خیر کا ایک حیرت کدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بار لاہور جانا ہوا تو ایک حیرت کدہ میرا منتظر تھا۔ مجھے خیال ہوا کہ آپ کو بھی اس مشاہدے میں شریک کیا جائے۔یہ سولہ سترہ برس پہلے کی بات ہے۔ میرے دوست انیس مفتی مجھے ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں لے گئے۔ یہاں ایک آسودہ حال اور نیک دل خاتون رہتی تھیں۔ انہوں نے خود کو ایک کام کے لیے وقف کر لیا تھا۔ ماڈل ٹاؤن کے گھروں میں، مضافات کے غریب علاقوں کی بہت سی خواتین کام کرنے آتی ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے بچے بھی ہوتے ہیں، جن کے پاس آوارگی کے سوا کوئی مصروفیت نہیں ہوتی۔ دن بھر گلیوں میں بے مقصد پھرنا اور اس وقت کا انتظار کرنا جب مائیں کام سے فارغ ہوں اور وہ ان کے ساتھ واپس گھر جائیں۔

اس خاتون نے ان ماؤں سے رابطہ کیا اور ان سے یہ کہا کہ وہ اپنے بچوں کو ان کے پاس چھوڑ جایا کریں۔ وہ انہیں پڑھائیں گی۔ ان کی تعلیمی ضروریات اور دوپہر کے کھانے کا بھی اہتمام کریں گی۔ جب وہ گھروں کو لوٹیں تو انہیں یہاں سے لیتی جائیں۔ انیس مفتی جیسے درد مند لوگوں نے اس کارِ خیر کے لیے دستِ تعاون بڑھا دیا۔ اس طرح ان کے گھر کے گیراج سے ”آبرو ایجوکیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن‘‘ کا آغاز ہوا۔

اس مشاہدے نے مجھے متاثر کیا۔ میں نے اس کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ پھر یہ بات طاقِ نسیاں ہو گئی۔ گاہے گاہے انیس صاحب اس کے بارے میں بتاتے رہے مگر یہ منصوبہ کبھی میری یادداشت میں مستقل جگہ نہ پا سکا۔ انیس بھائی نے کئی بار کوشش کی کہ میں اس کام میں ہونے والی پیش رفت کا مشاہدہ کروں مگر میں خواہش کے باوجود وقت نہ نکال سکا۔ اس بار انیس صاحب کامیاب ہو گئے۔ وہ مجھے فیروز پور روڈ لے گئے۔ چالیس منٹ کی مسافت کے بعد، منزل پر پہنچے تو ایک حیرت کدہ میرا منتظر تھا۔ یہ مذکورہ بالا تنظیم کا مرکزی دفتر تھا۔

میرے سامنے کئی کنال پر مشتمل ایک سہ منزلہ عمارت کھڑی تھی۔ عمارت میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ اس کا ایک حصہ انتظامی دفاتر کے لیے مختص ہے۔ اس کے ساتھ ایک لائبریری ہے۔ عمارت کے ایک حصے میں طلبا اور دوسرے میں طالبات کے لیے ہائی سکول ہیں۔ یہاں وہ بچے پڑھتے ہیں جن کے والدین نہیں ہیں یا اگر ہیں تو یہ کم آمدنی والے لوگ ہیں۔ بہت سے بچوں کے والدین صفائی کا کام کرتے ہیں یا دہاڑی دار مزدور۔ مائیں گھروں میں کام کرتی ہیں۔ بچوں میں مسلمان ہیں اور غیر مسلم بھی۔ ان سب کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک طرف کھانے کا اہتمام بھی ہے۔ یہاں تمام بچوں کو دوپہر کا کھانا ملتا ہے۔ ساتھ ہی ایک ڈسپنسری ہے۔ دوسری طرف قدم بڑھایا تو سلائی کا ایک مرکز قائم تھا‘ جہاں بچیوں کو یہ ہنر سکھانے کا بندوبست تھا۔ عمارت کے ایک حصے میں عملی مہارتیں سکھانے کے لیے ایک مرکز قائم کیا جا رہا ہے‘ جس کے لیے تعمیر کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔

میں نے اس عمارت کے ایک اور سمت نظر دوڑائی تو کئی بھینسیں بندھی ہوئی تھیں۔ معلوم ہوا کہ یہ اہتمام ان بچوں کے لیے ہے جو غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی دودھ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ بندوبست کیا گیا ہے۔ کم آمدنی والے گھروں میں یہ ممکن نہیں کہ بچوں کو دو اڑھائی سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد دودھ مل سکے۔ پاکستان میں تو اکثر گھرانوں کے لیے دودھ عیاشی ہے، جس کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے۔

عمارت میں گھومتے ہوئے، مجھ پر حیرت کے باب کھل رہے تھے۔ میں اسی حیرت میں کھویا ہوا تھا کہ خود کو ایک ہال میں پایا‘ جہاں بہت سے بچے میرے انتظار میں تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ ان سے گفتگو کرنی ہے اور ان کے سوالات کا سامنا بھی۔ بچوں کے سوالات سے ان کی ذہانت کا اظہار ہو رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہاں طلبا و طالبات کو سوال کرنے کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ سوال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ باہر سے آنے والے مہمانوں کو طالب علموں کے سامنے بٹھا دیا جاتا ہے اور ان کو ہر طرح کا سوال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

میں ایسے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں سے بھی ملا‘ جنہوں نے یہاں سے تعلیم مکمل کی اور اب یہیں ملازمت کر رہے ہیں۔ گویا نیکی کا ایک دائرہ مکمل ہو رہا ہے۔ خیر سے خیر جنم لے رہا ہے اور اپنے اصل کی طرف لوٹ رہا ہے۔ یہاں طالب علموں کے فنونِ لطیفہ کے ساتھ شغف کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ہم اپنے عمومی تعلیمی اداروں میں جو ماحول چاہتے ہیں مجھے مختصر وقت میں اس کی جھلکیاں یہاں دکھائی دے رہی تھیں۔

عمارت کے ایک حصے میں طلبا و طالبات کے لیے ہوسٹل بھی تعمیر ہو رہا ہے۔ ایسے بچے جو گھر کی سہولت سے محروم ہیں، انہیں جلد ہی ایک ٹھکانہ میسر آ جائے گا اور وہ یکسوئی کے ساتھ تعلیم حاصل کر پائیں گے۔ یہ خاص طور پر ان بچوں کے لیے ہے جو والدین کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ وسائل کی کمی آڑے نہ آئی تو چند ماہ میں یہ گھر بھی مکینوں سے آباد ہو جائے گا۔

عمارت کے ایک عام سے کمرے میں وہ خاتون بیٹھی تھیں، سترہ برس پہلے جنہوں نے گھر کے گیراج سے اس کارِ خیر کا آغاز کیا تھا۔ ان کے میاں نے ایک طویل عرصہ اپنے کاروبار کو توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔ اب اسے چھوڑ کر اس ادارے کے ہو گئے ہیں۔ وہ اس کے انتظامی امور کو دیکھ رہے تھے۔ مسکراتے ہوئے، انہوں نے مجھے بتایا کہ میں اب اپنی بیوی کا ایک معاون ہوں۔ ایک گھر کی چاردیواری میں جنم لینے والی محبت معاشرے میں تقسیم ہو رہی تھی۔ اب یہ سب بچے ان کے اپنے بچے ہیں جن کی دیکھ بھال کو وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

مجھے بتایا گیا کہ ادارے کے زیرِ اہتمام اس وقت چھ تعلیمی ادارے چل رہے ہیں۔ ان میں ساڑھے چار ہزار سے زیادہ طلبا و طالبات پڑھ رہے ہیں۔ رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ، انہیں قرآن مجید اور اخلاقیات کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ لطیف جذبات کی نشوونما کے لیے فنونِ لطیفہ کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ گویا ان کی شخصیت کی تعمیر کے لیے ہر پہلو کو سامنے رکھا گیا ہے۔ میں ایک کمرۂ جماعت میں گیا تو میرے محترم دوست ڈاکٹر منیر احمد کی اہلیہ طالب علموں کے انگریزی لب و لہجے کی اصلاح کر رہی تھیں۔ وہ ہفتے میں دو دن آتی ہیں اور رضا کارانہ طور پر بچوں کے انگریزی تلفظ اور لہجے کو درست کر نے کیلئے خصوصی کلاس لیتی ہیں۔

ایک بیج سترہ برس میں جس طرح ایک تناور درخت بنا، مجھے اس نے حیرت میں مبتلا کر دیا۔ ایک پرعزم خاتون نے اس کام کا آغاز کیا۔ معاشرے نے اس خلوص کی قدر کی اور یوں چراغ سے چراغ جلنے لگا۔ اب بہت سے لوگ ہیں جو ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ کسی نے ڈسپنسری کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے۔ کوئی تعمیرات کو دیکھ رہا ہے۔ خلوص کے اس شجر سایہ دار پر مزید برگ و بار آ رہے ہیں اور اس کی چھاؤں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ معاشرے میں بکھرا ہوا وہ خیر ہے جو ہمیں مایوس نہیں ہونے دیتا۔ میں اسی لیے اصرار کرتا ہوں کہ ریاست نہیں، سماج کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا جائے۔ اس کے ساتھ ہمیں مطالبے کی نفسیات سے نکل کر خود بروئے کار آنا چاہیے۔ ریاست معاشرے ہی کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ اگر معاشرہ زندہ ہو گا تو ہماری ریاست بھی درست سمت میں آگے بڑھنے لگے گی۔ ہمارے سامنے کئی افراد اور جماعتیں موجود ہیں‘ جنہوں نے سماج کو توجہ کا مرکز بنایا تو ہمیں اعلیٰ سماجی ادارے ملے۔ انہی لوگوں نے سیاست کا رخ کیا تو سب کچھ گنوا دیا۔ ایسے اداروں کو زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ آپ مزید تفصیلات جاننا چاہیں تو ویب سائٹ سے مل سکتی ہیں۔ ہمارے سامنے ہمیشہ دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ بینر اٹھا کر سرِ راہ کھڑے ہو جائیں اور مطالبہ کریں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ اپنا جائزہ لیں اور اپنی صلاحیت کے مطابق خود مسئلہ حل کریں۔ دوسرا راستہ ہی بہتر اور نتیجہ خیز ہے۔

بشریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •