نمرتا کا کمرہ اور ہاسٹل کی پراسرار تبدیلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک ڈاکٹر ہونے کے ناتے مجھے تو شاید ایسا سوچنا نہیں چاہیے کیوں کہ یہ پولیس کا کام ہے لیکن پھر بھی کیا کروں دماغ ہے سوچنا پڑتا ہے۔ رات تقریباً 9 بجے سے نمرتا کے کمرے تصاویر موصول ہوئی ہیں۔ جن کو سوچتے سوچتے ابھی تک دماغ گھوم رہا ہے کہ کیسے کسی نے بھی نوٹ نہیں کیا۔ چارپائیوں کے آخر میں پڑی ایک کرسی، ایک چلتا پنکھا، ایک قینچی اور ایک کلیریسڈ (شاید) انٹی بایوٹک کا ڈبہ۔

میں ان ہاسٹلز میں 13 سالوں سے رہتا ہوں اور ایسی چارپائی نصیب میں ہے اب تک، ان تیرہ سالوں میں میں نے کرسیوں پہ چڑھ کے بلب بھی تبدیل کیے تو کبھی کبھار پنکھے بھی ٹانگے، لیکن میں ان 13 سالوں میں اس چارپائی پہ یہ کرسی کھڑی نہیں کرپایا ہوں جس پہ اوپر چڑھ کہ میں کچھ کام کرسکوں، اکثر ٹیبل پہ کرسی کھڑی کی جاتی تھی یا کسی دوست کی مدد مانگتے تھے کہ بھائی آؤ اس کرسی کو تو پکڑو مگر حقیقت آج تک کسی نا کسی کی مدد ہی لی ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو آج بھی میں چیلینج کرتا ہوں کہ کوئی آئے اور اس کرسی کو اکیلے اس چارپائی پہ کھڑا کرے اور پھر اس پہ چڑھ کے چلتے پنکھے (یا بھلے پنکھا بند ہی ہو) میں رسی باندھے اور پھر اپنے گلے میں ڈال کے دکھائے۔ یہ میں کھلا چیلنج کرتا ہوں۔

پنکھا چل رہا ہے شاید کسی پاگل نے جلد بازی میں پنکھا چلایا ہو کہ جب تک نمرتا کی لاش اٹھائیں تب تک پنکھا تو چلے یا ہھر نمرتا نے چلتے پنکھے میں رسی باندھی۔

جس میڈیسن کا ذکر کیا جا رہا کہ ڈپریشن دوائی ہو شاید وہ میرے نزدیک ایبٹ کمپنی کی یا تو کلیرسڈ دوا ہے جو انٹی بایوٹک ہے یا ارینیک ہے جو درد کی دوا ہے، یہ کوئی ڈپریشن یا نیند کی گولیاں نہیں لگ رہی۔

قینچی کا معمہ ابھی تک سمجھ نہیں آیا اگر کوئی سمجھا دے تو شکریہ۔

اور اگر میں نے سوچ کے کوئی غلطی کی تو معافی طلب کرتا ہوں مگر یہ چند سوالات ابھی تک ذہن میں گھوم رہے ہیں کہ ابھی تک یہ چیزیں کیوں کسی کو نظر نہیں آئی۔

ہاسٹل کی تبدیلی اور نمرتا کی لاش

چند ماہ پہلے کا ہی قصہ ہے، جب 45 سال سے بنے چانڈکا کے میں لڑکوں کے ہاسٹلز کو لڑکیوں کو سونپا جارہا تھا اور لڑکیوں کے ہاسٹلز لڑکوں کو۔ تب اس تبدیلی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ لڑکیاں یہاں محفوظ نہیں اور وہ دیر تک باہر رہتی ہیں لیکن دیکھا جائے تو 45 سال میں ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کے لڑکیاں غیر محفوظ ہوں۔ سارے شاگردوں نے مل کے مخالفت کی۔

شاگردوں (میل فیمیل دونوں ) کا یہ مطالبہ تھا کے اتنی بڑی تبدیلی ہم سے پوچھ کے بھی نہیں کی جارہی کم از کم اوپنین لیا جاتا کہ لڑکے کس حال میں رہتے ہیں، روڈ سے دور ہونے کی وجہ سے لڑکے کتنا پیدل چلتے ہیں، ایک ویران جگہ پہ لڑکیوں کو کتنی سیکیورٹی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت کی چند انتظامیہ کی حامی معزز شخصیات نے کہا کہ یہ شاگرد بلاوجہ مخالفت کر رہے ہیں اصل میں انہیں اپنی جگہ عیاشیاں کرنی ہیں۔ خیر شاگردوں نے سوچا انتظامیہ کہہ رہی تو شفٹ ہوتے ہیں بھلے چاہے وہ اپنی زندگی کی بڑی غلطی کرنے جارہے ہیں۔

اس کے بعد لڑکیاں جو روڈ کے نزدیک رہتی تھی انہیں یونیورسٹی پوائنٹس پکڑنے میں آسانی ہوتی تھی اور دکان وغیرہ نزدیک ہونے کا فائدہ بھی اور ہر وقت لوگوں کے آنے جانے کی وجہ سے کسی سیکیورٹی کا خطرہ بھی نہیں، انہی لڑکیوں کو ہزار مشکلات سامنے آئی وہ جھیلتی گئی اور آخر میں چند مہینوں اندر نمرتا کی لاش مل گئی۔

نمرتا جو ایک سوشل ورکر کا درجہ رکھتی تھی ڈینٹل کالج میں اسے میں نے بھی کئی بار ان فلاحی کاموں میں مشغول دیکھا۔ وہ نمرتا جو آج صبح کلاس اٹینڈ کرنے بھی گئی، وہ نمرتا جو دوستوں کے مطابق چند گھنٹے پہلے ان سے ٹیکسٹ میسیجز بھی کر رہی تھی، وہی نمرتا اپنے کمرے میں سرد لاش کی صورت میں پائی گئی۔ کہا جا رہا ہے اس کا کمرہ انٹرلاک کے ذریعے بند ہوتا تھا جو بند پایا گیا، اس کے گلے میں ایک رسی پائی گئی لیکن لاش نیچے گری پڑی تھی۔

اس کے عزیز و اقارب اسے قتل کہہ رہے ہیں۔ کہنے کے مطابق اس کے جسم پہ چند نشان بھی ہیں، رسی اتنی چھوٹی کے شاید پنکھے کو نا پنہچے، اس کے چند دوستوں سے ابھی تک انویسٹیگیشن جاری ہے، اس کے والدین اس کی فارینسک خود کروانا چاہتے ہیں اور وہ ایک آزاد انویسثیگیشن کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔

اب نمرتا کی لاش کے ساتھ انصاف ہوتا ہے یا ہر روز کی طرح چند دن بعد اسے لوگ بھول جائیں گے یہ دیکھتے ہیں لیکن اس کے قاتل کے قدموں کے نشان کہیں تو جا رہے ہیں اور ان قدموں تک پہنچنا لازم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر شعیب مگسی کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر شعیب مگسی کی دیگر تحریریں