وہ بتاتی ہیں ’لوگ مجھے اکثر کہتے ہیں کہ ہمیں آپ کی بیکنگ کی ویڈیوز دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہو گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی صارفین انٹرنیٹ پر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟

یو ٹیوب سے 22 ملین ڈالر کمانے والا بچہ

’کیک پر لگی ایک ایک چیز ہاتھ سے بناتی ہوں‘

لیکن ایسا نہیں ہے کہ ثنا نے کبھی کہیں ملازمت نہ کی ہو۔

’میں نے گھر سے باہر نکل کر باقاعدہ کام کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے احساس ہوا کہ نہیں، مجھے اپنا کام پسند ہے اور میں اسے (سوشل میڈیا پر) شیئر کرتی ہوں، جسے لوگ بھی پسند کرتے ہیں۔ تو میں بس اس سے لطف اندوز ہوتی رہی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ہائی سکول ختم کرنے پر وہ کالج گئیں اور انگریزی، سائیکالوجی، آرٹ اور گرافکس کے مضامین پڑھے۔

’میں نے آرٹ اور گرافکس کے مضامین کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ مجھے تخلیق سے متعلق کام کرنا تھا۔‘

’میں نے مانچسٹر کے ایک ادارے میں داخلہ لینا چاہا اور میں آرٹ میں کچھ کرنے والی تھی۔ تو میں نے ایک پیسٹری کورس کر لیا لیکن یہ محض پیسٹری، سکون (بیکنگ سے بننے والے برطانوی کھانے) اور کیش کے بارے میں تھا۔‘

’یہ ان چیزوں کے بارے میں نہیں تھا جو میں اب کر رہی ہوں۔ مجھے معلوم تھا کہ میں آرٹ میں ہی جاؤں گی تو میں نے سال کے وقفے میں اپنے شوق سے یہ کام شروع کر دیا۔‘

’تو اب یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میں آرٹ کی صنعت میں کام کر رہی ہوں۔‘

اتفاق میں برکت

بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر کاروبار کی کوشش کرتے ہیں لیکن سب کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اس کے برعکس، شروعات میں ثنا کی یہ نیت بالکل نہیں تھی کہ وہ اپنی بیکنگ سے پیسے کما سکیں گی۔

’میں صرف شوق سے بیکنگ کرتی تھی۔ جیسے لوگ پریشانی دور کرنے کے لیے کوئی کام کرتے ہیں۔ میرے خاندان میں لوگ ان چیزوں کی فرمائش کرتے تھے اور مجھے اس کے اچھے پیسے دیتے تھے۔‘

ثنا نے صرف اس نیت سے انسٹاگرام پر اپنا پیج شروع کیا تاکہ وہ اپنی بیکنگ سے بنائی ہوئی چیزیں دوسروں کو دکھا سکیں۔

’میں نے تو بس شوق میں اپنا پیج بنایا کیونکہ میں ایسی تصاویر کھینچتی تھی جو مجھے اچھی لگتی تھیں۔‘

انھیں اس وقت اس بارے میں علم ہوا جب پہلی مرتبہ انھیں کسی نے مسیج کر کے پوچھا ‘کیا آپ آرڈر لیتی ہیں؟

’میں بھاگ کر اپنی والدہ کے پاس گئی اور پوچھا کیا میں چیزیں بیچ سکتی ہوں؟‘

ثنا

BBC

ثنا اپنی کامیابی کو محض ایک اتفاق سمجھتی ہیں۔

’مجھے لگتا ہے کہ یہ سب اتفاقاً ہوا کیونکہ میرا چیزیں بیچنے یا اس کام میں کیریئر بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘

جب لوگوں نے انھیں آرڈر بنانے کو کہا تو ان کا جواب تھا، ’کیوں نہیں؟‘

مقابلہ سخت

ثنا کہتی ہیں کہ ان سمیت کئی لڑکیاں انسٹاگرام پر بیکنگ کے حوالے سے اپنے پیج چلا رہی ہیں۔

’انسٹاگرام پر بیکنگ کرنے والوں میں کافی مقابلہ ہے۔ اگر آپ کہیں رک گئے تو آپ کی انگیجمنٹ گِر جاتی ہے۔ اس لیے یہ کام محض ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کرنے جیسا آسان نہیں۔‘

کبھی کبھار تو وہ کام کی وجہ سے خود اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتیں۔

’مجھے ایسے آرڈر بھی ملے جس میں ایک ہفتے میں 1000 سے زیادہ چیزیں بنانی تھی۔۔۔ (اور ایک) ایسا دن بھی تھا جب میں نے اتنا کام کیا کہ مجھے صبح اٹھنے کے بعد احساس ہوا کہ میں پورے دن اپنے پیروں پر کھڑی رہی ہوں۔‘

’آپ کو اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک آپ کے پورے جسم میں درد نہ ہونے لگے۔‘

’آپ ایک انسان ہو، آپ کو اپنی زندگی بھی تو عزیز ہوتی ہے۔‘

ثنا کہتی ہیں ’بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ایشیایی لڑکیوں کے والدین انھیں ڈاکٹر یا فارمیسی میں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن میرے خاندان نے شروع ہی سے میرا ساتھ دیا ہے۔‘

ان کی بہن حنا سوڈاوالا صرف کھانا بناتی ہیں اور بیکنگ سے دور ہی رہتی ہیں۔

’وہ کھانا بناتی ہیں اور میں بیکنگ کرتی ہوں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہاں کوئی مقابلہ نہیں ہو رہا۔‘

ثنا کی والدہ نفیسہ سوڈاوالا سے جب پوچھا گیا کہ کیا انھیں معلوم تھا ان کی بیٹی کیا کرنا چاہتی ہیں، تو ان کا جواب تھا: ’ثنا کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہیں۔‘

اپنی ویب سائٹ پر ثنا کہتی ہیں کہ کبھی کبھار ان کی والدہ ان کی مدد کے لیے اسسٹنٹ بن جاتی ہیں۔

ثنا کی والدہ نے بتایا ’مجھے بہت اچھا لگا جب انھوں نے یہ کام شروع کیا۔ میرے خیال میں کوئی بھی ماں اپنی اولاد پر فخر کرے گی۔ ہاں میں بھی ان پر فخر کرتی ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10721 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp