گرل فرینڈ کو زیر آب شادی کی پیشکش کرتے ہوئے ایک شخص ڈوب گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں نوجوان جوڑے ایک دوسرے کو شادی کی پیشکش کے لیے نئے اور دلچسپ انداز اپناتے ہیں۔ اور کبھی کبھار محبت کا اظہار کرنے اور زندگی ساتھ گزارنے کی پیشکش کرتے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ ہوا ہے مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں جہاں چھٹیاں گزارنے آنے والا ایک امریکی شہری اپنی گرل فرینڈ کو زیر آب جا کر شادی کی پیشکش کرتے ہوئے ڈوب گیا ہے۔

سٹیون ویبر نامی امریکی شہری اور اس کی گرل فرینڈ کینیشا انٹونے تنزانیہ کے پیمبا جزیرے سے دور مانٹا ریسورٹ کے ایک زیر آب کیبن میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

ویبر اور ان کی گرل فرینڈ انٹونے نے اس ریسورٹ کا زیر آب کمرہ چار راتوں کے لیے کرائے پر بک کروایا تھا جو ساحل سمندر سے 250 میٹر دوری پر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

‘مغربی انداز’ میں شادی کی پیشکش پر ایرانی جوڑا گرفتار

میڈل کے ساتھ ساتھ شادی کی پیشکش

موت کے منہ سے شادی کی پیشکش

ڈرون کے ذریعے شادی کی پیشکش

امریکی ریاست لوزیانا کے علاقے بیٹن روگ سے تعلق رکھنے والے ویبر نے اپنے قیام کے تیسرے روز گرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کے لیے پانی میں غوطا لگایا تھا۔

ویبر نے تیراکی والا چشمہ اور فلپرس پہنے، ہاتھ سے لکھے شادی کی پیشکش کے خط کو زیر سمندر کیبن کی کھڑکی کے ساتھ لگایا تھا اور ان کی گرل فرینڈ کیبن کے اندر سے ان کی ویڈیو کی عکس بندی کر رہی تھی۔

اس خط میں لکھا تھا ‘ تمھیں یہ بتانے کے لیے کہ میں تم سے متعلق کس کس چیز سے پیار کرتا ہوں، میں اپنی سانس زیادہ دیر تک تھام نہیں سکتا مگر میں تمھاری پر چیز سے محبت کرتا ہوں، میں ہر گزرتے دن میں تم سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔’

ان کی ویڈیو میں بعد میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویبر نے اپنی شارٹس سے منگنی کی انگوٹھی نکالنے سے قبل شادی کی پیشکش کے لیے اس خط کو پلٹا تھا اور وہ تیرتے ہوئے منظر سے باہر نکل گیے۔

ویبر کی گرل فرینڈ انٹونے فیس بک پر ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘وہ کبھی اس گہرائی سے باہر نہیں آئے۔’

مانٹا ریسورٹ کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی دوپہر کو ویبر ‘بدقسمتی سے زیر آب کمرے کے باہر اکیلے غوطا لگاتے ہوئے ڈوب گیے تھے۔’

مانٹا ریسورٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ’نہایت افسوس سے کہا جاتا ہے کہ جمرات 19 ستمبر کو ان کے ہاں ایک مہلک حادثہ پیش آیا تھا۔’

اس ریسورٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر ماتھیوز ساس کا کہنا تھا کہ ویبر کے موت نے ‘سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔’

ریسورٹ کے مالک ماتھیوز نے بی بی سی کو بتایا کہ رسیورٹ کے عملے نے اطلاع ملنے پر پانی میں جا کر مدد کرنے کی کوشش کی لیکن جب وہ وہاں پہنچے تو اس وقت تک دیر ہوگئی تھی۔

ویبر ریسورٹ کے جس کمرے میں قیام کر رہے تھے اس کا ایک رات کا کرایہ 1700 ڈالر جبکہ یہ 32 فٹ گہرے پانی میں موجود ہے۔

اپنی فیس بک پوسٹ میں انٹونے نے کہا کہ ویبر شادی کی پیشکش پر ‘کبھی بھی ان کا جواب سننے کو نہیں ملا، جو دس لاکھ بار ہاں ہوتا۔’

انھوں نے اپنی فیس بک پوسٹ پر لکھا کہ ‘ہمیں کبھی بھی اپنی باقی ماندہ زندگی کو خوشی سے اپنانے کا موقع نہیں ملا کیونکہ ہماری زندگی کا سب سے اچھا دن قسمت کے ستم ظریفی کی وجہ سے ایک بدترین دن میں تبدیل ہوگیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔’

‘میں اس حقیقت میں راحت لینے کی کوشش کروں گی کہ گذشتہ دنوں میں ہم زندگی کے انتہائی حیرت انگیز تجربات سے لطف اندوز ہوئے، اور یہ کہ ہم دونوں ایک ساتھ اپنے آخری لمحوں میں جوش و خروش کے ساتھ بہت خوش اور مطمین تھے۔’

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ‘ہم متاثرہ خاندان نے ان کی نقصان پر دلی تعزیت کرتے ہیں۔ اور ہم انھیں قونصلر کی تمام معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11103 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp