وہ جو عمران خان تقریر میں نہ کہہ سکے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امی اور ابو دونوں کے پڑھے لکھے ہونے کا نقصان یہ تھا کہ ہر دو طرف سے نصیحت میں دلیل کا تڑکا لگا ہوتا تھا اس لیے اسے ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اکثر اوقات بات کرنے کے بعد سامنے بٹھا کر پوچھا جاتا تھا ”اچھا بتاؤ، اس میں کچھ غلط ہے؟ سوچ کر بتاؤ“۔ اب اس کے بعد ہم سوچتے تھے، کبھی کبھی کوئی دور ازکار نکتہ نکالتے تو اس کو منوانے کے لیے دلیل نہ ملتی، دلیل مل جاتی تو مثال ادھر ادھر ہو جاتی لہذا اکثر اوقات بات نہ صرف ماننی پڑتی بلکہ اس پر عمل بھی کرنا پڑتا۔

ابو نے بچپن میں شطرنج سکھائی۔ سکھانے کا طریق یہ نکلا کہ مجھے ہر چال کا حساب دینا پڑتا۔ یہ جواب قابل قبول نہیں تھا کہ یہ چال میں نے ایسے ہی چل دی ہے۔ ابو کا کہنا تھا کہ ہر قدم کا جواز ہوتا ہے، شعور میں جواز نہیں ملتا تو تحت الشعور کو کنگھالو لیکن اپنے کیے کا جواز بھی دو اور وقت آئے تو حساب بھی۔

اس شعوری تربیت میں جذبات کی جگہ تو تھی لیکن ان کی بنیاد پر مقدمہ استوار کرنے کی روایت نہیں تھی۔ ذہن سازی میں استحصال کے ہتھیار کم کم استعمال ہوتے۔ عقیدت کے بت بنائے تو گئے پر ان پر گاہے گاہے سنگ ساری کی اجازت بھی دے دی گئی۔ لکیر کھینچنا سکھایا تو ساتھ یہ بھی سکھا دیا گیا کہ ہر لکیر حق اور باطل کے بیچ نہیں ہوتی۔ امی اور ابو اپنے اپنے فلسفہ زندگی کے خوگر تو تھے اور اس کا پرتو ہماری زندگی میں دیکھنے کے بھی خواہاں تھے پر اس کے لیے جذباتیت کا سہارا لینے کے بجائے انہوں نے ہماری زندگی کی عمارت کی بنیاد عملیت پسندی اور عقلیت پسندی پر رکھنے کو ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم معاشرے میں ان سے بھی زیادہ مس فٹ ہو گئے۔ جس معاشرے میں مداری کی ڈگڈگی، شعبدہ باز کی تقریر اور جادوگر کی ٹوپی سے نکلتے خرگوش معیار ہوں، وہاں عقل کی بات کرنا کفر سے کم نہیں ہوتا۔

امی کی یاد آتی ہے تو آتی چلی جاتی ہے۔ کل کچھ طعنے سمیٹتے ہوئے نظیر اکبر آبادی کی ایک نظم کا شعر یاد آ گیا۔ امی کو یہ شعر پسند ہی نہیں تھا ان کے نزدیک یہ زندگی کی بہترین تعریف بھی تھی۔ اس لیے انہوں نے بتایا، سکھایا، پڑھایا کہ یہی اصول ہے جس پر دنیا چلتی ہے، کہنے کو کوئی کچھ بھی کہتا رہے۔ شعر مشہور ہے، آپ نے سنا ہو گا۔ نہیں تو اب سن لیجیے اور اس سادہ سی دانش کو پھیلا کر دیکھیے، سب عالم اس میں سمٹ جائے گا

کل جُگ نہیں، کر جگ ہے یہ، یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے، اس ہات دے، اس ہات لے

دنیا کے سب سودے نفع نقصان کے سودے ہیں۔ انگریزی میں اسے cost benifit analysis کہتے ہیں۔ آپ ہر وہ کام کریں گے جس میں نفع زیادہ ہے اور ہر وہ کام نہیں کریں گے جس میں نقصان زیادہ ہے۔ زندگی کا کوئی فیصلہ اس اصول سے مبرا نہیں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ماں باپ کی محبت غیر مشروط ہے۔ ایسا ہوتا تو تاریخ میں کسی اولاد کو عاق کرنے کی نوبت نہ آتی۔ محبت دی جاتی ہے تو محبت ملتی ہے۔ زیادہ دے سکتے ہو، زیادہ پا لو گے، کم دو گے، کم ملے گی۔ یہ اصول لوگوں پر ہی نہیں، قبیلوں پر، قوموں پر اور آج کی جدید نیشن سٹیٹس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کوئی آپ کا دوست نہیں ہے، کوئی آپ کا دشمن نہیں ہے۔ اصول، ضابطے، قانون، اخلاقیات سب خوشنما چھلکے ہیں۔ درحقیقت سب نفع اور نقصان کے سودے ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں

کشمیر بٹا تو بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ جا پہنچے۔ قراردادیں منظور ہوئیں۔ استصواب رائے کے لالی پاپ ہر پاکستانی کے منہ میں ٹھونس دیے گئے۔ شادیانے بجے پھر کسی نے یہ نہ بتایا کہ استصواب کی شرائط کیا ہیں۔ قرارداد میں پاکستان جارح کیوں سمجھا گیا ہے۔ فوج کس کی پہلے نکلے گی۔ لوگ کہاں کے پہلے بے دخل ہوں گے۔ واقفان حال جانتے تھے کہ یہ تل سوکھے ہیں تو ان سے کبھی تیل نکالنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ہاں ان کا بھرا مرتبان آج بھی سیاہ کاغذ میں لپیٹ کر کبھی جنرل اسمبلی، کبھی سلامتی کونسل کی میز پر رکھ کر دونوں ملک نورا کشتی لڑ لیتے ہیں۔ عوام خوش ہو لیتے ہیں۔ مداری پھر ڈگڈگی گدڑی میں ڈالتا ہے اور عوام کے گلے میں رسی ڈال کر اگلے تماشے کی طرف چل پڑتا ہے۔ پہلی بار یہ تماشا 1948 میں ہوا۔ ادھر ادھر کودا پھاندی ہوئی۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ مداری نے داد سمیٹی۔ کشمیر وہیں پڑا رہا۔

آپریشن جبرالٹر ہوا۔ محاذ کھلتے کھلتے لاہور تک آن پہنچے۔ منصوبہ بنانے والے بھول گئے کہ منصوبے تو سرحد کے اس طرف بھی بن سکتے ہیں۔ سترہ دن پنجہ آزمائی ہوئی۔ اقوام متحدہ سے ہوتے ہوتے یار لوگ تاشقند جا نکلے، جنگ کی گرد بیٹھی اور ایوب خان کا بند مکا کھلا تو پتہ چلا کہ کشمیر وہیں پڑا ہے۔

بھٹو صاحب پندرہ دسمبر کو اقوام متحدہ میں تاریخ کی جوشیلی ترین تقریر کر کے نکلے۔ قوم نے انہیں سر پر بٹھا لیا۔ پر ہوا یہ کہ اگلے دن آدھا ملک نقشے سے مٹ گیا۔ یحیی خان غرق مئے ناب رہے، کشمیر پھر وہیں پڑا رہا۔

ضیاء صاحب کو افغانستان کی کھیر ملی تو حوصلے اتنے بلند ہو گئے کہ امریکا کی امداد مونگ پھلی دکھائی دینے لگی۔ ریگن سے دانت کاٹے کی دوستی ہو گئی۔ چارلی ولسن تیرہ شبوں کا ساتھی بنا۔ ربانی، سیاف اور حکمت یار کے ہاتھوں میں سٹنگر تھما دیے گئے پھر جنرل اسمبلی کے بھرے ہال میں ضیا صاحب کے ایمان افروز خطاب سے پہلے قرآن کی باقاعدہ تلاوت کا منصوبہ بنا۔ وہ تو اقوام متحدہ کے کارپرداز کم بخت سیکولر کافر نکلے۔ انہوں نے تلاوت کروانے سے صاف انکار کر دیا۔ پر وہ مرد مومن کی فراست کو نہ بھانپ سکے۔ اقوام متحدہ میں نہ سہی۔ اوپر ریکارڈنگ بوتھ سے قاری صاحب نے پی ٹی وی کی براہ راست نشریات میں تلاوت کر ڈالی۔ اتنی دیر ضیا صاحب خاموش ایسے کھڑے رہے جیسے تلاوت سن رہے ہوں۔ ادھر پی ٹی وی پر قاری صاحب خاموش ہوئے ادھر انہیں اشارہ کر دیا گیا کہ تقریر شروع کریں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 144 posts and counting.See all posts by hashir-irshad