جسٹن ٹروڈو: کینیڈا کے وزیراعظم نے 2001 میں پارٹی میں ’براؤن فیس‘ والی تصویر کھچوانے پر معافی مانگ لی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور میگزین ٹائم کو حاصل ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سکول کی ایک تقریب میں ’براؤن فیس‘ کوسٹیوم پہنا ہوا ہے۔

اس تصویر کے حوالے سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ انھیں اپنے اس فعل پر شدید ندامت ہے اور انھیں اس سے بہتر رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

2001 میں وینکوور کی ویسٹ پوائنٹ گرے نامی اکیڈمی میں لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جسٹن ٹروڈو نے منھ اور ہاتھوں پر جلد سیاہ کرنے والا میک اپ لگا رکھا ہے۔ اس پارٹی کا تھیم ’عریبیئن نائٹس‘ تھا۔

یہ تصویر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹروڈو دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے 21 اکتوبر کو عام انتخابات میں امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

جسٹس ٹروڈو سابق وزیراعظم پیئر ٹروڈو کے صاحبزادے ہیں اور وہ اس اکیڈمی میں استاد کے طور پر کام کرتے تھے۔

یاد رہے کہ یہ تصویر اس لیے بھی وزیراعظم کے لیے باعثِ شرم ہے کیونکہ انھوں نے اکثر پروگریسیوو یعنی آزاد خیال پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔

وزیراعظم ٹروڈو نے کیا کہا؟

ٹروڈو

Reuters

تصویر کے چھپنے کے بعد وزیراعظم ٹروڈو نے بتایا کہ ’عریبیئن نائٹس‘ گالا میں وہ معروف کردار الہ دین کے روپ میں آئے تھے۔

’میں اپنے فیصلے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔ مجھے اس سے بہتر سمجھ ہونی چاہیے تھی۔ اس وقت مجھے نہیں لگا کہ یہ نسل پرستانہ ہے مگر اب مجھے سمجھ آتی ہے کہ یہ نسل پرستانہ ہے اور میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے ایسا کسی اور وقت بھی کیا تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنے ہائی سکول کے ایک سٹیج ڈرامے میں بلیک فیس کا استعمال کیا تھا۔

اُس واقعے کی تصاویر بھی ٹوئٹر پر گردش کر رہی ہیں۔

 


بی بی سی نے اس بات کی تصدیق کر لی ہے کہ یہ تصویر اُسی وقت کی ہے جس کی طرف جسٹس ٹروڈو نے اشارہ دیا تھا۔

براؤن فیس ہے کیا؟

بلیک فیس کی طرح براؤن فیس بھی یہی ہوتا ہے کہ جب کوئی اپنی جلد کو قدرے گہرے رنگ کا پینٹ کرے تاکہ وہ ایک سانولے شخص کا روپ دھار سکے۔

گذشتہ صدیوں میں ایسا عموماً سٹیج ڈراموں میں کیا جاتا تھا جب سفید فام افراد اپنا رنگ کالا کر کے افریقی یا افریقی نضاد کردار ادا کرتے تھے اور انتہائی معتصبانہ اور نسل پرستانہ خیالات کو فروغ دیتے تھے۔

گذشتہ کئی سالوں میں متعد معروف شخصیات اور سیاستدانو کو اس سکینڈل کا سامنا رہا ہے جب انھوں نے بھی کسی نہ کسی تناظر میں ایسا کیا ہو۔

معذرت مانگتے ہوئے جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ یہ ایک اہم چیز ہے جس نے لوگوں کے جذبات کو مجروح کیا ہوگا خاص کر ان لوگوں کے جذبات کو جو کہ نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔

کنیڈین مسلمانوں کی قومی کونسل کے ڈائریکٹر مصطفیٰ فاروق کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کو براؤن فیس میں دیکھا انتہائی افسوس ناک تھا۔ بلیک فیس یا براؤن فیس کرنا قابلِ مذمت ہے اور یہ نسل پرستی کی تاریخ کا حوالا ہے جو کہ ناقابلِ قبول تھی۔‘

تاہم کونسل کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں لوگ دو دہائیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں اور انھوں نے بعد میں وزیراعظم کو فوری معذرت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp