میرپور: زلزلہ پروف انفراسٹرکچر کی کمی، 5.8 کے شیلو ٹائپ زلزلے سے نقصان کا خدشہ بڑھ گیا

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زلزلہ

Getty Images
میرپور میں منگل کو آنے والا زلزلہ اگرچہ درمیانی شدت کا تھا تاہم محفوظ عمارتیں اور زلزلہ پروف انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے جانی و مالی نقصان ہوا

سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ فالٹ لائن پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان کا دو تہائی علاقہ ممکنہ طور پر زلزلے کے خطرے میں رہتا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئندہ محفوظ عمارتیں اور زلزلہ پروف انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے تاکہ جانی و مالی نقصانات کو کم سے کم رکھا جاسکے۔

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے سائزمک ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نجیب احمد عامر نے بی بی سی کو بتایا کہ کشمیر کے ضلع میرپور میں آنے والا زلزلہ ماڈریٹ یا درمیانی شدت کا تھا۔

لیکن درمیانی شدت کا زلزلہ ہونے کے باوجود احتیاطی تدابیر نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

میرپور: ’یہ گھر اب رہنے کے قابل نہیں رہا‘

میرپور: زلزلے سے کم از کم 25 افراد ہلاک، 452 زخمی

میرپور زلزلہ: ’میرے بچوں کو کون پالے گا؟‘

زلزلے کی شدت کیسے ناپی جاتی ہے؟

زلزلے کی شدت کو ناپنے کے لیے دو چیزیں استعمال ہوتی ہیں۔ ریکٹر سکیل پر ان کے شدت اور زمین میں گہرائی کے پیشِ نظر انھیں تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

ریکٹر سکیل کے حساب سے اگر زلزلہ ایک سے تین کی شدت کا ہو تو معمولی کہلاتا ہے۔ تین سے سات تک درمیانہ جبکہ ریکٹر سکیل پر سات سے اوپر کا زلزلہ شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔

دوسری طرف زلزلے کو زمین میں اس کی گہرائی سے بھی ناپا جاسکتا ہے۔ اگر زلزلہ 50 کلومیٹر تک ہو تو شیلو، پچاس سے 300 کلو میٹر تک انٹرمیڈیٹ اور 300 کلومیٹر سے اوپر ہو تو ڈیپ۔

زلزلہ

Getty Images

نقصان زیادہ کب ہوتا ہے؟

محکمہ موسمیات کے ماہر کے مطابق عموماً درمیانی اور گہری نوعیت کے زلزلوں سے نقصانات کا امکان کم ہی ہوتا ہے۔ مگر شیلو ٹائپ کے زلزلوں سے نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ یہ زمین میں زیادہ گہرائی تک نہیں ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شیلو زلزلوں میں زمین کے اوپر جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کیے جاتے ہیں۔

جیالوجیکل سروے آف پاکستان، اسلام آباد کی ڈائریکٹر ڈاکٹر روبینہ فردوس کے مطابق ابتدائی معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ میرپور میں زلزلہ جہلم کی فالٹ لائن میں سٹرائیک سلپ کی وجہ سے آیا ہے۔ سٹرائیک سلپ میں زمین کے دو حصے اپنی جگہ سے الٹ سمت میں حرکت کرتے ہیں۔

یہ فالٹ لائن کوہالہ اور مظفر آباد کے درمیانی علاقے تک جاتی ہے جبکہ منگلا ڈیم بھی فالٹ لائن کے اوپر واقع ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سٹرائیک سلپ کی صورت میں زیرِ زمین فالٹ پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ سے گزرتی ہیں۔ ان میں ایک حصہ آگے نکل جاتا ہے اور دوسرا پیچھے رہ جاتا ہے۔

اسی طرح فالٹ کی دیگر اقسام بھی ہیں۔ دوسری قسم نارمل فالٹ میں زیر زمین فالٹ نیچے کی جانب سے گزرتی ہے جبکہ ریورس فالٹ میں فالٹ پلیٹیں اوپر کی جانب چلتی ہیں۔

متاثرین زلزلہ

Getty Images

پاکستان میں اتنے زلزلے کیوں آتے ہیں؟

ڈاکٹر روبینہ فردوس کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا بڑا حصہ انڈین پلیٹ پر واقع ہے جبکہ یہاں سے یوریشین (یورپ اور ایشیا) اور عرب پلیٹیں بھی گزرتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ فالٹ لائن کا مطلب زیرِ زمین پلیٹوں کا ٹوٹ کر مختلف حصوں میں تقسیم ہوجانا ہے جو زمین کے نیچے حرکت کرتے رہتے ہیں۔ یہ حصے دباؤ جمع کرتے رہے ہیں۔

پھر ایک ایسا موقع آتا ہے جہاں پر ان کو کسی مقام پر اپنا دباؤ نکالنے کا موقع ملتا ہے تو پھر اس مقام پر زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ کبھی زیادہ شدت کے ہوتے ہیں اور کبھی کم۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمالیہ کا وجود بھی لاکھوں سال پہلے زیرِزمین پلیٹیوں کے ٹکراؤ کے نتیجے میں ہوا تھا۔ اب بھی ہمالیہ متحرک ہے اور یہ ہر سال ایک سینٹی میٹر بڑھ رہا ہے۔

زلزلے کا زیادہ خطرہ کن شہروں میں؟

ڈاکٹر روبینہ کے مطابق جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے ملک کو زلزلوں کے حوالے سے چار زونز میں تقسیم کر رکھا ہے۔

زون ون میں زلزلے کے کم امکانات سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں ڈیرہ غازی خان شامل ہے۔ زون ٹو میں زلزلے کے کچھ امکانات سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں پنجاب کے میدانی علاقے اور وسطی سندھ شامل ہیں۔

زون تھری میں زلزلے کے کافی زیادہ امکانات سمجھتے جاتے ہیں۔ ان میں کراچی، بلوچستان، اسکردو، سوات، پشاور، میدانی ہمالیہ کے علاقے آتے ہیں جبکہ زون فور کے اندر انتہائی خطرے کا شکار علاقوں میں پوٹھوہار، کشمیر، ہزارہ، شمالی علاقہ جات، کوئٹہ اور ہمالیہ کے پہاڑی علاقے آتے ہیں۔

میرپور میں زلزلے سے تباہی کی وجہ

زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے ڈائریکٹر زاہد رفیع کے مطابق میرپور میں حالیہ زلزلے سے نقصانات کی وجوہات میں درمیانی شدت کے زلزلے کا بہت کم گہرائی میں ہونا شامل ہے۔

یہ زلزلہ 10 کلو میٹر گہرا تھا۔ زمین میں 10 کلو میٹر گہرا ہونے کا مطلب زمین کی سطح پر شدید جھٹکے ہیں۔

اتنی کم گہرائی میں کوئی بھی درمیانہ زلزلہ، جس کی شدت 5.8 ہو، کافی شدید سمجھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ زلزلہ جس مقام پر آیا وہاں آبادی تھی مگر وہاں پر انفراسٹریکچر کو تعمیر کرتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ کیا وہ مقام ایسی عمارتوں کے لیے موزوں ہے بھی یا نہیں۔

ان کے مطابق وہاں کسی قسم کا کوئی بھی زلزلہ پروف انفراسٹریکچر تعمیر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔

زلزلہ

Getty Images

کیا زلزلے کی پیش گوئی ممکن ہے؟

ڈاکٹر روبینہ فردوس کا کہنا تھا کہ سونامی اور شدید موسم کی طرح زلزلوں کی پیش گوئی کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ کہاں پر متوقع طور پر زلزلہ آسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ زیرِ زمین فالٹ لائنز صرف پاکستان ہی میں ہیں بلکہ دنیا کے اور ممالک میں بھی موجود ہیں۔ ’وہاں پر بھی زلزلے آتے ہیں مگر پاکستان میں زلزلوں سے جتنا جانی و مالی نقصان ہوتا ہے اتنا نقصان ان ممالک میں نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں محفوظ عمارتیں اور زلزلہ پروف انفراسٹریکچر تعمیر کی گئیں ہیں۔زلزلے کی صورت میں لوگوں کو حفاظتی تدابیر یاد کرانا مشکل ہوتا ہے اس لیے زلزلے سے متعلق آگاہی ضروری ہے۔

پاکستان میں زلزلے سے متعلق حفاظتی تدابیر

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میرپور میں جانی و مالی نقصان کی ایک بڑی وجہ غیر محفوظ عمارتیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ زلزلے سے ان ہی علاقوں میں زیادہ نقصان ہوتا ہے جہاں گنجان آبادی، پرانی اور کمزور عمارتیں اور غیر محفوظ تعمیرات ہوں۔

ڈاکٹر روبینہ فردوس کا کہنا تھا کہ اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد باقاعدہ طور پر بلڈنگ کوڈز تیار کیے گیے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں نیسپاک نے سی ڈی اے کو اس سلسلے میں مشاورت فراہم کی تھی جس میں باقاعدہ طے ہوا تھا کہ اب آئندہ ایسی عمارتوں کے نقشے پاس نہیں ہوں گے جو کہ محفوظ نہیں۔

ڈاکٹر روبینہ فردوس کہتی ہیں کہ یہ لائحہ عمل پورے ملک میں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نجیب احمد بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ بلڈنگ کوڈز پر عمل ہونے سے جانی و مالی نقصان کم کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس بھی مقام پر ایک مرتبہ زلزلہ آتا ہے تو اس بات کا امکان سمجھا جاتا ہے کہ کبھی نہ کبھی دوبارہ بھی زلزلہ آئے گا جبکہ پاکستان کا بڑا حصہ دو تہائی علاقہ زلزلے کے خطرے میں رہتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں کسی چھوٹے بڑے زلزلے سے نقصانات کو کم سے کم کرنا ہے تو اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے محفوظ اور زلزلہ پروف انفراسٹریکچر بنانا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp