ریبیز ویکسین: کتے کے کاٹے سے زخمی بچے کی ویڈیو سندھ میں وائرل، حقیقت کیا ہے؟

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فوٹو

SM Viral Post

پاکستان کے سوشل میڈیا پر کتے کے کاٹنے کے شکار ایک بچے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مریض ہسپتال کے بیڈ پر موجود ہے اور کتے کی طرح آوازوں نکال رہا ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والی اس ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ صوبہ سندھ کے کسی علاقے کی ہے اور اسی بنیاد پر اسے واٹس ایپ گروپس، فیس بک اور ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

دلی کے بگڑے ہوئے آوارہ کتے

کتے کے کاٹے کی ویکسین انڈیا سے آنا بند

نومولود بچہ کھیت میں زندہ دفن، کتے نے بچا لیا

ویڈیو میں کیا ہے؟

ایک منٹ 22 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں سات سے آٹھ سال کی عمر کا بچہ ہسپتال کے صاف ستھرے بستر پر لیٹا ہوا نظر آتا ہے۔

مردانہ آواز میں اس سے نام معلوم کیا جاتا ہے اور تھرمامیٹر سے جسم کا درجہ حرارت بھی چیک کیا جاتا ہے۔ ویڈیو کے دوران بچہ زبان باہر نکال کر ہونٹوں پر پھیرتا رہتا ہے اور کتے جیسی آوازوں نکالتا ہے۔

اس ویڈیو کی بنیاد پر سندھ کے محکمہ صحت اور صوبائی حکومت پر تنقید کی گئی کہ وہ بچوں کو بچانے میں ناکام ہوئی ہے اور ہسپتالوں میں ویکسین دستیاب نہیں۔.

ویڈیو کی حقیقت؟

محکمہ صحت کی جانب سے گذشتہ شام ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ متعلقہ ویڈیو کی جانچ کے لیے اسے محکمہ صحت کے تمام ضلعی افسران کو بھیجا گیا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ ویڈیو کراچی یا سندھ کے کسی اور شہر کی نہیں کیونکہ اس قسم کے بستر اور اس پر موجود چادریں یہاں کہیں بھی زیرِ استعمال نہیں۔

جب بی بی سی کی جانب سے محکمہ صحت کی اس وضاحت کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے۔ اسے 24 ستمبر کو انڈیا سے اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

کتے

BBC

اس وقت یہ ویڈیو تیلگو سماچار، دی وائرل، ٹرو وائرل انڈیا، انٹر نیشنل ہومیوپیتھی کلینک اور دی وائرل درشن سمیت ایک درجن کے قریب انڈین یوٹیوب چینلز پر موجود ہے۔ بعض اکاؤنٹس نے تو اس ویڈیو کو ایڈٹ بھی کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ویڈیو یوٹیوب سے پہلے ٹوئٹر پر عاشر اوم پرکاش کے اکاؤنٹ نے 23 ستمبر کو شیئر کی تھی۔

انڈیا کی اس ویڈیو کو اس لیے بھی فروغ حاصل ہوا کیونکہ 18 اکتوبر کو شکارپور کا ایک 10 سالہ بچہ کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہلاک ہوگیا تھا۔

میر حسن نامی اس بچے کی بھی آخری وقت کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ میر حسن کی ویڈیو وائرل ہونے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

https://twitter.com/ashir_omprakash/status/1176159280874942464

سندھ میں کتے کے کاٹنے کا مسئلہ کتنا بڑا؟

گذشتہ ماہ سندھ کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے سندھ اسمبلی کو آگاہ کیا تھا کہ رواں سال جولائی تک 92 ہزار سے زائد کتے کے کاٹنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

بقول ان کے کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ان سے نجات حاصل کی جائے۔

شکارپور میں بچے کی ہلاکت کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ بچے کو کتے کے کاٹنے کے کئی روز بعد ہسپتال لایا گیا، تب تک انفیکشین پھیل چکا تھا اور والدین کو اس سے آگاہ بھی کیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد حکومت سندھ نے شکایت سیل بھی قائم کیا ہے۔

سیل کے فوکل پرسن جاوید احمد بھٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ سکھر، گھوٹکی، میرپورماتھیلو، شکارپور، خیرپور، سانگھر، نوابشاھ، نوشہرفیروز، ٹنڈ والہیار، عمرکوٹ، سجاول، میہڑ سے شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’لوگوں میں شعور کی بھی کمی ہے کیونکہ یہ ویکسین مخصوص صحت کے مراکز میں موجود ہیں جس سے عوام آگاہ نہیں۔‘

ویکسین

Getty Images

ویکیسن کی عدم دستیابی

پاکستان میں اینٹی ریبیز ویکسین انڈیا سے درآمد کی جاتی تھی تاہم انڈین حکومت نے مقامی ضروریات کے پیش نظر اس کی برآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

صوبائی حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کو مطلوبہ ویکسین فراہم کی جائیں۔

وزیر صحت سندھ کا کہنا ہے کہ ’حکومت چین کی جس کمپنی سے خریداری کرتی تھی وہ کمپنی بند ہو گئی ہے کیونکہ چین میں ریبیز کو کنٹرول کرلیا گیا ہے جبکہ انڈیا سے کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے درآمد نہیں کر سکتے۔‘

فوکل پرسن جاوید احمد بھٹو کا کہنا ہے اس کی وجہ سے جو ویکسین 600 روپے میں ملتی تھی وہ اب 1200 روپے کی ہو گئی ہے۔

ویکسین کی مقامی تیاری

کتے کے کاٹنے کی ویکسین نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں بھی تیار کی جاتی ہے۔

ویکسین کی عدم دستیابی کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے آگاہ کیا ہے کہ رواں سال کتے کے کاٹنے کی ویکسین کے 2 لاکھ ڈوز بنائے گئے۔

یہ ویکسین صوبوں کی جانب سے طلب کرنے پر تیار کی جاتی ہیں اور انھیں حاصل کرنے کے لیے پچاس فیصد ایڈوانس ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔

ادارے کے مطابق سیکریٹری صحت کی درخواست پر حکومت سندھ کو بغیر ایڈاونس 2500 ڈوز فراہم کیے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12237 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp