پی ٹی ایم رہنماؤں محسن داوڑ اور علی وزیر کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

رفعت اللہ اورکزئی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشاور ہائی کورٹ نے شمالی وزیرستان میں ’سکیورٹی چیک پوسٹ پر مظاہرین اور فوجی اہلکاروں کے درمیان تصادم‘ کے بعد گرفتار ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی طرف سے ضمانت کے لیے دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

یہ احکامات پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ کے جسٹس ناصر محمود پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے بدھ کو درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد جاری کیے۔

ملزمان کے وکیل طارق افغان ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکلین محسن داوڑ اور علی وزیر کے خلاف شمالی وزیرستان کے علاقے خر قمر میں 25 مئی کو سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کے الزام میں مقدمات درج کیے گئے تھے اور بعد میں دونوں ارکانِ قومی اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

یہ پی ٹی ایم کیا ہے؟

محسن داوڑ بھی شمالی وزیرستان سے گرفتار

علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈرز میں رکاوٹ کیا؟

طارق افغان نے مزید بتایا کہ ماتحت عدالت سے ملزمان کی ضمانت کے لیے دائر درخواستیں خارج کر دی گئی تھیں، تاہم بعد میں ملزمان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کے مطابق بدھ کو عدالت عالیہ کی طرف سے دونوں طرف کے وکلا کے دلائل سنے گئے جس کے بعد دونوں ملزمان کی رہائی کے لیے درخواستیں منظور کرلی گئیں اور اس طرح عدالت کی طرف سے ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

ان کے وکیل کے مطابق ملزمان کو ایک دو دن میں ہری پور جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ مئی میں شمالی وزیرستان کے علاقے خرقمر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کیے گئے آپریشن میں چند مقامی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد میں مقامی لوگوں نے متشعل ہو کر ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا اور اس میں محسن داوڑ اور علی وزیر بھی شامل ہوگئے تھے۔ تاہم احتجاج کے دوران خرقمر چیک پوسٹ پر تصادم ہوا جس میں دونوں طرف سے ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی ٹی ایم کے کارکنان نے ارکانِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں شمالی وزیرستان میں فوج کی خرقمر چیک پوسٹ پر ایک دن قبل گرفتار کیے گئے شدت پسندوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے حملہ کیا تھا۔ تاہم بعد میں اس الزام کے تحت دونوں کے خلاف مقدمات درج کر کے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس تصادم میں تین افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوئے جن میں پانچ فوجی بھی شامل تھے۔ تاہم بعد میں ان ہلاکتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے باوجود براہ راست اشتعال انگیزی اور فائرنگ کے صبر سے کام لیا تاہم اس دوران چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی جس میں پانچ سپاہی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب پی ٹی ایم نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فوج نے ان کے پرامن دھرنے پر حملہ کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp