شمالی وزیرستان: جمعے اور سنیچر کی درمیانی سپین وام میں کیا ہوا؟

رفعت اللہ اورکزئی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکیورٹی فورسز

Getty Images
صحافیوں کے بقول بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعہ غلطی فہمی کے نتیجے میں پیش آیا کیونکہ تین دن گزر جانے کے بعد بھی اس کے اصل شواہد سامنے نہیں آ سکے ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سپین وام کے مقام پر سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے خلاف قبائل کی طرف سے شروع کیا گیا احتجاجی دھرنا قبائلی جرگے کی درخواست پر ختم کردیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی میر قلم خان وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ سپین وام کے علاقے میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے درمیان فائرنگ کے اس تبادلے میں تین افراد ہلاک ہوئے جن میں دو عام شہری جو بھائی ہیں اور ایک سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دو لوگ اس واقعے میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ادھر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سپین وام کے علاقے آبا خیل میں سکیورٹی فورسز پر بعض شرپسند عناصر کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ جوابی حملے میں دو حملہ آور مارے گئے۔‘

بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکار سپاہی اختر حسین کا تعلق گلگت بلتستان سے بتایا گیا ہے۔

میر قلم وزیر کے مطابق مقتولین کے والد کا دعویٰ ہے کہ ان کا بیٹا رات کے وقت گھر کے قریب واقع کھیت کو پانی دے رہا تھا کہ اس دوران ان پر سکیورٹی فورسز کی گشت پر موجود پارٹی کی طرف سے مبینہ طور پر فائرنگ کی گئی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے

‘میں نے وزیرستان میں کیا دیکھا’

وزیرستان: کاروبار، مشکلات اور امیدیں

یہ پی ٹی ایم کیا ہے؟

انھوں نے کہا کہ اس دوران مقتولین کے گھر سے بھی فائرنگ کی گئی اور اس طرح دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ان دو بھائیوں اور ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت ہوئی جبکہ دو مزید افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں مقتولین کے چچا اور ایک سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

میر قلم خان وزیر کے مطابق اس حوالے سے مصدقہ معلومات نہیں ہیں کہ یہ واقعہ غلط فہمی کی بنا پر ہوا یا پھر اس کی وجہ کوئی اور تھی۔ انھوں نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی اس کی اصل وجوہات سامنے آئیں گی۔

ادھر اس واقعے کے خلاف سنیچر کو سپین وام کے علاقے میں مقامی قبائل کی طرف سے صبح سے لے کر شام تک احتجاجی دھرنا دیا گیا لیکن مقامی مشران کی مسلسل کوششوں سے یہ دھرنا اب ختم کردیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جرگے نے اس معاملے پر مزید غور کے لیے 25 ستمبر کو وزیرستان کے تمام قبائل کا ایک بڑا جرگہ طلب کرلیا ہے جس میں اس واقعے کے ضمن میں فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس دوران علاقے میں شہریوں کی طرف سے کوئی احتجاج نہیں کیا جائے گا۔

میر قلم وزیر کے مطابق اس جرگے میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے گرفتار اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی رہائی کے بارے میں بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

دریں اثنا شمالی وزیرستان کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے سپین وام کے علاقے میں رات کے وقت نامعلوم افراد کی طرف سے گھروں پر پتھر پھینکنے کے واقعات تسلسل سے پیش آتے رہے ہیں جس سے مقامی آبادی خوف و ہراس کا شکار تھی۔

صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ مقتولین کے گھر پر بھی کچھ دن پہلے نامعلوم افراد کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی طرف سے سکیورٹی فورسز کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے قبائل کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ بہت جلد ان واقعات کا تدارک کرکے ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔

صحافیوں کے بقول بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ’یہ واقعہ غلطی فہمی کے نتیجے میں پیش آیا کیونکہ تین دن گزر جانے کے بعد بھی اس کے اصل شواہد سامنے نہیں آ سکے ہیں۔‘

دریں اثنا وزیرستان کے مقامی افراد کی طرف سے سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ اس واقعے کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔

اس کے علاوہ سپین وام واقعے کے بعد کی ویڈیوز اور تصاویر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ہیں جن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11103 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp