1973 ء کے بعد پہلی مرتبہ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا کسی کو یاد ہے نیو یارک ٹائمز نے اس وقت اپنے اداریئے میں کیا لکھا تھا؟ 1973 ء میں شاہ فیصل نے مغرب کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف تیل کی برآمدبند کر دی تھی! مغرب کو ایک سرداور بے سہارا سرما صاف سامنے نظر آرہا تھا۔ 2008 ء میں سابق انٹیلی جنس سربراہ اور واشنگٹن میں سابق سفیر ترکی الفیصل نے ایک انٹرویو دیا۔ یہ انٹرویو معروف جریدے ”شرق الاوسط“ میں چھپا۔ 1973 ء میں جب تیل پر پابندی لگائی گئی تو ترکی الفیصل شاہی دربار میں مشیر تھے۔

شاہ فیصل اُس وقت جدہ میں تھے۔ سی آئی اے کے ایک نمائندے نے ترکی الفیصل کو ایک کاغذ دیا۔ اس پر دستخط کسی کے نہیں تھے۔ بتایا گیا یہ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی طرف سے ہے۔ اس پر لکھا تھا کہ اگر شاہ نے پابندی نہ ہٹائی تو امریکہ اپنے مفاد میں سب کچھ کرے گا۔ مطلب واضح تھا۔ طاقت کا استعمال! ترکی الفیصل کہتے ہیں۔ ”میں بادشاہ کے پاس گیا اور پیغام دیا۔ بادشاہ نے پیغام وصول کیا اور صرف اتنا کہا“ خیر ’انشاء اللہ ”۔

ترکی بتاتے ہیں کہ بادشاہ‘ اس دھمکی کے باوجود ’پرسکون‘ ہشاش بشاش اور اچھے موڈ میں رہے۔ امریکی دھمکی کا انہوں نے کوئی اثر نہ لیا۔ کیا کسی کو یاد ہے نیو یارک ٹائمز نے اس وقت اپنے اداریے میں کیا لکھا تھا؟ یہ کالم نگار اس وقت پچیس برس کا تھا۔ اداریے کے الفاظ کل کی طرح یاد ہیں۔ دنیا کے اس طاقت ور ترین اخبار نے لکھا تھا کہ ساتویں صدی میں جب عرب جزیرہ نمائے عرب سے گھوڑوں اور اونٹوں پر نکلے اور دنیا کو حیران کرکے رکھ دیا ’اس کے بعد آج تک عربوں نے مغرب کو اتنا بڑا دھچکا نہیں دیا جتنا تیل کی اس پابندی سے دیا!

اگر یہ کہا جائے کہ وزیر اعظم پاکستان نے کل اقوام متحدہ میں جو تقریر کی، وہ تیل کی اس پابندی کے بعد مغرب کے لئے سب سے زیادہ حیران کن واقعہ ہے تو کیا یہ مبالغہ آرائی ہو گی؟ جن کے دلوں میں بغض ہے اور مفادات کا موتیا آنکھوں پر اترا ہوا ہے‘ وہ اس تقریر پر بھی اعتراض کریں گے۔ ایک ایسے ہی سیہ دماغ کو خوش خبری دی گئی کہ اس کی محبوب پالتو بلی دریا میں پانی کے اوپر چل رہی ہے تو حیران اور خوش ہونے کے بجائے وہ زار و قطار رونے لگا کہ چل ہی رہی ہے نا! تیر تو نہیں سکتی!

پیپلز پارٹی کے خالص“ جمہوری ”اور“ منتخب ”چیئرمین بلاول زرداری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مایوسی ہوئی ہے کیوں کہ عمران خان نے جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر صحیح طریقے سے نہیں اٹھایا۔ سوشل میڈیا پر کچھ شپرّہ چشم کہہ رہے ہیں کہ تقریروں سے کیا ہوتا ہے؟ تو پھر کیا وہ تقریر نہ کرتے؟ اور کہتے کہ میں تقریر نہیں کروں گا کیونکہ تقریروں سے کیا ہوتا ہے! آپ پوچھیں گے کہ شپرّہ چشم کیا اور کون ہوتا ہے! شپرہ چمگادڑ کو کہتے ہیں۔ سعدی نے کہا تھا

گرنہ بیند بروز شپرہ چشم چشمۂ آفتاب راچہ گناہ

اگر چمگادڑ دن کے وقت کچھ دیکھنے سے قاصر ہے تو سورج کا اس میں کیا قصور؟ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پہلی بار توہین رسالت کا مقدمہ پیش کیا گیا ہے۔ “ ہمارے نبیؐ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں۔ دنیا کے سوا ارب سے زائد مسلمان رسول ﷺکی توہین نہیں برداشت کر سکتے۔ جب کوئی توہین کرتا ہے تو ہمیں دلی دکھ ہوتا ہے اور دل کو پہنچنے والا دُکھ جسم کو پہنچنے والے دکھ سے زیادہ ہوتا ہے۔

جس طرح ہولو کاسٹ کے معاملے پر یہودیوں کو تکلیف ہوتی ہے! ”کیا کبھی اتنے بڑے عالمی فورم پر اس سے پہلے اسلام کا ان الفاظ میں دفاع کیا گیا ہے؟ “ نائن الیون سے پہلے زیادہ خودکش حملے تامل ٹائیگر نے کیے جو ہندو تھے۔ لیکن کسی نے ہندوؤں کو انتہا پسند نہیں کہا! جاپانی پائلٹوں نے دوسری جنگ عظیم میں خودکش حملےکیے ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب کا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں! میں انتہا پسند اور روشن خیال اسلام کی اصطلاحات سے متفق نہیں! اسلام ایک ہی ہے جو ہمارے نبیؐ نے دیا ”

اس سے پہلے بھی ایک وزیر اعظم پاکستان تھے جن کی زبان پر کلبھوشن کا نام ملک کے اندر آیا نہ باہر! آپ انٹرنیٹ پر جائیے اور یہ لکھ کر گوگل کیجیے۔ gift of Nawaz Shareef to mother of modi آپ کو ویڈیو میں مودی کی ماں نظر آئے گی۔ اس کے ہاتھ میں ایک سبز ڈبہ آپ دیکھیں گے اس پر حکومت پاکستان کا نشان واضح نظر آ رہا ہے۔ پھر ویڈیو کلپ آپ کو صاف دکھائے گا۔ with the compliments prime minister of pakistan کوئی اس ذات شریف سے پوچھے کہ خدا کے بندے!  اگر گجرات کے قصاب کو تحفہ دینا تھا تو اپنی ذاتی حیثیت میں دیتے؟ بطور وزیر اعظم پاکستان کس اتھارٹی پر دیا؟

نواز شریف کے بھائی نے چند دن پہلے اسمبلی کے فلور پر مودی کو قصاب کہا ہے۔ قصاب تو وہ تب سے ہے جب اس نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ سینکڑوں مسلمان عورتوں کی آبرو ریزی کرائی تھی۔ ہزاروں بچے مارے گئے۔ مسلمانوں کی بستیوں کی بستیاں جلا دی گئیں! پھر جب مودی سے کسی صحافی نے تبصرہ کرنے کے لئے کہا تو اس نے کہا“ میرے جذبات وہی ہیں جو کار چلاتے وقت ’کتا نیچے آ کر مر جائے تو ہوتے ہیں ”اس وحشی درندے کی ماں کو تحفہ حکومت کی طرف سے بھیجا گیا۔

مودی کے ساتھ نواز شریف کی تصویریں دیکھ کر‘ اپنے دل پر ہاتھ رکھیے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیے کیا میاں صاحب کے چہرے پر ’دل سے بے ساختہ نکلی ہوئی خوشی رقص نہیں کر رہی؟ مگر وقت وقت کی بات ہے۔ تلک الایاّم نُداولھا بین الناس! خدا لوگوں کے درمیان دنوں کو پھیرتا ہے۔ آج اسی ملک کا وزیر اعظم‘ سب سے بڑے عالمی فورم پر مودی کو ننگا کرکے رکھ دیتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں عمران خان نے مودی کے بارے میں جنرل اسمبلی میں جو کچھ کہا اس سے پاکستان میں کس کو دلی تکلیف پہنچی ہے۔

نریندر مودی انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کا تاحیات رکن ہے، جو نازی ہٹلر اور مسولینی سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ آر ایس ایس مسلمانوں کی بھارت میں نسل کشی پر یقین رکھتی ہے اور مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف نفرت پر مبنی بیانیہ کی حامل ہے۔ اسی بیانیہ نے مہاتما گاندھی کا قتل کیا۔ جب مودی گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو آر ایس ایس کو وہاں تین دن دو ہزار مسلمانوں کے قتل عام کی اجازت دی۔ اس سانحہ کے باعث اس کے امریکہ آنے پر پابندی لگا دی گئی. وزیر اعظم عمران خان نے ہولو کاسٹ کا ذکر کر کے مغرب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔ یہ ایک لیڈر کی تقریر تھی! لیڈر وہ ہوتا ہے جو مسائل پر اپنی رائے رکھتا ہوٖ اور پھر اس رائے کو کسی احساس کمتری کے بغیر بیان کر سکے۔ یہ تقریر خطابت کی ایک عمدہ مثال تھی۔ لہجے میں یقین ’ٹھہراؤ‘ مناسب الفاظ کا چناؤ ’بولتے ہوئے وقفے‘ چہرے کے تاثرات، پر اعتماد نظریں! سب کچھ موجود تھا!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •