خیبرپختونخوا میں طالبات کے لیے ’چادر یا عبایہ لازمی‘ قرار دینے کا اعلامیہ واپس لینے کا فیصلہ

رفعت الله اورکزئی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طالبات

Getty Images

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے اپنے ہی صوبے کے محکمہ تعلیم کی طرف سے سرکاری سکولوں میں طالبات کے لیے چادر یا عبایہ پہننا لازمی قرار دینے کے سلسلے میں جاری کردہ اعلامیہ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات اور صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے پیر کی شام ذرائع ابلاغ کو جاری ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ’بچیوں کے لیے چادر لازمی قرار دینے کا اعلامیہ حکومت کی مشاورت سے جاری نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایک انفرادی فیصلہ ہے جسے واپس لیا جارہا ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’ہری پوری میں ضلعی ایجوکیشن افسر کی طرف سے یہ فیصلہ کیا گیا لیکن اس میں حکومت کی کوئی مرضی شامل نہیں تھی۔‘

مزید پڑھیے

طالبات کے لیے بائیک ٹو سکول منصوبہ

’80 طالبات‘ سے جنسی ہراس: ’خاموش رہو‘

جنسی زیادتی: پشاور کے سکول پرنسپل کو 105 سال قید

محکمہ تعلیم کے سپیشل سیکریٹری تعلیم ارشد خان کے مطابق ’ضلعی ایجوکیشن افسر نے اجازت لیے بغیر اعلامیہ جاری کیا جبکہ حکومت کی طرف سے ایسی کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی جس میں طالبات کے لیے چادر کو لازمی قرار دیا گیا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ کسی افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنے طور پر اس قسم کا کوئی فیصلہ کرے۔ ان کے مطابق کل صبح (منگل) نوٹفیکشن واپس لے لیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پیر کو محکمہ تعلیم کے مشیر ضیا اللہ بنگش کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈو پیغام میں کہا گیا تھا کہ والدین کی مشاورت سے صوبے بھر میں طالبات کے لیے چادر یا عبایہ پہننا لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’جو لوگ اس پابندی کی مخالفت کر رہے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے یہ ملک ایک اسلامی مملکت ہے جبکہ یہ اقدام طالبات کی حفاظت کی خاطر کیا جارہا ہے‘۔

اس سے قبل پیر کو ہی پشاور میں خاتون ضلعی ایجوکیشن افسر سمینہ غنی کے دستخط سے بھی ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق پشاور بھر میں تمام سرکاری سکولوں میں طالبات کے لیے چادر یا عبایہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس نوٹیفکیشن کے مطابق ’یہ فیصلہ بچیوں کی حفاظت کی خاطر لیا گیا ہے تاکہ انھیں ہر قسم کے غیر اخلاقی واقعات سے بچایا جائے‘۔

ادھر دوسری طرف اعلامیے کی کاپیاں جیسے ہی سوشل میڈیا پر شیئر ہوئیں اس پر لوگوں کی طرف سے گرما گرم بحث کا آغاز ہوا اور بیشتر صارفین نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

صحافی سید شاہ رضا شاہ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں بچیوں کو زبردستی پردہ کروا کر طالبانزم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔

تاہم دوسری طرف نوبیل انعام جیتنے والی پاکستانی لڑکی ملالہ یوسفزئی کے والد ضیا الدین یوسفزئی نے اعلامیہ واپس لینے کے فیصلے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘ جلد آید درست آید’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10859 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp