سارا ٹامس: بغیر رکے چار مرتبہ انگلیش چینل عبور کرنے والی پہلی خاتون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کینسر سے بچ جانے والی خاتون اب دنیا کی وہ پہلی شخص ہیں جنھوں نے برطانیہ اور فرانس کے درمیان انگلش چینل کہلانے والے سمندر کو بغیر رُکے مسلسل چار مرتبہ عبور کیا ہے۔

سارا ٹامس 37 برس کی ہیں، انھوں نے تیرنے کے اس تاریخ ساز سفر کا آغاز اتوار کی علی الصبح کیا اور 54 گھنٹے تک مسلسل تیرنے کے بعد انگلش چینل کے دو چکر مکمل کیے۔

کھلے سمندروں میں میراتھن سوئمنگ کرنے والی تیراک نے، جن کا صرف ایک برس پہلے ہی چھاتی کے کینسر کا علاج مکمل ہوا تھا، اپنی اس ریکارڈ کو ’کینسر سے بچ جانے والوں‘ کے نام کیا ہے۔

اس میراتھن سوئمنگ کا بظاہر کل فاصلہ 80 میل بنتا ہے لیکن سمندر میں طوفان کی وجہ سے ان کا یہ سفر 130 میل بن گیا تھا۔

سارا ٹامس نے تیراکی کا یہ سفر منگل کو صبح ساڑھے چھ بجے مکمل کیا۔

یہ بھی پڑھیے

73 سالہ سرجن کا انگلش چینل عبورکرنے کا ریکارڈ

دیو قامت جیلی فش سے غوطہ خوروں کی ملاقات

کیا آپ نے کبھی ایسا سمندر دیکھا ہے؟

برطانیہ کے ساحل ڈوور پر اپنی تیراکی مکمل کرنے کے بعد انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے اس کام کو کرلینے پر یقین نہیں آرہا ہے۔‘

’میں اپنے جسم کو سن محسوس کر رہی ہوں۔ ساحل پر بہت سارے لوگ تھے جنھوں نے میرے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور مجھے اچھا لگا، لیکن میں تو خود پر حیران رہ گئی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ میں اب سارا دن سونا چاہتی ہوں: ’میں اب بہت زیادہ تھک چکی ہوں۔‘

عالمی شہرت یافتہ تیراک لوئیس پیُو نے اپنی ٹویٹ میں کہا ’جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ انسان نے اپنے برداشت کی حدوں کو چھو لیا ہے عین اسی وقت کسی نے ریکارڈ توڑ دیے۔‘

https://twitter.com/LewisPugh/status/1173840275204182016


سارا ٹامس کی والدہ بیکی بیکسٹر نے بی بی سی کے ریڈیو فور کو بتایا ’میں اکثر اس کے ساتھ سفر کرتی رہی ہوں۔ یہ سفر سب سے زیادہ ڈرانے والا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میری بیٹی ’جنونی طبیعت رکھتی ہے‘ لیکن اس سفر کے دوران ’اسے اپنے پیٹ میں بہت درد کی وجہ سے کافی مسائل تھے۔

پچھلے برس سارا ٹامس کا چھاتی کے کینسر کا علاج ہوا تھا اور ان کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم کا کہنا تھا کہ وہ ’اپنے علاج کے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیراکی کیا کرتی تھیں۔‘

میراتھن سوئمنگ کے لیے کیسے متاثر ہوئیں؟

ایک تجربے کار تیراک کے طور پر سارا نے سنہ 2007 میں سمندر میں ایک ایونٹ مکمل کیا تھا۔ انھوں نے انگلش چینل میں ایک ساحل سے دوسرے ساحل تک سنہ 2012 اور پھر دوبارہ سنہ 2016 میں تیراکی کی تھی۔

لیکن یہ بھی ان کے لیے کافی نہیں تھا۔

فلمیں بنانے والے جان واشر سے انھوں نے کہا تھا ’جب میں بیس میل تیراکی کرتی تھی تو اس وقت میرے ذہن میں آیا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ کر سکتی ہوں اور پھر میں نے یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ میں اور کتنا تیر سکتی ہوں۔‘

سنہ 2017 کے اگست کے مہینے میں انھوں نے کینیڈا اور امریکہ کی سرحد پر واقع چیمپلین جھیل میں ایک سو چار عشاریہ چھ میل تیراکی کی۔ لیکن بعد میں انھیں پتہ چلا کہ انھیں کینسر ہے۔

سارا ٹامس نے سنہ 2018 میں چھاتی کے سرطان کا علاج مکمل کیا اور صحت یاب ہو گئیں اور اپنی انگلش چینل میں بغیر رکے تیراکی کے اس ریکارڈ کو انھوں نے کینسر سے بچ جانے والوں کے نام کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لمبی تیراکی کینسر سارا

BBC
سارا ٹامس نے 54 گھنٹے اور 10 منٹ تک بغیر رکے مسلسل تیراکی کی

سارا نے کتنی لمبی تیراکی کی؟

سارا ٹامس نے برطانیہ کے ساحل سے لے کر فرانس کے ساحل تک دو چکر 54 گھنٹوں میں لگائے۔

عمومی طور پر یہ فاصلہ 80 میل ہونا چاہیے تھا لیکن اونچی لہروں کی طاقت کی وجہ سے ان کے اس فاصلے میں 60 فیصد اضافہ ہو گیا یعنی انھیں کل ملا کر 130 میل تیرنا پڑا۔

اس سے قبل صرف چار تیراک ہیں جنھوں نے انگلش چینل تین مرتبہ بغیر رکے عبور کیا ہے۔

سارا ٹامس سے پہلے کسی نے بھی چار مرتبہ اسے تیر کر عبور نہیں کیا تھا۔

برطانیہ کے معروف براڈکاسٹر اور مصنف چارلی کونیلی نے سارا کی اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انسانی تاریخ کی جسمانی اور ذہنی برداشت کے بہترین کارناموں میں سے ایک ہے۔ جبکہ ایک اور مبصر کیوِن مرفی نے کہا کہ سارا نے ’برادشت کی آخری حد کو چھوا ہے۔‘

لمبی تیراکی کینسر سارا

Jon Washer
طاقتور سمندری لہروں کی وجہ سے سارا ٹامسن کو طے شدہ منصوبے سے 50 میل زیادہ تیرنا پڑا۔

مشکلات کیا تھیں؟

سارا نے کہا کہ تیراکی کے دوران طوانی لہروں کے خلاف جانا بہت مشکل کام تھا کیوں کہ یہ انھیں ان کے طے شدہ رستے سے پرے دھکیل دیتی تھیں۔ اور پھر اس دوران انھیں ایک جیلی فش نے ڈس بھی لیا تھا۔

لیکن جو بات سب سے زیادہ خراب تھی ’وہ سمندر کا نمکین پانی تھا، اس سے حلق میں، منہ میں اور زبان پر تکلیف ہوتی ہے۔‘

سارا نے مزید کہا کہ ’ہر بار کے سفر کی اپنی طرز کی ایک نئی مشکل تھی۔

’فرانس سے واپس برطانیہ کا آخری سفر سب سے زیادہ مشکل تھا۔ یہ تو نہ ختم نہ ہونے والا سفر لگتا تھا اور طاقتور لہریں مسلسل مجھے ادھر ادھر دھکیل رہی تھیں۔

’ ایک جیلی فش نے میرے چہرے پر ڈس لیا تھا۔ پانی اتنا ٹھنڈا نہیں تھا جتنا مجھے خدشہ تھا لیکن بہرحال ٹھنڈا تھا۔‘

سارا نے انگلش چینل میں تیراکی کے دوران ’چینیل سوئمنگ ایسوسی ایشن‘ کے قوعد و ضوابط کی بھی پاسداری کی، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک سوئمنگ سوٹ، ایک گوگل اور ایک کیپ پہن سکتی تھیں۔

وہ کیسے کھاتی اور پیتی رہیں اور جاگتی کیسے رہیں؟

اپنی غذا کے لیے سارا ٹامس نے پروٹین کی بحالی والا مشروب استعمال کیا جس میں الکٹرولائیٹس بھی شامل تھے اور کیفین کی وجہ سے انھیں نیند نہیں آئی۔

ان کی ماں نے کہا کہ ’یہ سب ایک رسی کے ساتھ بندھا ہوا تھا اور وہ ہر تیس منٹ کے بعد اشارہ کرتی تھی اور ہم اسے یہ پھینکتے تھے۔‘

تیراکی کے بعد سمندر سے نکل کر خشک زمین پر قدم رکھنے اور ریکارڈ بُکس میں اپنی اس کامیابی کے شامل ہونے کا جشن انھوں نے شیمپین اور چاکلیٹ کے ساتھ منایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10775 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp