شیخ ابو سعید، بو علی سینا اور کشمیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہور و معروف صوفی شاعر شیخ ابو سعید ابوالخیر، بوعلی سینا کے ہم عصر تھے۔ ایک بار دونوں کی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات عجیب تھی۔ تین دن اور تین راتیں علیحدگی میں مصروف گفتگو رہے۔ عقیدت مندوں اور مریدوں میں سے کوئی اندر نہ جا سکتا تھا۔ سوائے اس کے جسے وہ اجازت دیتے۔ صرف نماز باجماعت کے لئے باہر نکلتے۔ تین دن بعد ملاقات ختم ہوئی۔ بو علی سینا سے ان کے شاگردوں نے ملاقات کے متعلق پوچھا تو بو علی سینا نے بتایا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں شیخ ابو سعید اسے دیکھ سکتے ہیں۔

ابو سعید ابوالخیر سے ان کے مردوں نے ملاقات کا حال جاننا چاہا تو شیخ نے فرمایا جو کچھ ہم دیکھ سکتے ہیں، وہ اسے جانتے ہیں! شیخ ابو سعید کی یہ رباعی زبان زدِ خاص و عام ہے ؎ باز آ باز آ ہر آنچہ ہستی باز آ گر کافر و گبر و بت پرستی باز آ این درگِہ ما درگِہ نو میدی نیست صد بار اگر توبہ شکستی باز آ واپس آ جا۔ واپس آ جا! تو جو کوئی بھی ہے، لوٹ آ! کافر ہے یا آتش پرست یا بتوں کا پجاری۔ ہماری بارگاہ، نا امیدی کی بارگاہ نہیں!

سو بار بھی توبہ توڑی ہے تو کوئی بات نہیں! پھر آ جا! شیخ ابو سعید ابوالخیر کا ذکر اس لئے نہیں چھیڑا کہ آج ان کی برسی ہے! اصل میں آج کل جو کچھ حزب اختلاف کشمیر کے ضمن میں وزیر اعظم کے خلاف ہاہا کار مچا رہی ہے، اس پر حضرت شیخ ابو سعید ابوالخیر کی ایک اور رباعی بہت زیادہ یاد آ رہی ہے ؎ گفتی کہ فلاں زیا دِما خاموش است از بادہ، عشقِ دیگران مدہوش است شرمت بادا! ہنوز خاکِ درِ تو از گرم ئی خونِ دِل من در جوش است تونے گلہ کیا کہ فلاں ہمیں بھول کر دوسروں کے حق میں کھو گیا۔

تجھے شرم آنی چاہیے! تیرے دروازے کی مٹی، میرے خونِ دل کی گرمی سے ابھی تک کھول رہی ہے! عمران خان نے بین الاقوامی سطح پر جس طرح کشمیر کا ایشو اٹھایا ہے اس کی مثال پاکستان میں نہیں مل سکتی! مگر اپوزیشن کمال ”باشرمی“ سے شور مچائے جا رہی ہے کہ عمران حکومت کچھ نہیں کر پارہی! مولانا صاحب جو بھارت جا کر کہہ آئے تھے کہ ایک عدد گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے اور جن کے بارے میں جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ بھارت سے حضرت مولانا فوائد حاصل کرتے رہے، اقوام متحدہ کو کہہ رہے ہیں کہ یہ شخص (عمران خان) ہمارا نمائندہ نہیں!

ستم ظریفی یہ ہے کہ مولانا صاحب خود پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہی نہ ہو سکے۔ جس الیکشن کو وہ جعلی قرار دے رہے ہیں، خود ان کے خلف الرشید اسی الیکشن کے نتیجہ میں پارلیمنٹ کے ممبر بنے ہیں! وزیر اعظم عمران خان کی خدمات کشمیر کے ضمن میں شاید اس وقت قابل تحسین ہوتیں جب وہ مودی کی ماتا کو سرکاری مُہر کے ساتھ تحفے میں ساڑھی بھیجتے! نواسی کی شادی پر مودی آتا اور تنہائی میں جندال سے ملتے! طویل عہد ہائے اقتدار میں میاں نواز شریف نے کتنی بار بھارت کو للکارا؟

ان کے آخری دورِ حکومت میں مودی نے برملا اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا پانی بند کر دیں گے! پاکستانی وزیر اعظم نے اس کا جواب کیا دینا تھا، ہلکا سا ارتعاش بھی کسی نے نہ دیکھا! کلبھوشن کا کبھی نام ہی نہ لیا! بچہ بچہ جانتا ہے کہ میاں صاحب بھارت کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ سعودی عرب میں مقیم ہر پاکستانی جانتا ہے کہ ان کی صنعتوں میں وہاں بھارتی ورکروں کو ترجیح دی جاتی ہے! بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر کامیابی کے باوجود اہل پاکستان اور حکومت پاکستان کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

ان چند کالم نگاروں اور اینکر حضرات کو چھوڑ کر، جنہوں نے ہر حال میں، ہر وقت، ہر ایشو پر عمران خان کی مخالفت کرنی ہے اور جن کا یہ تقریباً نفسیاتی مسئلہ ہو چکا ہے، باقی لکھاریوں کو اس جنگ میں سرگرمی سے حصہ لینا ہو گا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار بہت اہم ہے۔ بالخصوص اہل یورپ کو بھارتی حکومت کا اصل چہرہ دکھانا ہو گا۔ عراق پر امریکی حملہ ہوا تو یہ یورپ کے شہر تھے جہاں احتجاجی جلوس نکالے گئے۔ ان لوگوں کے تصور میں بھی نہیں کہ آر ایس ایس کا نظریہ شدید نفرت پر مبنی ہے اور وہ ہندو کے علاوہ بھارت کی دھرتی پر کسی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں!

جو کچھ آسامی مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ مہذب دنیا میں ناقابل تصور ہے۔ مودی اور امیت شاہ کا پلان یہ ہے کہ اسرائیل کی پیروی کرتے ہوئے پورے بھارت میں مسلمانوں کو کیمپوں میں مقید کر دیا جائے۔ آسام کے بعد سب جانتے ہیں کہ یہ کھیل یوپی، آندھرا پردیش، تلنگانہ، جھاڑ کھنڈ اور بہار میں کھیلا جائے گا۔ پنجاب اور کیرالہ شاید وقتی طور پر بچ جائیں مگر بی جے پی کا ٹارگٹ، کسی اشتباہ کے بغیر۔ پورے بھارت کے مسلمان ہیں۔

کاش ہمارے سفارت خانوں کا مزاج بدل جائے! ان میں نیشنلزم کی وہی سپرٹ پیدا ہو جائے جو بھارتی سفارت خانوں میں ہے۔ سب نہیں، مگر ہمارے اکثر سفارت کار صرف اس دھن میں رہتے ہیں کہ ان کی تعیناتی کسی ترقی یافتہ یا مغربی ملک میں ہو جائے جہاں مستقبل میں وہ اور ان کی اولاد مستقل مقیم ہو جائیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد، بیرون ملک مقیم ہو جانے والے دونوں ملکوں کی فارن سروس کے افسروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تو پاکستانی افسروں کی تعداد یقینا زیادہ نکلے گی!

فارن سروس کو چھوڑ بھی دیجیے تو باقی سروس گروپوں کے ارکان کی بیرون ملک تعیناتیاں ہمیشہ یہاں مشکوک انداز میں کی جاتی ہیں۔ کسی حکومت نے آج تک یہ کام صرف اور صرف میرٹ پر نہیں کیا۔ اطلاعات، کامرس اور دوسرے شعبوں کے لئے نوجوان بیورو کریٹ ہمیشہ سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر چنے گئے۔ کام تجارت کا ہو یا تارکین وطن کی بہبود کا، یا زراعت کا، سول سروس کا ایک مخصوص گروہ اس پر چھپایا ہوا ہے۔ ان حالات میں ہمارے سفارت خانے کشمیر کے لئے کچھ زیادہ کرنے کی اہلیت ہی سے عاری ہیں!

دو کام بہر طور حکومت کو کرنے چاہئیں! ثقہ ریٹائرڈ سفارت کاروں کو آمادہ کر کے بیرون ملک وفود کی شکل میں بھیجا جائے۔ ہمارے پاس ظفر ہلالی، جاوید حفیظ، کامران نیاز قاضی رضوان الحق جیسے تجربہ کار اور قابل سفارت کار موجود ہیں۔ ان سے اس موقع پر فائدہ نہ اٹھانا، افرادی قوت کی ضیاع کے مترادف ہو گا! اپوزیشن کی ساری ہٹ دھرمی کے باوجود حکومت کو ایک بار، ایک آل پارٹیز کانفرنس کشمیر کے ضمن میں ضرور بلانی چاہیے۔

اس کی دو وجوہ ہیں! اول، دنیا کو بالخصوص بھارت کو یہ پیغام مل جائے کہ پاکستان کی حکومت اور حزب اختلاف اس معاملے میں ایک صفحے پر ہیں۔ دوم، قوم کو بھی معلوم ہو جائے کہ اپوزیشن میں کون کشمیر کے لئے سنجیدہ ہے اور کون دوسرے ایشوز کو ترجیح دے رہا ہے! اپوزیشن اگر حکومت کی بلائی ہوئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہ کرے تو خود ایسی کانفرنس کا انعقاد کرے اور حکومت کو اس میں شرکت کی دعوت دے!
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •