سعودی عرب حملے: امریکہ کا سعودی عرب میں فوجیں بھیجنے کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسپر

Getty Images

امریکہ نے رواں ماہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد وہاں فوجیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے جمعے کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ان فوجوں کی تعیناتی ’دفاعی نوعیت‘ کی ہو گی۔ فوجیوں کی مجموعی تعداد کے بارے میں حتمی فیصلہ فی الحال نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل، یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے پچھلے ہفتے سعودی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ البتہ امریکہ اور سعودی عرب نے ان حملوں کی ذمہ داری ایران پر ڈالی ہے۔

مزید پڑھیں

سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات میں تباہی کے مناظر

ایران نے امریکی الزام ’دھوکے بازی‘ قرار دے دیا

سعودی عرب حملے: ہتھیاروں کے ملبے سے ثابت ہوتا ہے کہ حملوں کے پیچھے ایران ہے‘

طالبان امریکہ مذاکرات رکوانے کے پیچھے کیا سعودی عرب ہے؟

پینٹاگون کا کیا کہنا ہے؟

یہ اعلان مارک ایسپر نے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ کے ہمراہ جمعے کے روز کیا۔

اس موقع پر مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اس حوالے سے مدد کی درخواست کی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان فورسز کی مدد سے دونوں ملکوں کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور امریکہ انھیں ’دفاعی سامان فراہم کرنے میں تیزی‘ لائے گا۔

جنرل ڈنفورڈ نے فوجوں کی تعیناتی کو ’معتدل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں ہو گی۔ تاہم انھوں نے فورسز کی قسم سے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا۔

امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کے مطابق جب صحافیوں نے مارک ایسپر سے سوال کیا کہ کیا ایران پر فضائی حملے اب بھی زیرِ غور ہیں تو وزیر دفاع نے جواب دیا کہ ’ہم ابھی اس حد تک نہیں پہنچے۔‘

آرامکو

Reuters

سعودی عرب میں کیا ہوا تھا؟

ایک ہفتہ قبل، سعودی عرب میں ابقیق اور خریص کی آئل فیلڈز کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث عالمی طور پر تیل کی رسد متاثر ہوئی تھی۔

بدھ کے روز، سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے ڈرونز اور کروز میزائلوں اور کے باقیات دکھاتے ہوئے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اب بھی ان ’حملوں کے لانچ پوائنٹ کی نشاندہی‘ پر کام کر رہا ہے۔

امریکہ کا بھی اس حوالے سے مؤقف یہی ہے کہ ان حملوں میں ایران ملوث ہے۔ سینیئر حکام نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ ان کہ پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ یہ حملے جنوبی ایران سے کیے گئے تھے۔

دوسری جانب ایران نے ان حملوں میں ملوث ہونے کے الزام کی بارہا تردید کی ہے اور صدر حسن روحانی نے ان حملوں کو ’یمن کے لوگوں‘ کی جانب سے جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد زریف نے حال ہی میں ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’امریکہ کسی غلط فہمی کا شکار ہے اگر وہ یہ سوچتا ہے کہ ساڑھے چار سال کی بدترین جنگی جرائم کے باوجود یمن کے متاثرہ افراد جوابی کارروائی نہیں کریں گے۔‘

بدھ کے روز امریکی وزیرِ خارجہ مائک پومپیو نے ان حملوں کو ’جنگی عمل‘ قرار دیا۔

تاہم زریف نے ٹوئٹر پر کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن ’ہم اپنا دفاع کرنے میں ہچکچائیں گے نہیں۔‘

اس سب کا پسِ منظر کیا ہے؟

حوثی باغیوں نے اس سے قبل بھی راکٹس، میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی عرب کی آبادیوں پر حملے کیے تھے۔ ان حوثی باغیوں کے یمن میں اقتدار میں موجود سعودی عرب کی حمایتِ یافتہ مخلوط حکومت کے ساتھ اختلافات ہیں جس کے صدر کو باغیوں نے مارچ 2015 میں اس وقت بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا جب یمنی تنازع میں

خطے میں ایران سعودی عرب کا حریف ہے جبکہ امریکہ کا مخالف ہے۔ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ نے ایران کے ساتھ ماضی میں اس کے پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق کیے گئے معاہدے کو ترک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

رواں برس امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ نے رواں برس خلیج میں مئی کے مہینے میں چار اور جون اور جولائی کے مہینوں میں دو آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کی تھی۔ تہران نے دونوں مرتبہ میں ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11130 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp