1857 میں مارے جانے والے بریگیڈیئر جنرل جان نکلسن کی یادگار دہلی میں ایک ثقافتی ورثہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 1857 کی جنگ کو غدر کا نام دیا جائے یا جنگِ آزادی کا اس سے ایسے متعدد ہندوستانی اور برطانوی لوگوں کی یادیں وابستہ ہیں جنھوں نے اس میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انھی میں ایک نام بریگیڈیئر جنرل جان نکلسن کا نام بھی تھا، جنھیں بھری جوانی میں تکلیف دہ موت ملی تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے چاہنے والوں میں جان نکولسن کی حیثیت ایک ہیرو کی تھی۔

آج یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس آئرش فوجی افسر کی یادگار دہلی میں ایک ثقافتی ورثہ ہے لیکن گذشتہ 162 سالوں میں دلی میں نکلسن کی یادگار کی یہی حیثیت ہے۔

23 ستمبر کو بریگیڈیئر جنرل جان نکلسن کی برسی کے موقع پر آج بھی سیاح اور ان کے خاندان کے لوگ اسی مقام پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے آتے ہیں۔

ہندوستانی فوجیوں کے درمیان مقبول

نکلسن نے سنہ 1857 میں دہلی کو باغیوں کے قبضے سے آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ نکلسن کو اس مہم میں اپنی جان گنوانی پڑی لیکن انھوں نے ایک ہیرو کا درجہ حاصل کر لیا تھا۔

وہ صرف اپنے ملک کے ہی نہیں بلکہ ‘ملتانی ہارس’ (برطانوی آرمی کی ایک یونٹ) میں شامل ہندوستانی فوجیوں میں بھی بہت مقبول تھے۔

یہ بھی پڑھیے

انگریزوں نے ہندوستان کو کل کتنا مالی نقصان پہنچایا؟

کیا انڈیا 1200 سال تک غلام رہا؟

ہندو دشمن یا آزادی کا ہیرو؟

انڈیا کی آزادی کے لیے لڑنے والی فریدہ بیدی کون تھیں؟

ان کی بےرحمی کے ساتھ ان کی فوجی قیادت کی مہارتوں کے بھی کئی قصے مشہور ہیں۔

ان کے متعلق دستیاب ادب میں ماضی قریب میں ہی ایک اضافہ ہوا ہے جس ان کے حالاتِ زندگی پر خاطر خواہ روشنی پڑتی ہے۔

تاریخ کی نشانیاں

سٹیورٹ فلینڈرس نے اپنی کتاب ‘کلٹ آف اے ڈارک ہيرو: نکلسن آف دہلی’ کے لیے اس راستے کی تلاش کی جسے نکلسن نے دہلی پر حملہ کرنے کے لیے دریافت کیا تھا۔

اس کتاب سے یہ پتہ چلا کہ اگرچہ دلی کا نقشہ اب بہت بدل چکا ہے، لیکن اب بھی کچھ اہم تاریخی نشان بھی موجود ہیں۔

سٹیورٹ نے رنگ روڈ کی جانب سے پرانی دلی کا چکر لگایا اب معدوم قدیمی شہر کی دیوار سے ہوتے ہوئے کشمیری گیٹ پہنچے جس کا گنبد اب بھی موجود ہے جبکہ جلائی گئی فصیل اور لاہوری گیٹ کا اب وجود نہیں ہے۔

انھیں سنگ مرمر کی وہ تختی بھی نہیں ملی جو نکولسن کے گولی لگنے کے مقام پر لگائی گئی تھی۔

تاہم سینیر صحافی آر وی سمتھ تقریباً دس سال قبل برطانوی شہریوں کے ایک گروہ کے ہمراہ ‘غدر’ سے منسلک مقامات کا دورہ کرتے ہوئے آخر میں کھاڑی باؤلی پہنچے تھے۔ کافی تلاش و جستجو کے بعد وہ ایک تنگ گلی میں پہنچے جہاں کچھ لوگ برف اور دیگر سامان فروخت کر رہے تھے۔

ان کے مطابق پہلے تو وہ سمجھ ہی نہیں سکے کہ آخر یہ برطانوی کیا چاہتے ہیں لیکن تمام طرح کی وضاحت کے بعد انھوں نے اپنے پیچھے کی دیوار سے ایک ٹاٹ کا ٹکڑا ہٹایا جہاں یادگاری تختی نظر آئی۔

ماضی کی کہانیاں

سٹیورٹ فلینڈرس کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ برطانوی دور کی تختی نہیں تھی بلکہ آزادی کے بعد لگائی گئي ایک نقل تھی۔

اس میں نکلسن کی زیادہ مدح سرائی تو نہیں تھی البتہ اس نشانہ باز کی تعریف کی گئی تھی جس نے ایک دو منزلہ مکان کی کھڑکی سے نکلسن کو اس وقت گولی ماری تھی جب وہ لاہوری گیٹ پر حملے کے دوران اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے ہوا میں تلوار لہرا رہا تھا۔

نکلسن کے نام پر بنائے گئے پارک کے اب کچھ باقیات ہی بچے ہیں لیکن جس قبرستان میں انھیں دفن کیا گیا تھا اس کے آس پاس بعض راتوں کو نکلسن کے سر سے جدا تن کے گھومنے کی کہانیاں سنی جاتی ہیں۔

ان کہانیوں سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ نکلسن کا سر قلم نہیں کیا گیا تھا، انھیں گولی ماری گئی تھی۔

اس سے متعلق ایک اور کہانی ایک سفید فام خاتون کی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کبھی کبھی آدھی رات کے بعد کشمیری دروازے پر نظر آتی ہے، جہاں کی تختی ابھی محفوظ ہے۔

‘بغاوت’ کے وقت

اس تختی میں اس دروازے پر حملہ آور برطانوی سپاہیوں اور مرنے والوں کے بارے میں معلومات ہیں۔

سنہ 1952 میں آئرلینڈ بھیجے جانے سے قبل نکلسن کا مجسمہ اسی تختی کے سامنے نصب تھا۔

سفید فام خاتون سگریٹ پیتی نظر آتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ‘بغاوت’ کے وقت نہیں تھیں۔

وہ ممکنہ طور پر بعد کے کسی وقت کی ہے جو کشمیری گیٹ پر کسی مایوس عاشق یا کسی چور کے ہاتھوں ماری گئی تھیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نکلسن اس کہانی میں فِٹ نہیں بیٹھتے کیونکہ وہ خواتین کے پسندیدہ شخص نہیں تھے۔

نکولسن کی زندگی میں رومانس کتنا رہا ہوگا، اس کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں لیکن اس کے باوجود اسی طرح کی کہانیاں بنی جاتی رہی ہیں۔

اس طرح اپنے ہی ملک کی ایک خاتون کے ساتھ ان کے رومانس کہانی چل نکلی۔

غدر

Getty Images

کشمیری گیٹ سے بیلفاسٹ

بہرحال سٹورٹ فلینڈرس نے اپنی کتاب میں اس کا کوئی بھی ذکر نہیں کیا اور یہ بہت درست بھی ہے۔

جان نکلسن کی اس سوانح میں ان دلی والوں کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں جو کبھی کبھی ان کی قبر پر جاتے ہیں۔

نکولسن اپنے لوگوں کے ‘ڈارک ہیرو’ تھے جبکہ ملتانی ہارس رجمنٹ انھیں ‘نکل سین’ کہتے تھے۔

یہ لوگ ان کی تدفین کے وقت پھوٹ کر رو پڑے تھے اور ان کی قبر کی گھاس ہاتھوں میں لے کر انھوں نے لڑائی میں مزید شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

نکولسن کا مجسمہ

ان فوجیوں نے ملتان سے بھی آگے اپنے وطن واپس جانے کے بجائے 34 سال کی عمر میں جان قربان کرنے والے اپنے کمانڈر کا غم منانے کا فیصلہ کیا۔

ملتان اب پاکستان میں ہے جہاں نکلسن کا ایک مجسمہ لگائے جانے کا انتظار ہے۔

ساتھی سپاہیوں کی اس محبت نے نادانستہ طور پر ہی سہی ایک پراسرار فرقے ‘نکل سین’ کو جنم دیا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر 35 سال کی عمر میں ہلاک ہونے والے بریگیڈیئر جان نکلسن کی زندگی طویل ہوتی تو کیا انھیں یہی شہرت حاصل ہوتی اور کیا ان کے بے رحم اطوار سے ان کی مقبولیت کو گرہن نہیں لگ جاتا؟

نکلسن کی کتاب سے۔۔۔

فلینڈرز کا کہنا ہے کہ مغلوں کا آباد کردہ دلی شہر تقریباً ڈیڑھ صدی کے بعد اب بہت بدل چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ‘برطانوی حکومت کے وقت کے شاہجہان شہر اور ان کی آباد کردہ نئی دہلی میں واضح فرق نظر آتا ہے۔’

‘انگریزوں کے سنہ 1947 میں انڈیا چھوڑنے کے بعد دونوں ہی شہروں کی بے ترتیب ترقی کی وجہ سے دونوں ہی بونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ دریا (جمنا) نے بھی اپنا راستہ بدل لیا ہے۔ لال قلعہ کے ساتھ جہاں کبھی جمنا بہتا تھا وہاں اب ایک مصروف شاہراہ ہے۔’

وہ لکھتے ہیں: ‘دہلی کے بیرونی علاقے نے، جہاں نکلسن نے حملے کے لیے بہت صبر کے ساتھ انتظار کیا تھا، شہری پن کی اسی طرح مخالفت کی ہے جس طرح وہ سنہ 1857 کے موسم گرما میں طویل تنازعے کے دوران برطانوی فوجیوں کی مخالف تھا۔

فلینڈرز لکھتے ہیں کہ ‘جیسے ہی میں نے اس علاقے میں اپنا سفر شروع کیا تو بندروں کے حملے کا واحد خطرہ سامنے آیا جو راستے کی جھاڑیوں میں چھپے تھے۔ وہاں سے ایک ٹیکسی میں سوار ہو کر تھوڑی دور واقع علی پور روڈ کے اس راستے پر گیا جس پر 14 ستمبر کو نکولسن نے اپنے فوجیوں کے ساتھ سفر کیا تھا۔’

‘قدسیہ باغ کا حصہ، جہاں ہلہ بولنے والی ٹکڑیوں کے کالم بنائے گئے تھے، آج بھی موجود ہے۔ لیفٹینینٹ رچرڈ بارٹر نے شہر کی دیوار سے دور ہوتے وقت گلاب کی خوشبو کے ساتھ بندوقیں سے نکلی سلفر کی بو محسوس کی تھی۔

‘یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ 160 سال بعد آج بھی وہاں گلاب کے پودے ہیں، شاید اسی مقام پر انتہائی پرجوش جوانوں نے حملے سے پہلے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

‘اس باغ کے سامنے شہر کی دیوار اور کشمیری فصیل کی باقیات، جن پر نکولسن اور اس کے جوان چڑھے تھے، اب بھی ہیں۔ اس کے بعد میں نے کشمیری گیٹ آیا۔ دشمن کو دیوار کے کنارے سے بھگانے کے لیے واپس لوٹنے سے پہلے نکلسن نے بھی اسی جگہ سے شہر کی طرف کوچ کیا تھا۔ نقل و حمل کے بڑھتے دباؤ کے باوجود کشمیری گیٹ کو اب بھی محفوظ رکھا گیا ہے اور حال ہی اس کی تزئین کی گئی ہے۔

‘اس کے آگے کی دیوار غائب ہے لیکن لوٹین روڈ کے ساتھ کچھ فاصلہ طے کرنا اس بات کا اشارہ تھا کہ میں ابھی بھی نکلسن کے نقش قدم پر ہی ہوں۔ دائیں طرف نکلسن روڈ تھی جس پر دکان اور مکان بن گئے تھے جبکہ دوسری طرف دیوار کا دوسرا سرا تھا۔

‘نصف میل سے زیادہ کے فاصلے پر اس میں اتنی معمولی تبدیلی آئی ہے کہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ نکلسن خود یہاں ہیں اور گویا وہ دیوار کے ساتھ ہی چل رہے ہیں۔ لیکن پھر اس وقت جدید دلی سامنے آنے لگتی ہے۔

‘نکلسن کے انتقال کے بعد کی دہائی میں تعمیر ہونے والے پرانی دہلی ریلوے سٹیشن کی طرف جانے والی ریلوے لائن پر اچانک ہی نکلسن روڈ ختم ہوجاتی ہے۔ تھوڑا سا راستہ بدل کر ریلوے لائن کے دوسری طرف میں وہاں پہنچ گیا جہاں کبھی کابل گیٹ ہوا کرتا تھا۔

‘اس کے جنوب میں دیوار کے ساتھ ساتھ نیا بازار روڈ چل رہی ہے مگر نکلسن کو کہاں گولی ماری گئی تھی؟ لاہوری گیٹ کا اب وجود نہیں۔ ان کی سمت میں چلنے پر اس مقام کا پتہ لگانا ناممکن تھا۔ نیو مارکیٹ کی تنگ گلیوں میں بیٹھے لوگ نکلسن کے نام سے ناواقف تھے اور وہ مدد کرنے کے اہل نہیں تھے۔

‘ہمیشہ سے ہی یہ اتنا مشکل نہیں تھا، لارڈ کرزن نے 20 ویں صدی میں پہلے وائسرائے کے طور پر اپنی مدت کے دوران کشمیری گیٹ کے پاس سے اسی طرح کا سفر شروع کیا تھا۔ کابل گیٹ سے تقریباً 80 گز کے فاصلے پر انھیں دیوار پر ایک کتبہ ملا تھا۔

‘اس پر وہ جگہ نشان زد تھی جہاں 14 ستمبر سنہ 1857 کے حملے میں بریگیڈیر جنرل جان نکلسن بری طرح زخمی ہوئے تھے۔

‘دلی میں یہ دیوار اور وہ کتبے والی تختی سنہ 1940 میں لی جانے والی تصاویر میں دیکھی جا سکتی ہے لیکن اب دونوں منہدم ہو چکے ہیں لیکن یادیں اب بھی باقی ہیں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11130 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp