فلسطین میں گھریلو تشدد: اسراء کی موت نے فلسطینی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

ٹام بیٹمین - نمائندہ مڈل ایسٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Israa Ghrayeb

BBC
اسراء غریب غرب اردن کی ایک جان پہچانی میک اپ آرٹسٹ تھیں

جب ایک نوجوان عورت کو ٹوٹی ہوئی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ الحسین ہسپتال میں لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر مضروبہ کا علاج شروع کر دیتے ہیں۔

یہاں ہر کوئی زخمی نوجوانوں کا علاج کرنے کا عادی ہو چکا ہے۔

یہ ہسپتال فلسطینی شہر بیت اللحم کے قریب واقع ہے جس کی مصروف گلیاں ہمیں ان مہاجر کیمپوں اور اسرائیلی چیک پوسٹوں لے تک جاتی ہیں جہاں اکثر پرتشدد واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

لیکن اسراء غریب کی کہانی مختلف ہے۔

اسراء غریب کی دردناک کہانی فلسطینی معاشرے میں صنفی تشدد اور احتجاج کی کہانی ہے۔

فلسطینی ویمن سنٹر فار لیگ ایڈ سے تعلق رکھپنے والی راندا سنی اورا کہتی ہیں کہ یہ بہت اہم موڑ ہے اور ہم اسراء غریب کو بھولیں گے نہیں۔

اسراء غریب کو پہلی بار دس اگست کو ہسپتال لایا گیا تھا۔ دو ہفتوں انھیں پھر اسی ہسپتال میں لایا گیا لیکن اس بار ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکے کیونکہ اسراء غریب وفات پا چکی تھیں۔

فلسطینی حکام نے اب تسلیم کیا ہے کہ اسراء غریب کے مہلک زخم گھریلو تشدد کی وجہ سے آئے۔ فلسطینی حکام نے ابتدائی طور پر جس انداز میں اس مقدمے سے نمٹنے کی کوشش کی اس پر ان کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے اٹارنی اکرم الخطیب نے جمعرات کے روز پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسراء غریب گھریلو تشدد کا شکار ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا اسراء غریب کے خاندان نے انھیں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا۔

اسراء غریب کے تین رشتہ داروں مردوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسراء غریب کا مقدمہ فلسطینی عورتوں کےعدم تحفظ کی نشاندہی کرتا ہے۔

اسراء غریب کی ایک دوست نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ بہت آزاد خیالات اور غیر روایتی شخصیت تھیں۔ وہ اپنے شعبے میں شہرت حاصل کرنا چاہتی تھیں۔

اسراء غریب ایک میک اپ آرٹسٹ تھیں اور انسٹاگرام پر ان کے ہزاروں فالوورز تھے ۔ وہ بیت اللحم کے قریبی گاؤں بیت الساحور کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھیں۔

Protests in Ramallah following Israa Ghrayeb's death (02/09/19)

Getty Images
رملہ میں مظاہرین عورتوں کے تحفظ کے لیے قوانین کو نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسراء غریب کا تعلق ایک قدامت پسند گھرانے سے تھا جہاں مردوں اور عورتوں کےملاپ کے سخت اصول ہیں۔ اسراء کی طرف سوشل میڈیا کا استعمال ان ’مشکوک حالات‘ کا ایک مرکزی نکتہ بنا جو ان کی موت پر منتج ہوا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اسراء غریب نے اپنے منگیتر کے ساتھ کافی شاپ میں بنائی گئی تصویر کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کیا۔ اب اس اکاونٹ کو ڈیلیٹ کیا جا چکا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسراء غریب کے خاندان کے لیے اپنی لڑکی کی غیر مرد کے ساتھ تصویر ان کے لیے بےعزتی کا سبب تھی حالانکہ وہ اس تعلق کے حامی تھے۔

ان کے بہنوئی محمد صافی نے کہا کہ اسراء غریب کی ذہنی صحت خراب تھی اور وہ بالکونی سے گر کر زخمی ہوئی ہیں اور ان کے جسم پر نظر انے والے زخم انھوں نے خود لگائے تھے۔

پراسیکیوٹر نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

اسراء نے اپنے زخموں کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور میک اپ کے لیے تمام اپوائٹمنٹ کو معطل کیا۔ انھوں نے لکھا’ میری کمر ٹوٹی ہوئی ہے اور آج میرا آپریشن ہے۔ اگر میرا آپریشن صحیح ہو جاتا ہے تو میں آپ کو بتاؤں گی ورنہ تمام اپائٹمنٹ ختم تصور کی جائیں۔‘

میڈیکل عملے کے معائنے اور ایکسرے ٹیسٹوں کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

بد رحوں کا سایہ

اسراء کی موت کے کچھ گھنٹوں کے بعد اسلامی روایت کے مطابق ان کو دفنا دیا گیا۔

اگر ’ڈو یو نو ہم‘ نامی فیس بک گروپ نے جو ایسے مردوں کو بے نقاب کرتا ہے جو اپنے عورتوں سے برا سلوک کرتے ہیں یا انھیں دھوکہ دیتے ہیں، اگر اس معاملے کو نہ اٹھایا ہوتا تو شاید اسراء کا معاملہ بھی دب جاتا۔

اسی فیس گروپ نے ایک ایسی آڈیو ریکاڈنگ بھی شوشل میڈیا پر شیئر کی جس میں اسراء غریب ہسپتال میں والد، بھائیوں اور بہنوئی کے ان پر مبینہ تشدد کی وجہ سے چیخ رہی ہیں۔

پراسیکیوٹر نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ دو آڈیو ریکارڈنگ کو جوڑا گیا ہے اور ان دونوں کی ریکارڈنگ کے اوقات میں سات گھنٹوں کا وقفہ ہے۔

ہسپتال انتظامیہ نے دوران علاج ہسپتال میں اسراء غریب پر تشدد کی پرزور تردید کی ہے۔

لیکن فیس بک گروپ پر دعوے پھیلتے رہے اور اسراء کی کہانی بڑھتی گئی۔

اسی فلسطینی فیس بک گروپ ’ڈو یو نو ہم‘ نے اسراء غریب کی اپنی کزنوں کے ساتھ وٹس ایپ گفتگو کو شیئیر کیا جس میں وہ کہتی ہیں کہ وہ آج اپنے خاندان کی مرضی سے ایک شخص کے ساتھ باہر گئی تھیں جو جلد ہی ان کا منگیتر بن جائےگا۔

کئی عرب ملکوں میں اسراء غریب، نو آنر ان آنر کرائم (غیرت کے جرائم میں کوئی غیرت نہیں) اور وی آر آل اسراء غریب (ہم سب اسراء غریب ہیں) کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے طلحہ حلوا کہتے ہیں کہ اس مقدمے میں سوشل میڈیا نے حکام کو محنت کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ٹوئٹر اور فیس بک پر ہزاروں پیغامات میں اسراء کے لیے انصاف کا مطالبوں کے علاوہ کئی خواتین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بھی بیان کیے۔

فلسطینی وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے ہونے والے مظاہروں میں عورتوں کو گھریلو تشدد سے بچاؤ کا مطالبہ کیا گیا۔

عورتوں کے حقوق کے کارکن راندا سنیاورا نے کہا ’مجھے فوراً لگا کہ اسراء کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے۔ میں بالکونی سے گرنے والی کہانی کو نہیں مانتی۔‘

ان کے خاندان والے کہہ رہے تھے کہ وہ آسیب زدہ تھیں۔

اسراء غریب کے بہنوئی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان پر جنوں کا سایہ تھا۔

مظاہرین نے ایک پوسٹر اٹھا رکھا تھا کہ ’آسیب تمارے سر میں ہے، عورت کے جسم میں نہیں۔‘

سوشل میڈیا پر غم و غصے اور مظاہروں کے بعد اسراء کا پوسٹ مارٹم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پیتھیالوجی رپورٹ میں سامنے آیا کہ اسراء غریب کی موت تنفسی نظام کے ناکام ہونے کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔

فلسطینی اٹارنی جنرل نے رملہ میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اسراء کی موت تشدد کیوجہ سے ہوئی اور بالکونی سے گرنے والی کہانی تحقیقات کو غلط رخ میں موڑنے کے لیے گھڑی گئی ہے۔

جب بی بی سی نے اسراء غریب کے خاندان کے ایک قریبی ممبر سے رابطہ کیا تو انھوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

دو ہسپتالوں نے، جہاں زخمی اسراء غریب کو لایا گیا تھا، کہا ہے کہ انھوں نے پولیس کو مطلع کر دیا تھا لیکن ابھی تک حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے کہ اسراء کے مقدمے میں توجہ کیوں نہیں دی گئی۔

بڑھتا ہوا تشدد

اسراء غریب کی کہانی انوکھی نہیں ہے۔

فلسطینی وویمن سنٹر فار لیگل ایڈ کے مطابق پچھلے سال غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں چوبیس عورتیں صنفی اور گھریلو تشدد کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔

انسانی حقوق کے گروپ الحق کئی برسوں سے عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات کی طرف توجہ دلا رہا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکن عورتوں کے خلاف تشدد کرنے والوں کو سزا نہ ملنے اور 1960 میں جب غرب اردن میں نافذ ہونے پینل کوڈ کو گردانے ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی نے 2011 میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کو روکنے کے لیے قانون میں ترمیم کی۔

لیکن 2017 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ جج اب بھی پرانے پینل کوڈ کے آرٹیکل 99 اور 100 کا استعمال کر رہے ہیں جس کے تشدد کرنے والا اگر خاندان کا رکن ہے تو اس کے ساتھ نرم برتاؤ کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی عورتوں کو کئی طرح کے امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ نہ صرف اسرائیلی قبضے سے متاثر ہو رہی ہیں بلکہ معاشرے میں رائج پدر شاہی کا نظام بھی ان کے لیے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔

راندا سنیاورا کہتی ہیں کہ پینل کوڈ خاندان کے ایسے افراد کو گواہی دینے کا پابند نہیں کرتا جو عورتوں پر تشدد کے عینی شاہد ہیں۔ یہ قانون ایسے عینی شاہدوں کو تحفظ دیتا ہے جس سے خاندان میں مردوں کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی حکام نے انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے، عورتوں کے خلاف تشدد اور صنفی تشدد کا قلع قمع کرنے کے کئی عالمی کنویشنز پر دستخط کر رکھے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔

اب اسراء کو انصاف دلانے کی مہم زوروں سے چل رہی ہے۔

اس مہم کے ایک ترجمان سوہیر فراق کہتے ہیں کہ تبدیلی سماجی اور قانونی ہونی چاہیے۔

’اسراء جیسی عورتوں کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کی مدد کی جائے گی اور ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں عورتیں سامنے آنے سے گھبرائیں نہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10470 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp