لال قلعہ سے پاک سیکرٹریٹ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا ع اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا اکبر کو چند بیبیاں بے پردہ نظر آئی تھیں۔ اب تو حالات بہتر ہو گئے ہیں۔ خواتین کو عبایا میں ملبوس و ملفوف کرنے کا کام حکومتوں نے سنبھال لیا ہے اور حکومتوں کا کام آئی ایم ایف کو منتقل ہو گیاہے۔ ولیم ڈالر میل کی مشہور کتاب ”دی لاسٹ کنگ“ پڑھیے کیسے کیسے عبرت آموز واقعات ہیں۔ دہلی میں سرمٹکاف ’ایسٹ انڈیا کمپنی کا نمائندہ بن کر بیٹھا تھا۔

یہ لوگ صبح سات بجے دفتروں میں پہنچ جاتے تھے۔ گیارہ بجے تک کام کا ایک حصہ ختم کر کے شمالی ہند کی جاں شکن گرمی میں وقفہ لینے واپس بیرکوں میں جاتے تھے تو اس وقت لال قلعہ میں شاہی خاندان کے ”حکمران“ نیند سے بیدار ہو رہے ہوتے تھے۔ پونے دو سو سال ہو چکے۔ سسٹم اب بھی وہی ہے۔ کردار بدل گئے ہیں۔ لال قلعہ میں مقیم شاہی خاندان کی جگہ پاکستانی کابینہ کے ارکان ہیں۔ سر مٹکاف کی جانشینی کا کام آئی ایم ایف کر رہا ہے!

اخبار میں ایک تصویر چھپی ہے! دیکھ کر‘ غیرت قومی سے زمین میں گڑ جانے کو دل کرتا ہے۔ آئی ایم ایف وفد کا سربراہ بیٹھا ہے۔ کوئی ڈائریکٹر کی سطح کا اہلکار! بیان صفائی اس کے حضور ہماری وفاقی حکومت کا وزیر دے رہا ہے! جوں جوں خبر پڑھتا ہوں ’غیرت قومی سے زمین میں اور نیچے گڑتا جاتا ہوں۔ وفاقی وزیر نے آئی ایم ایف وفد کو پاور سسٹم کی بہتری کے لئے اقدامات اور لائن لاسز میں کمی کے بارے میں بتایا۔ آئی ایم ایف نے اقدامات کو سراہا۔

وفاقی وزیر نے عرض کیا کہ کُنڈے کے ذریعے بجلی چوری والے علاقوں میں اے بی سی کیبل لگائی جا رہی ہے! ”یہ ہے ہماری آزادی! یہ ہے ہمارا وقار! وفاقی وزیر قوم کو جواب دہ ہے نہ کابینہ کو! وزیر اعظم کو نہ سربراہ ریاست کو! وہ جواب دہ ہے تو آئی ایم ایف وفد کے سربراہ کو! یہ سربراہ ڈائریکٹر کی سطح سے اوپر کا نہیں! اب اس ذلت آمیز منظر کو ایک اور زاویے سے دیکھیے! پونے دو سو سال پہلے ہمارا اصل حکمران بہادر شاہ ظفر نہیں تھا۔

دہلی کے ایک گوشے میں بیٹھا سرتھامس مٹکاف تھا۔ عملی طور پر ایڈمنسٹریشن 1803 ء ہی سے انگریزوں کے ہاتھ میں آ چکی تھی۔ صبح سات بجے یہ لوگ‘ جیسا کہ اوپر بتایا گیا، اپنے دفاتر میں پہنچ جاتے۔ لال قلعہ والے دوپہر کو اٹھتے۔ آج آئی ایم ایف کے دنیا بھر کے دفاتر دیکھ لیجیے۔ ایک ایک اہلکار ایک ایک افسر ’ایک ایک کلرک‘ صبح ٹھیک وقت پر دفتر پہنچتا ہے۔ اس کے مقابلے میں آج کے بہادر شاہ ظفر دیکھ لیجیے! کتنے وزیر صبح نو بجے پہنچتے ہیں؟

کتنے وفاقی سیکرٹری؟ کتنے اہلکار؟ جن دنوں وفاقی وزارت ہاؤسنگ حضرت مولانا کے ایک پارٹی رکن کے پاس تھی ’اس کالم نگار کا ایک کام پڑ گیا۔ معلوم ہوا وزیر صاحب ہفتے میں صرف ایک دن (بدھ کو) دفتر آتے ہیں۔ خدا کی سنت نہیں بدلتی۔ نہ محنت کسی کی رائگاں جاتی ہے! حکومت ضیاء الحق کی ہو یا زرداری صاحب کی! نواز شریف کی ہو یا عمران خان کی! ہم کام چور اسی طرح رہیں گے۔ آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بنک! یا امریکی حکومت!

کام کے اوقات ان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں! دفتروں میں ملاقاتیوں کے ساتھ چائے پینے اور سموسے کھانے کا رواج نہیں! جب ہمارے دفتری کلچر کا سنتے ہیں تو حیرت سے ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں! کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہو سکتا ہے؟ کیا اندھیرا اور اجالا ایک سا ہو سکتا ہے؟ آپ پاکستانیوں کے کام کرنے کا سٹائل دیکھیے! عشرت العباد چودہ سال سندھ کے گورنر رہے۔ گورنری کے منصب سے اترے تو سیدھے دبئی پہنچے۔

2016 ء سے وہیں مقیم ہیں۔ بچوں کی شادیاں کیں تو تقاریب وہیں منعقد کیں۔ پرویز مشرف ایک عشرے تک اس ملک کی گردن پرمسلط رہے۔ تخت سے اترے تو سب سے پہلے پاکستان کو چھوڑا۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان حضرات کو پاکستان سے یا کراچی سے کتنی دلچسپی ہو سکتی ہے۔ جن کا جینا مرنا شادیاں‘ علاج ’معالجے‘ رہائش گاہیں ’محلات‘ عیاشیاں ’سب پاکستان سے باہر ہیں‘ ان کی خدمت میں کراچی کے موجودہ میئر ’کراچی سے سفرکر کے دبئی حاضر ہوتے ہیں اور سابق گورنر کو پیغام پہنچاتے ہیں کہ“ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ان کی ضرورت ہے ”!

پھر یہ میئر بہادر پرویز مشرف کے حضور حاضر ہوتے ہیں اور صورت حال سے“ آگاہ ”کرتے ہیں! میئر صاحب لگے ہاتھوں عشرت العباد اور پرویز مشرف سے یہ بھی پوچھ لیتے کہ دبئی جیسے گراں شہر میں ان کی آمدنی کے ذرائع کیا ہیں؟ محلات کیسے خریدے؟ اپارٹمنٹ کیسے آئے؟ پاکستان کیوں نہیں آتے؟ پرویز مشرف کے بھاگنے کی ایک وجہ عدالتی مقدمے بھی ہیں‘ مگر عشرت العباد کو اپنے ملک میں رہنے سے کیوں گریز ہے؟ چودہ برس گورنری کرنے کے بعد کون سا مدفون خزانہ ہاتھ آ گیا کہ دبئی میں شاہانہ زندگی افورڈ کی جا رہی ہے؟

سوشل میڈیا پر دھوم مچی ہے کہ ہمارے سابق سپہ سالاران کرام دساور مقیم ہیں۔ فلاں سعودی عرب میں ملازمت کر رہا ہے۔ فلاں امریکہ میں رہتا ہے فلاں آسٹریلیا میں بودوباش رکھے ہے! اگر ایسا نہیں تو یہ حضرات وضاحت کیوں نہیں کرتے؟ ٹیکس محاذ پر کیا ہو رہا ہے؟ معاملات حوصلہ شکن اور رُوح فرسا ہیں۔ ایف بی آر کے ساتھ تاجروں کے مذاکرات ناکام ہو چکے۔ شناختی کارڈ کی پابندی اور دیگر قوانین ہماری تاجر برادری کو پسند نہیں!

اب وہ“ اسلام آباد مارچ ”کا اعلان کر رہے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان کی تاجر برادری سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں ہو سکتا! وطن کی محبت میں یہ لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے۔ وطن کی محبت میں کسی قسم کی پابندی کے تحت زندگی نہیں گزارنا چاہتے۔ یہ مکمل مادر پدر آزاد تاجرانہ معاشرہ چاہتے ہیں۔ دکانیں یہ حضرات دن کے ایک بجے کھولتے ہیں۔ رات کا زیادہ حصہ برقی روشنی پر گزارتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اس ملک پر فوج کی حکومت ہے۔

کچھ بیورو کریسی کو یہ اعزاز دیتے ہیں۔ کچھ سیاست دانوں کو اصل حکمران سمجھتے ہیں۔ مگر یہ سب لوگ بھول جاتے ہیں کہ فوج ہو یا بیورو کریسی یا اہل سیاست ’سب کسی نہ کسی قانون کی پابندی کرتے ہیں۔ واحد طبقہ اس ملک میں‘ جو ہر قسم کے قوانین ’رولز‘ ضوابط ’سے آزاد ہے اور مکمل آزاد ہے‘ تاجر ہیں! یہ رسید دینے کے پابند نہیں۔ ٹیکس ادا کرنے کے پابند نہیں۔ کریڈٹ کارڈ پر اشیا فروخت کرنے کے پابند نہیں! اوقات کار بدلنے کے پابند نہیں!

شناختی کارڈ کی شرط انہیں نامنظور ہے! معیشت کو دستاویزی بنانا ان کے مزاج پر گراں گزرتا ہے۔ ٹیکس کے نام پر جو پیسہ گاہکوں سے وصول کر چکے ہیں ’وہ حکومت کو دینا پسند نہیں کرتے۔ فٹ پاتھ اور شاہراہوں پر ان کا قبضہ ہے۔ جعلی دواؤں‘ جعلی خوراک ’جعلی انجن آئل‘ ہر جعلی شے کی فیکٹریاں یہ تاجر چلا رہے ہیں! ان سے بڑا محب وطن کوئی نہیں! عمرے کرتے ہیں۔ دیگیں بانٹتے ہیں۔ مُلّا ان کے قبضے میں ہے۔ چندہ دیتے ہیں۔ جنت ان کی پکی ہے۔ اس لئے کہ یہی مادر پدر آزاد زندگی ان کی جنت ہے! ؎ ان ظالموں پر قہر الٰہی کی شکل میں نمرود سا بھی خانہ خراب آئے تو ہے کم
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •