نوجوان انقلابی علی یاور کی یاد میں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آہ! ہماری چھٹی دھائی کی بے چین نسل کے نوجوان علی یاور بھی سدھارے۔ بس اب یہی خبریں ملنے کو رہ گئی ہیں۔ ہم سب essentially باغی تھے اور علی یاور بھی۔ خاندان سے ہمارا جھگڑا، جاگیرداری سے ہماری لڑائی، سرمایہ داری سے ہمارا یُدھ، سامراج سے ہماری جنگ، طفیلی ریاست سے ہمارا ٹاکرا، دقیانوسی روایات سے ہمیں اُلجھن اور مُلائیت سے ہمارا اینٹ کتے کا بیر—۔ اور اس نفرت میں تھی چھپی ایک محروم و معصوم محبت اور انسان دوستی اور بھائ/بہن چارا۔

بس ماضی کی پرچھائیوں سے جان چھڑاتے، گھروں سے بھاگتے، پتھر مارتے، لڑتے بھڑتے، اساتذہ سے جھک جھک کرتے، ماں باپ کی دھائیاں سُنی ان سنی کرتے، بھوکوں مرتے اور غضبناک جذبوں، متلاشی آنکھوں اور ذہنی بے قراریوں کے ساتھ سچائی کی تلاش میں آوارہ پھرتے پھرتے بالآخر سوشلزم کی عالمی لہر کے بڑے دھارے میں کہیں جذب اور ڑوب کے رہ گئے اور پھر کوئی ہوش ٹھکانے نہ رہی سوائے محنت کشوں اور مظلوموں کی لُٹیروں اور ظالموں کے خلاف نجات کی جنگ سے۔

منزل پانے سے زیادہ مزہ جدوجہد اور لڑ مرنے میں تھا جو ہماری باغیانہ روح کی تسکین کا باعث بنتا رہا۔ ساٹھ ستر کی دھائیوں کے عوامی اُبھار نے ہمیں ہوش میں رہنے نہ دیا اور انقلاب کا ایسا نشہ چڑھا کہ بڑی بڑے پہاڑ اور خونیں دریا ہیچ نظر آئے اور ہم ان پر چڑھ دوڑے یا پھر آتش نمرود میں کود گئے۔ کچھ کام آئے اور کچھ جانے کیوں بدقسمتی سے بچے رہ گئے۔ اسی دوران فرقہ پرستانہ معاشرے کی زمیں میں مارکسی فرقہ واریت کی وبا ایسی پھیلی کہ یکجہتی تو درکنار، مکالمہ بھی دشنام کی نذر ہوکے اپنی آب و تاب گنوا بیٹھا۔ اب ہم انقلاب کا ہراول دستہ تو نہ رہے، اپنی بزعم خویش انقلابی گھریلو نوآبادیوں میں گھٹ کر یرقان زدہ ہوگئے۔ بھرم بچا بھی تو اُن کا جو جنرل ضیا الحق کی طویل رات میں کہیں گُم کر دیے گئے۔

جو کچھ باہر تھے یا پھر رہا ہوئے تھے کو خیال آیا کہ لیفٹ یونٹی کی جائے، اور یہ طفلانہ کھیل کچھ نے اپنے تئیں ہوشیاری سے کھیلا اور کچھ معصوم خواہشوں کے اسیر ہوکر حیرت زدہ ہوکے رہ گئے۔ لیکن زیادہ تر پیٹی بورژوا ٹٹ پونجئیے نکلے، چھوٹی چھوٹی اناوؤں کے اسیر یا پھر شخصی/ذاتی /لیڈری کے زعم میں مبتلا۔ لیفٹ یونیٹی کے اس لا حاصل کھیل میں کچھ ایسے سادہ بھی تھے جن سے ملاقات باعث طمانیت رہی۔ ان میں نوجوان علی یاور اور اُن کے کچھ زیادہ ہی سنجیدہ چند ساتھی تھے جو انقلابی اطوار پہ کافی مُصر دکھائی دیے۔

علی یاور: اھلِ زبان، مہذب اور وابستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کی قسم کے سادھو نظر آئے جنہیں مہاجروں کی سندھیوں سے جڑت کی بڑی فکر تھی۔ ہمارے سندھی وطن دوست انقلابی محترم رسول بخش پلیجو بھانپ چکے تھے کہ سندھ میں مہاجر سندھی فساد کی زمین ہموار کی جارہی ہے، ابھی کراچی کی دیواروں پہ مہاجر صوبے کے نعرے کی نئی نئی چا کنگ شروع ہی ہوئی تھی اور کہیں کہیں الطاف حُسین نامی شخص کا نام جو جیل میں بیٹھا روئے جا رہا تھا کہ میں کدھر آن پھنسا، مجھے اس عذاب سے نکالو۔

انہی دنوں میں پلیجو کو کیا سُوجھی کہ پہلے اُس نے معراج محمد خان سے کہا کہ وہ اُردو بولنے والوں کا لیڈر بن کر سامنے آئے کہ ان سے زیادہ جانا ہوا لیڈر کراچی میں کوئی نہیں، خان صاحب کو یہ بہت برا لگا۔ پھر یہی نسخہ پلیجو نے نوجوان علی یاور کو پیش کیا۔ ویسے بھی نوجوان محاز کراچی میں متحرک تھا، لیکن کافی غور و خوض کے بعد اس خیال کو رد کردیا گیا کہ بھلا ہم پرولتاری، لسانیت کی نفرت انگیز سیاست کیوں کرنے لگے۔

کچھ عرصے بعد جنرل ضیا کی پشت پناہی سے لسانی فسادات کی آگ سے جو اژدھا برآمد ہوا وہ تھا الطاف حسین اور اس کی ایم کیو ایم۔ شکر ہے علی یاور نے اس سے اپنا دامن پاک رکھا۔ اور ایک انقلابی، تاریخی ”ناکامی“ کا داغ سینے پہ لئے عزت سے رخصت ہوا۔ اور یہی کیا کم ہے کہ ذلتوں، منافرتوں اور غلاظتوں سے بھری اس دنیا میں کوئی اپنا دامن بچائے، انسانی نجات کے خواب آنکھوں ہی آنکھوں میں لئے اور زخموں کے داغ چھپائے دنیا سے رخصت ہوجائے۔ کیا خوب انسان تھا، کم از کم اچھی یادیں تو چھوڑ گیا کوئی یاد کرے یا بھول جائے اُس کی بلا سے۔ اُس سے اپنی آخری معذرت کے ساتھ اپنا آخری خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 93 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam