محرم تو سب کا ہوتا تھا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بیان بہرحال تحقیق طلب ہے کہ فیض صاحب نے مرثیہ ڈاکٹر عالیہ امام کے کہنے پر ہی لکھا یا کوئی اور وجہ تھی، لیکن مرثیہ بہرحال لکھا گیا۔ اس مرثیے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ زیادہ تر کربلا کو حریت فکر کا استعارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ فیض صاحب کے بعض ہم عصر اسے مرثیہ ہی نہیں مانتے تھے، مثلاً یہ حصہ دیکھیے؛

اورنگ نہ افسر نہ علم چاہئے ہم کو

زر چاہئیے نے مال و درم چاہئیے ہم کو

جو چیز بھی فانی ہے وہ کم چاہئیے ہم کو

سردار کی خواہش ہے نہ شاہی کی ہوس ہے

اک حرف یقیں دولت ایماں ہمیں بس ہے

طالب ہیں اگر ہم تو فقط حق کے طلبگار

باطل کے مقابل میں صداقت کے پرستار

انصاف کے نیکی کے مروت کے طرف دار

ظالم کے مخالف ہیں تو بیکس کے مدد گار

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے آپ لعیں ہے

جو جبر کا منکر نہیں وہ منکر دیں ہے

انصاف کی بات تو یہ ہے کہ لاشعوری طور پر اس میں پارٹی کا مینی فیسٹو بھی جھلکتا نظر آتا ہے۔ لیکن وہ فیض صاحب تھے، دلدار آدمی تھے، انہوں نے مرثیہ بھی کہا، اپنی بات بھی کہی، کچھ عشق کیا کچھ کام کیا، اور کیا خوب کر گئے۔

جوش صاحب کی شہرت بھی اس حوالے سے تھی کہ وہ رسمی حدود و قیود کے باغی تھے۔ انتظار صاحب نے ملاقاتیں میں ان پر جو خاکہ لکھا اس کے آخر میں کہتے ہیں، “جوش صاحب مذہب سے بغاوت کرتے ہیں، مذہبی رسوم سے دور بھاگتے ہیں، مگر کتنی دور بھاگتے ہیں۔ ان کا خمیر تو انہیں رسوم و عقائد سے اٹھا ہے۔ عقیدے سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں مگر امام حسین راستے میں آ جاتے ہیں۔ مرثیہ انہیں کھینچ کر پھر اس دائرے میں لے آتا ہےجسے توڑ کر نکلنے کی انہوں نے کوشش کی تھی۔ آدمی مذہب سے انکار کر سکتا ہے لیکن اگر اس کی جڑیں اپنی تہذیب میں ہیں تو وہ رہے گا دائرے کے اندر ہی۔”

تو یہ لوگ بڑے لوگ ہوتے تھے، سامنے والا جو کچھ بھی کر لے اسے مذہب کے دائرے کے اندر رکھنے کی پوری کوشش کیا کرتے تھے۔ بڑے ظرف تھے، کس کس کی آنکھیں دیکھی تھیں، کس کس کے قدم لیے تھے، یہ لوگ کسی کو گھیر کر دیوار کے ساتھ محض اس بنا پر لگانے کے قائل نہیں تھے کہ یہ بندہ وہ نہیں مانتا جو ہم مانتے ہیں۔ کیسی دنیا تھی۔ اسی دنیا میں ایک جون ایلیا تھے جنہوں نے اس ساری بحث کا قصہ ہی چوپٹ کر دیا تھا۔ سنیے کیا کہتے ہیں؛

خدا نہیں ہے تو کیا حق کو چھوڑ دیں اے شیخ

غضب خدا کا ہم اپنے امام کے نہ رہیں

جون صاحب کا معاملہ بھی عجیب تھا۔ انہوں نے ہی یہ بھی کہا، میں تو خدا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو، اور اس طرح کے بے شمار دیگر مصرعے ہمیں نظر آتے ہیں۔ تو جون صاحب بھی باقاعدہ جلسے جلوسوں میں جایا کرتے اور محرم کی رسومات میں حصہ لیتے تھے۔

یہ تمام واقعات ان لوگوں کے تھے جو آج ہم میں موجود نہیں ہیں۔ جن کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ روایتی رسوم و رواج اور عقیدوں کو نہیں مانتے۔ یہ سب محرم کو اپنی ثقافت کا حصہ سمجھ کر مناتے تھے۔ ان کے دوست بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ جو نہیں ہوتے ہوں گے وہ برداشت کر لیتے ہوں گے کہ بھئی اپنی قبر میں اپنا حساب ہر ایک دے گا۔ لیکن جو ایک بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ یہ سب اپنی طبعی عمر پوری گزار کر گئے۔ دھڑلے سے جو سوچتے تھے، وہ کہتے تھے اور کرتے تھے، لیکن گردنیں سروں پر سلامت رہتی تھیں، اس لئے کہ محرم تو سب کا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain

8 thoughts on “محرم تو سب کا ہوتا تھا!

  • 06/10/2016 at 4:36 pm
    Permalink

    جو ایک بڑی بات تھی وہ یہ تھی کہ یہ سب اپنی طبعی عمر پوری گزار کر گئے۔ دھڑلے سے جو سوچتے تھے، وہ کہتے تھے اور کرتے تھے، لیکن گردنیں سروں پر سلامت رہتی تھیں، اس لئے کہ محرم تو سب کا تھا۔

  • 06/10/2016 at 9:56 pm
    Permalink

    Muharam per itni unmda i aala thrir kamal hy waaah kya logg thy

  • 06/10/2016 at 10:00 pm
    Permalink

    بہت خوب مضمون ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب پریم چند نےکربلا کے موضوع پر ڈراما لکھا اور اس میں حسینی برہمنوں کی روایات استعمال کیں تو مسلمان خاصے خفا ہوئے اور اسکی اشاعت پہلے صرف دیوناگری رسمالخط میں ہوسکی۔ ایک بات اور، مجھے اس میں شک ہے کہ فیض صاحب نے محرم کی ۹ تاریخ کو اپنے گھر پر کوئی دعوت کی ہو۔ عالیہ امام کی تحریر میرے نزدیک قابل اعتبار نہیں۔

  • 06/10/2016 at 10:55 pm
    Permalink

    بہت شکریہ سر۔ مجھے تو صرف مرثیے کے بارے میں شک تھا، جس کا اظہار بھی کیا، لیکن اب آپ نے فرمایا تو واقعی پورا معاملہ کچھ مشکوک دکھتا ہے۔
    حسینی برہمنوں کی قبولیت اب تو کافی زیادہ ہے سر، بلکہ انتظار صاحب نے بھی بہت عمدہ مضمون لکھا تھا ان کے بارے میں۔ پریم چند کے معاملے میں ایسا ہونا عین ممکن ہے، حمیت کب جاگ جائے، کیا خبر ہوتی ہے!

  • 06/10/2016 at 10:56 pm
    Permalink

    سر بہت شکریہ

  • 06/10/2016 at 10:57 pm
    Permalink

    بہت نوازش

  • 06/10/2016 at 11:20 pm
    Permalink

    آفرین آفرین… حسنین جمال صاحب… عالیست و زیباست بلکہ خوبتر است
    آپ نے بہت دلنشین انداز سے بہت سارے پیغامات اپنے قارئین تک پہنچا دئے ہیں جن بڑے لوگوں کا تزکرہ آپ نے کیا ہے وہ لوگ رخصت ہوئے وہ بزم اجڑ گئی وہ انجمن ویران ہو گئی وہ بہار نہ جانے کہاں غائب ہو گئی کہ اب چمن پہ ہر طرف خزائیں راج کرتی ہیں ہاں جانے والوں کی یادوں کی خوشبو ہے کہ ابھی باقی ہے لیکن گلشن کے طور خبر دیتے ہیں کہ بس کچھ وقت گزرتا ہے کہ یہ خوشبو بھی داغ مفارقت دیتی نظر آتی ہے
    کیونکہ اب سچائی کا دور نہیں نہ سچے لوگوں کی یہ دور قدر کرنے پہ یقین رکھتا ہے اب تو صرف مادہ پرستی کی دلدل ہے اور …. ہم ہیں دوستو

  • 08/10/2016 at 5:46 am
    Permalink

    I am a proud Faruqui. I named my son, Fida Husain. My Saidani, Hyderabadi mom, a bona fide
    Sunni used to say “Maula Khambar (Qamabar) ku bhajiye” , Maula send Qambar to help me out_ since we are Maula’s servants, we can only ask Maula’s servant to come help us. It is insolent to even ask Maula to come for help. Hai ma’ae hub-e-Ali(A.S) kuch tund wa taiz. Hur bane ju mastiyun se kaam le.
    .

Comments are closed.