قائداعظم: جب آفتاب ڈھل رہا تھا…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ان دنوں کی کہانی ہے جب جنوبی ایشیا میں ایک نئی تاریخ جنم لے رہی تھی۔ جب مسلمانوں کی قیادت ایک ذہین، محنتی اور با عمل رہنما کے ہاتھ میں تھی جس کا نام محمد علی جناح تھا ’لیکن جسے اس کے چاہنے والوں نے قائدِ اعظم کا خطاب دیا تھا، وہ جس نے مسلمانوں کی عظمت کے احیاء کے لیے اقبال کے خوابوں میں رنگ بھرنا تھا، وہ جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگ گھنٹوں کھڑے رہتے تھے‘ وہ جو انگریزوں، ہندوؤں اور قوم پرست مسلمانوں سے ایک ہی وقت میں نبرد آزما تھا، جس کی غیر معمولی صلاحیتوں کے غیر بھی معترف تھے اور اسے ایک ایسے رہنما کے طور پر جانتے تھے جو آہنی اعصاب کا مالک تھا، جس نے اپنی زندگی کے آخری چودہ سالوں میں ہر روز چودہ چودہ گھنٹے کام کیا۔ وہ جس کا ایک ہی ماٹو تھا ”کام، کام اور بس کام“ اسے جب اس کی بہن فاطمہ جناح آرام کا مشورہ دیتی تو اس کا جواب ہوتا: کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کوئی فوج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہو اور اس کا جرنیل میدانِ جنگ سے منہ موڑ کر رخصت پر چلا جائے۔

ڈاکٹروں سے اسے چڑ تھی۔ ڈاکٹروں کی نصیحتوں پر عمل کا مطلب گھر تک محدود ہو جانا تھا لیکن یہ تو کارزارِ سیاست کے معرکے کا فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ اس معرکے میں اسے پوری ہمت اور جرأت کے ساتھ لڑنا تھا۔ اس معرکے میں آرام کرنے کا مطلب دشمن قوتوں کو پیشِ قدمی کا موقع فراہم کرنا ہوتا اور قائدِ اعظم یہ ہرگز نہیں چاہتے تھے ’لیکن اس دن رات کی مشقت کے اثرات قائدِ اعظم کے جسم پر مرتب ہو رہے تھے۔

جب بھی فاطمہ جناح ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتیں اور انہیں آرام کا مشورہ دیتیں تو ان کی ہی دلیل ہوتی ”ایک فرد کی زندگی زیادہ اہم ہے یا دس کروڑ لوگوں کا مستقبل“ فاطمہ جناح ہر بار اپنے وکیل بھائی سے دلائل کی جنگ ہار جاتیں۔

1937 ء کے عام انتخابات کا اعلان ہو گیا۔ اس میں مسلم لیگ نے اپنے امیدوار کھڑےکیے تھے۔ قائدِ اعظم مختلف اجتماعات سے خطاب کر رہے تھے۔ قائد کے لیے لوگوں کی محبت دیدنی تھی۔ لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر قائد کو اپنی بیماری بھول جاتی۔ ان کی آنکھوں میں چمک جاگ اٹھتی اور ان کی آواز کا آہنگ بدل جاتا۔ ان کی تقریروں میں مسلمانوں کے لیے ایک ہی پیغام تھا ”مسلم لیگ زندہ رہنے کے لیے بنی ہے ’مسلمان آگے بڑھ رہے ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت انھیں نہیں روک سکتی“۔

مختلف علاقوں میں دوروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ آئینی او ر قانونی نکات کی تیاری کے لیے بھی وقت دینا ہوتا اور پھر انگریزوں، ہندوؤں اور قوم پرست مسلمانوں کی تنقید کا توڑ بھی سوچنا ہوتا۔ قائدِ اعظم کے جسم و جاں پر سارے دباؤ اثر انداز ہو رہے تھے لیکن ایک خواب تھا، ایک جذبہ تھا، ایک آہنی قوتِ ارادی تھی جو قائد کے سفر کے لیے مہمیز کا کام کر رہی تھی۔ قائد کی پوری کوشش تھی کہ کسی طور بھی بیرونی دنیا کو ان کی بیماری کا پتا نہ چلے ’کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ان کے مخالفین کے حوصلے بلند ہوں گے اور ان کے چاہنے والوں کی ہمت پست ہو گی۔

1940 میں لیجسلیٹو اسمبلی کا اجلاس تھا‘ جس میں قائدِ اعظم نے مسلم لیگ کے رہنما کی حیثیت سے شرکت کرنا تھی۔ قائد فاطمہ جناح کے ہمراہ ٹرین میں بمبئی سے دہلی کا سفر رہے تھے کہ اچانک فاطمہ جناح کو ایک چیخ سنائی دی۔ انہوں نے دیکھا کہ قائد درد سے تڑپ رہے تھے۔ فاطمہ جناح نے بھائی کو سہارا دیا ’درد والی جگہ پر مساج کیا‘ لیکن درد میں کمی نہیں ہو رہی تھی۔ فاطمہ جناح کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس صورتحال میں کیا ہو سکتا ہے۔

خدا خدا کر کے ٹرین ایک سٹیشن پر رکی۔ فاطمہ جناح نے ایک گارڈ سے گرم پانی کی بوتل منگوائی اور اسے نیپکن میں لپیٹ کر درد والی جگہ پر رکھا ’جس سے درد میں کمی ہوئی۔ جب ٹرین دہلی پہنچی تو فاطمہ جناح کار سے سہارا دے کر قائد کو گھر میں ان کے کمرے میں لائیں۔ ڈاکٹروں کو بلایا گیا جنہوں نے انہیں دو ہفتے مکمل آرام کا مشورہ دیا۔ قائد نے دو روز تک تو اس مشورے پر عمل کیا‘ لیکن اجلاس کے دوسرے دن اسمبلی پہنچ گئے۔

فاطمہ جناح نے اِنہیں مشورہ دیا کہ آپ کی جسمانی حالت ایسی نہیں کہ آپ تقریر کریں ’لیکن قائدِ اعظم نے یہ کہہ کر ان کو مطمئن کر دیا کہ وہ بہت مختصر تقریر کریں گے۔ اس روز تقریر کے آغاز میں ان کی آواز دھیمی تھی‘ لیکن آہستہ آہستہ ان کی آواز میں جوش آتا گیا ’اور پھر انہوں نے ایک گھنٹے تک دلائل سے ثابت کیا کہ مسلمانوں کی ایک جداگانہ شناخت ہے‘ اور مسلمانوں کی آخری منزل مکمل آزادی ہے۔

تقریر کے بعد جب وہ اپنی گاڑی میں اپنے گھر جا رہے تھے تو فاطمہ جناح نے دیکھا ان کے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور انھیں اپنی انگلیوں میں سگریٹ تھامنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ چند ماہ بعد مدراس میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس تھا۔ قائدِ اعظم فاطمہ جناح کے ہمراہ بذریعہ ٹرین مدراس روانہ ہو گئے۔ قائد جسم کی تمام تر توانائی کو بروئے کار لا کر یہ سفر کر رہے تھے۔ ٹرین اپنی رفتار سے منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ قائد اپنی سیٹ سے ٹوائلٹ کی طرف جانے لگے۔

ابھی دو چار قدم ہی اٹھائے تھے کہ لکڑی کے فرش پر ڈھیر ہو گئے۔ ناتوانی نے انہیں نڈھال کر دیا تھا۔ اس عالم میں بھی ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے بہن کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنے جسم کو فرش سے اُٹھایا ’لیکن جب قائد نے اجلاس میں ہزاروں افراد سے خطاب کیا تو انہیں تقریر کرتے ہوئے دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ انہیں کوئی بیماری نہیں مگر وہ واپسی پر اپنے کمرے کے بستر پر ڈھیر ہو گئے تھے۔ پھر قائد کی رہنمائی میں مسلمانوں کی شاندار جدوجہد رنگ لائی اور پاکستان وجود میں آ گیا۔

جب قائد گورنر جنرل ہاؤس جا رہے تو سڑک پر دو طرفہ کھڑے لوگ قائد کے لیے نعرے لگا رہے تھے‘ لیکن انھیں معلوم نہیں تھا ان کا محبوب رہنما اب اپنی صحت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ عارضی طور پر کسی دور دراز مقام پر چلے جائیں۔ قائد نے ڈاکٹروں اور بہن کے اصرار پر ہتھیار ڈال دیے۔ کوئٹہ جا کر چند ہی دنوں میں ان کی حالت میں حیرت انگیز طور پر بہتری آ گئی۔ اسی دوران پاکستان سٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب تھی۔

قائد اپنی صحت کی پروا کیے بغیر کراچی چلے گئے ’لیکن جہاز کے اس سفر نے انہیں نڈھال کر دیا۔ سٹیٹ بینک میں تقریر کرتے ہوئے ان کی آواز کمزور اور نحیف تھی۔ تقریب کے بعد قائد گھر پہنچے تو اس قدر تھک چکے تھے کہ انہی کپڑوں میں جوتوں سمیٹ اپنے بستر پر دراز ہو گئے۔ کراچی میں پانچ دن گزارنے کے بعد جب قائد کوئٹہ پہنچے تو بیماری عود کر آئی۔ کھانسی اور بخار سے تو جیسے ان کے جسم کا مستقل حصہ بن گئے تھے۔ اب قائدِ اعظم، جو ساری زندگی ڈاکٹروں کے پاس جانے سے گریزاں رہتے تھے، سنجیدگی سے سوچنے لگے کہ انہیں مکمل طبی معائنہ کرانا چاہیے۔

اس سلسلے میں 21 جولائی کو کراچی کے معروف ڈاکٹرکرنل الٰہی بخش سے رابطہ کیا گیا اور انہیں فوری کوئٹہ پہنچنے کا کہا گیا۔ 23 جولائی کو ڈاکٹر الٰہی بخش ہوائی جہاز سے کوئٹہ پہنچ گئے تھے‘ جہاں سے انہیں بذریعہ کار زیارت پہنچنا تھا۔ فاطمہ جناح اب بے قراری سے ڈاکٹر الٰہی بخش کا انتظار کر رہی تھیں کہ شاید کوئی معجزہ ان کے بھائی کو صحت یاب کر دے۔ زیارت کی بلندی سے ان کی نگاہیں اس راستے کو دیکھ رہی تھیں جو اکثر سنسان رہتا تھا۔ ڈاکٹر الٰہی بخش کی گاڑی کو اسی سڑک سے آنا تھا۔ اچانک انہیں دور سے ایک گاڑی نظر آئی جو بل کھاتی نیم پختہ سڑک پر سست رفتاری سے اوپر ریزیڈنسی کی طرف آ رہی تھی۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 115 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui