تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قصہ ہے سپریم کورٹ میں ہونے والی نئے عدالتی سال کی تقریب کا۔ سپریم کورٹ کا کمرہء عدالت نمبر ایک کھچا کھچ بھرا ہے۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ عزت ماب جناب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف کھوسہ کا خطاب شروع ہوتا ہے۔ خطاب نہیں۔ جیسے کوئی خواب ہے۔ مجھے رعشے کی بیماری قطعاً نہیں ہے، میرا سر تو چیف صاحب کے جملوں کی توثیق و تعریف میں خودبخود ہل رہا ہے۔

چیف صاحب نے میڈیا پر قدغن کو جمہوریت کے لئے برا شگون کہا۔ دل عش عش کراٹھا۔ ویسے تو یہی ڈوز کافی تھی لیکن پھر چیف صاحب نے بھری عدالت میں اعتراف کیا کہ عوام میں احتسابی عمل میں شامل اداروں کا تاثر درست نہیں۔ یہ تاثر عام ہوچکا ہے کہ شاید قوم کی لوٹی دولت واپس لانے کی آڑ میں ”پولیٹیکل انجینیئرنگ“ کی جارہی ہے۔ چیف صاحب کہتے ہیں کہ لوٹی دولت واپس لانے کا شاید اتنا فائدہ نہ ہو جتنا نقصان احتساب کے اداروں کے جانب دار ہونے کا تاثر قائم ہونے سے ہوگا۔

چیف صاحب دبے لفظوں میں یہ بھی کہہ گئے کہ موجودہ احتسابی عمل میں آمریت کی جھلک نمایاں ہے جو آئین، جمہور اور جمہوری سوچ کے لئے خطرہ ہے۔ نہ جانے کیوں مگر کھوسہ صاحب یہ بات کہنے سے بھی نہ چوکے کہ کسی شہری کے آئینی حقوق پر ”قلیل وقتی سیاسی فائدے“ کے لئے سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ چیف صاحب نام نہ لے کر یہ سوال بہرحال چھوڑ گئے کہ ”کس شخص کے آئینی حقوق پر سمجھوتہ کیا جارہا ہے؟ “ اور یہ ”قلیل وقتی سیاسی فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ “

تقریر میں شامل دیگر باتیں تو چیف صاحب کے ان جملوں میں کہیں دب ہی گئی تھیں۔ میں نیم خواب زدہ حالت میں سپریم کورٹ کے سیریمونیل ہال میں کہانی کے مرکزی کردار پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ، ہاتھ میں چائے کا کپ اور وقفے وقفے سے چسکیاں لیتے چیف جسٹس۔ آج کل سوشل میڈیا پر با اثر لوگوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے مطیع اللہ جان چیف جسٹس سے مسکراتے ہوئے مصافحہ کر کے پیچھے ہٹتے ہیں۔ پوچھنے پر مطیع اللہ کہنے لگے۔ میں نے کہا ”چیف صاحب، آج تو آپ نے اپنی تقریر میں سب کو خوش کر دیا۔ “ چیف صاحب نے جواب دیا ”آپ خوش ہیں ناں؟ “

یہ خواب زدہ حالتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔ جیسے قسط نمبر ایک سو اٹھاون میں ”ٹام“ نے ”جیری“ کو زمین پر پٹخا تھا۔ بالکل اسی طرح کسی نے جھنجوڑ کر مجھے کہا کہ آج کی تقریر کے بعد پہلا سوال تو چیف صاحب کی اپنی ذات پر اٹھتا ہے کہ وہ اس احتساب کے عمل میں شامل اہم ترین شخصیت ہیں۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

نواز شریف کو گاڈ فادر کہا گیا تو پوری قوم منتخب وزیراعظم پر چڑھ دوڑی۔ توہین عدالت کے مقدمے میں سینیٹر نہال ہاشمی سے متعدد بار معافی منگوا کر جیل بھیجا گیا تب تو کوئی کچھ نا بولا۔

میر کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جِس کے سبب
اسی عطّار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •