مصر میں مظاہرے، تحریر سکوائر پھر آباد ہو رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کے خلاف مسلسل دوسری رات کو بھی ملک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سکیورٹی فورسز نے اب تک کئی درجن مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔

مصر کے شہر سوئز میں تقریباً 200 کے قریب مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ مظاہرین مصر کے صدر کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی درجن مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز آنسو گیس کا استعمال بھی کررہی ہیں۔

صدر سیسی کی حکومت کی ’بدعنوانی` کے خلاف جمعے کو شہریوں کی بڑی تعداد قاہرہ کے مشہور تحریر سکوائر پر بھی جمع ہو گئی۔ صدر سیسی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’صدر سیسی 2030 تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں‘

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو رہا کر دیا گیا

مصر: صحافیوں کی یونین کے سربراہ کو دو سال قید

مصری مظاہرے کیوں کررہے ہیں؟

سنہ 2014 میں مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کو ختم کر کے ملک کے فوجی سربراہ عبدالفتح سیسی اقتدار میں آئے تو اس وقت سے ان کے خلاف مظاہرے ہونا بہت غیرمعمولی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب مصر کے مشہور اداکار اور کاروباری شخصیت محمد علی نے سوشل میڈیا پر صدر سیسی اور ان کی حکومت کے خلاف متعدد ویڈیوز شئیر کیں۔

آن لائن شیئر کی گئیں ان ویڈیوز میں کہا گیا کہ جہاں ملک میں غربت سے عام آدمی کا جینا محال ہوچکا ہے تو وہاں مصری حکمران عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ملین ڈالرز کے بڑے بڑے بنگلے خرید رہے ہیں اور قومی خزانے سے رقم کو اپنی عیاشیوں پر لٹا رہے ہیں۔

مصر میں حالیہ برسوں میں معاشی بچت سے متعلق مہم بھی شروع کی گئی تھی۔

Small groups of protesters gather shouting anti-government slogans in central Cairo

Reuters

جہاں ملک میں مختلف حصوں میں احتجاج کا یہ سلسلہ جاری ہے وہیں جمعے کو مظاہرین کی بڑی تعداد 2011 سے مظاہروں کے لیے مشہور قاہرہ کے تحریر سکوائر میں جمع ہوئے اور انھوں نے صدر سیسی کے خلاف نعرے لگائے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اب تک 74 مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم اس سے متعلق ابھی تک سرکاری سطح پر کچھ نھیں بتایا گیا ہے۔

سنیچر کے روز کیا ہوا تھا؟

سنیچر کو مصر کے شہر سوئز میں تقریباً 200 کے قریب مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے جہاں جمعے کو بھی احتجاج ہوا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران آنسو گیس کے شیل فائر کرنے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم بھی ہوا۔

https://twitter.com/Cairo67Unedited/status/1175516958357434368

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہریں صدر سیسی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور فوجی صدر کو خدا کا دشمن قرار دے رہے ہیں۔

سنیچر کو محمد علی نے مصر میں مظاہروں کی اپیل کرتے ہوئے مصری شہریوں سے کہا کہ وہ ملین مارچ میں شریک ہوں اور ملک کے تمام بڑے سکوائرز پر احتجاج کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11110 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp