ایم این اے محسن داوڑ: ’مذاکرات کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے‘

عزیزالله خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محسن داوڑ

BBC

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے ہونے کے باوجود ان کے ساتھ جیل میں دہشت گروں سے برا سلوک کیا گیا اور انھیں وہاں ہائی سکیورٹی زون میں رکھا گیا جہاں سے انھیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

پشاور میں محسن داوڑ کی رہائش گاہ پر بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے جن میں پختون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین، رکن قومی اسمبلی علی وزیر، ڈاکٹر سید عالم محسود اور دیگر رہنما پہنچ گئے تھے۔

محسن داوڑ نے بی بی سی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شروع میں انھیں سینٹرل جیل پشاور میں رکھا گیا تھا جہاں ایک روز کچھ لوگ آئے اور ان کے سامان کی تلاشی لینے لگ گئے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس چیز کی تلاشی لے رہے ہیں تو جیل کے عملے نے کہا کہ ان کے سامان میں کاغذ اور قلم تلاش کر رہے ہیں کیونکہ ان کے لیے کاغذ اور قلم رکھنے پر بھی پابندی عائد تھی۔

انھوں نے کہا کہ پشاور جیل سے انھیں ہری پور جیل منتقل کر دیا گیا جہاں انھیں ہائی سکیورٹی زون میں رکھا گیا جو بنیادی طور پر دہشت گردوں کے لیے قائم کیا گیا ہے اور یہ زون سکیورٹی اہلکاروں اور جیل عملے کے زیر انتظام رہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اس زون سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور انھیں اخبار اور ٹی وی کی اجازت نہیں دی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ملاقات محدود تھی اور صرف خاندان کے لوگوں کو ہفتے میں ایک دن ملنے کی اجازت دی جاتی تھی۔

تشدد نہیں مذاکرات

جب محسن داوڑ سے پوچھا گیا کہ کیا معاملات طے کرنے کے لیے جرگے نے بھی کوئی کردار ادا کیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب سے پی ٹی ایم کا سلسلہ شروع ہوا ہے اداروں کے ساتھ رابطوں کے لیے جرگہ جاری رہا اور انتخابات سے پہلے اسی جرگے کی وجہ سے ہی رزمک کا جلسہ ملتوی کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے مذاکرات سے کبھی بھی انکار نھیں کیا اور مذاکرات کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے دوسرا راستہ تو بندوق کا ہے جس سے انھیں نفرت ہے اور وہ آنے والی نسلوں کو عدم تشدد کی تبلیغ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے تحفظ کے سوال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ان کے حقوق کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اس ساری صورت حال کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ یہی سب کچھ اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ برس ہا برس سے ہو رہا ہے لیکن اس مرتبہ کہانی کچھ مختلف تھی۔

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ خڑ کمر کے مقام پر لوگ احتجاج کر رہے تھے تو ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان کا فرض تھا کہ وہ وہاں جاتے اور لوگوں نے ویڈیوز میں دیکھا کہ فائرنگ کس نے کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کیا ہوا ہے اور اگر ان پر ایک گولی بھی ثابت ہو جائے تو انھیں ڈی چوک پر پھانسی دی جائے کیونکہ انھیں تشدد سے نفرت ہے کیونکہ یہاں لوگوں کو تشدد نے تباہ کیا ہے اور وہ اسی تشدد کے خلاف نکلے ہیں۔

علی وزیر

BBC

مشروط ضمانت پر وکلا سے مشاورت ہو گی

محسن داوڑ اور علی وزیر کو گذشتہ رات گئے سینٹرل جیل ہری پور سے ضمانت پر رہا کیا گیا۔

پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ نے بدھ کو ان کی ضمانت کی درخواست منظور کی تھی اور اس مشروط ضمانت میں انھیں ہر ہفتے متعلقہ پولیس افسر کے دفتر میں حاضری دینا ہو گی۔

دونوں رہنماؤں کی رہائی جمعرات کو متوقع تھی جس کے لیے بڑی تعداد میں لوگ سینٹرل جیل ہری پور کے باہر موجود تھے۔ ان میں پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے علاوہ شمالی وزیرستان کے قبائلی رہنما ملک خان مرجان بھی کچھ دیر کے لیے آئے تھے۔

دونوں رہنماؤں کی رہائی جمعرات کو نہیں ہو سکی جس کی وجہ کاغذی کارروائی کا مکمل نہ ہونا بتائی گئی۔

ملک خان مرجان نے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی ایم کے لوگ ان کے بچے ہیں، حکومت اور ریاست کو ان سے بات چیت کرنا ہو گی اور ان کے خدشات دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

محسن داوڑ کی رہائش گاہ کے باہر رکن قومی اسمبلی علی وزیر بھی موجود تھے۔

انھوں نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ان کے علاقے میں جو آپریشن ہو رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں تاہم وہ پہلے بھی تشدد کے خلاف تھے اور آج بھی تشدد کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بحیثیت پارلیمینٹیرین جو حقوق انھیں حاصل تھے وہ پامال جبکہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور وہ اپنے آئینی حقوق کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے۔

محسن داوڑ نے کہا کہ وہ میڈیا سے بات کر رہے ہیں اور جہاں تک مشروط ضمانت کی بات ہے اس بارے میں وہ اپنے وکلا سے مشاورت کریں گے۔

’پختون سپیکر بھی پروڈکشن آرڈر جاری نہ کر سکا‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ ایوان میں آنے کے لیے سپیکر نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے تو انھوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے مشکور ہیں جنھوں نے ان کے لیے پارلیمان اور پارلیمان کے باہر آواز اٹھائی۔

انھوں نے مزید کہا کہ جہاں تک پروڈکشن آرڈر کی بات ہے تو اس خطے میں رہنے والے لوگوں کو اپنی حیثیت معلوم ہو گئی ہے اور جو لوگ بات کرتے ہیں تو ان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہو جاتے ہیں۔ ’افسوس اس بات پر ہے کہ ایک پختون سپیکر بھی ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کر سکا۔‘

انھوں نے پشتو کا ایک شعر سناتے ہوئے کہا (جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے) بادشاہی کے تمغے تو پختونوں کو ملیں گے لیکن سب مشروط ہوں گے کیونکہ اپنی مٹی پر جو سانحے ہوں گے ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائے گا بلکہ مظلوم کی مذمت کریں گے۔

محسن داوڑ اور علی وزیر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان کے بیانیے میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور وہ جس طرح پہلے اپنے حقوق اور عدم تشدد کی بات کر رہے تھے اب بھی اس پر قائم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11103 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp