پنجاب پولیس میں تجویز کردہ اصلاحات اور ان پر اعتراضات کیا ہیں؟

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب پولیس

Getty Images

پاکستان میں پولیس کا محکمہ ہمیشہ سے تنقید کی زد میں رہا ہے مگر حالیہ دنوں میں پنجاب پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آنے بعد صوبے پولیس کو شدید تنقید کا سامنا ہے جبکہ اصلاحات کے مطالبوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت میں آنے کے بعد پنجاب پولیس میں اصلاحات لانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔

لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ اس خطے کی پولیس میں اصلاحات لائی گئی ہیں۔

تقسیمِ ہند سے قبل انگریز دورِ حکومت میں 1860 میں پولیس میں اصلاحات لائی گئیں جس کے تحت صوبے کی پولیس کا انتظام آئی جی اور ضلع میں پولیس ڈسٹرکٹ سپرینٹنڈنٹ پولیس کے ماتحت مجسٹریٹ کے کنٹرول میں ہوتی تھی۔

ان اصلاحات پر 1861 میں عمل درآمد شروع کیا گیا اور 1947 میں پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد 1861 میں کی گئی اصلاحات ہی لاگو رہیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ 2002 میں جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں پولیس کے نظام میں بہتری لانے کے لیے قانون سازی کی گئی جس میں ضلعی مجسٹریٹ کی طاقت کو ختم کر دیا گیا اور پولیس کو غیر سیاسی اور آزاد محکمہ بنانے کے لیے مزید اصلاحات کی گئیں۔

اس کے بعد پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کی پولیس میں 2017 میں اصلاحات کیں جس کے بعد صوبائی حکومت کے نمائندے یہ دعوے کرتے دکھائی دیے کہ ان اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔

اب پنجاب پولیس میں اصلاحات کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے اپنی تجاویز پیش کی ہیں مگر نئے تجویز کردہ نظام پر پولیس افسران کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

پنجاب پولیس میں اصلاحات کے لیے دی گئی تجاویز

شکایات کا ازالہ

  • شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے پولیس کمپلینٹ اتھارٹی بنائی جائے گی جو کسی بھی کیس میں پولیس کے مبینہ غیر مناسب رویے کی چھان بین کرے گی۔
  • یہ اتھارٹی ایک ریٹائرڈ پولیس افسر، ایک قانون دان، ایک سرکاری وکیلِ استغاثہ اور ایک سرکاری افسر پر مشتمل ہوگی جو شہریوں کے مسائل اور شکایات پر ازخود ایکشن لے سکیں گے۔
  • اس کمیٹی کے ارکان کی رسائی پولیس ریکارڈز تک ہوگی اور یہ کیمٹی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ماتحت کام کرے گی۔

خود احتسابی کا عمل

  • صوبائی حکومت اور آئی جی پنجاب پولیس تفتیش کے طریقہ کار اور دیگر کاموں سے متعلق جامع طریقہ کار مرتب کریں گے۔
  • ٹیکنالوجی کے استعمال اور فرانزک سائنس ایجنسیوں کو صوبوں میں متحرک کیا جائے گا۔
  • ہر سال کے شروع میں آئی جی پنجاب صوبائی حکومت کو محکمے کے جائزے کا شیڈول فراہم کریں گے۔
  • تمام جائزہ رپورٹس کو صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد شائع کیا جائے گا۔
  • ان رپورٹس کو کابینہ کی کمیٹی برائے امن و امان کی میٹنگ میں پیش کیا جائے گا۔
  • جائزہ یونٹوں میں تعینات تمام اہلکاروں کا سند یافتہ ہونا ضروری ہوگا۔

محکمے سے باہر احتساب

  • صوبائی محکمہ داخلہ کے تحت پبلک سیفٹی کمیٹی کے لیے کمیشن قائم کیا جائے گا جو ایک ڈائریکٹر جنرل اور سات چیف انسپکٹرز پر مشتمل ہوگا۔
  • ایک ڈیموکریٹک احتساب کمیٹی بنائی جائے گی جو وزیرِ اعلیٰ سیکریٹریٹ کے ماتحت ہوگی جس میں کنوینر، تین یا چار صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ، جوائنٹ ڈائریکٹر آئی بی اور آئی جی پنجاب شامل ہوں گے۔
  • یہ کمیٹی پولیس نظام میں اصلاحات کے لیے مختص فنڈز سے متعلق فیصلے کرے گی اور قانون اور امن و امان کے حوالے سے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

مالی معاملات

  • تھانوں کے فنڈز کے اختیار ایس ایچ اوز کو دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
  • صوبائی حکومت محکمہ پولیس کے تمام اخراجات سے متعلق تفصیلی طریقہ کار جاری کرے گی۔
  • ہر تھانے کے لیے اخراجات کی کم سے کم حد کا تعین کیا جائے گا۔

محکمہ پولیس کو بد انتظامی سے بچانے کا طریقہ کار

  • افسران کی تعیناتی (ڈی پی او، آر پی او اور ایڈیشنل آئی جی) کے لیے سینیئر افسران پر مشتمل بورڈ بنایا جائے گا۔ یہ بورڈ افسران کی کارکردگی اور ان سے متعلق رپورٹ آئی جی پنجاب کو دے گا جو تین افسران کے نام وزیر اعلیٰ کو بھجوائیں گے۔
  • حکومت جواز پیش کر کے کسی بھی افسر کا قبل از وقت ٹرانسفر بھی کر سکے گی۔
  • انتظامی اور تحقیقاتی عہدوں پر صرف تربیت یافتہ پولیس افسران ہی تعینات ہو سکیں گے۔
  • تمام شراکت داروں کی مشاورت سے ڈھانچہ تیار کیا جائے گا جو کابینہ سے منظور شدہ ہو گا۔

تجویز کردہ مزید اصلاحات

  • پولیس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا
  • سیف سٹی اتھارٹی کو تمام صوبوں میں قائم کرنا
  • آئی جی کے ماتحت سیف سٹی اور اسپیشل برانچ کو سی ایم کے ماتحت کرنا
  • آئی بی اور آئی ایس آئی کی طرح پولیس افسران کے علاوہ سویلین کیڈر کی بھی علیحدہ بھرتی کرنا
  • استغاثہ کو بااختیار اور مستحکم کرنا
  • محکمہ داخلہ کے تحت کابینہ کی سب کمیٹی برائے قانون و آرڈر مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے سے متعلق جائزہ لے گی
  • پولیس کی آپریشنل خود مختاری کو یقینی بناتے ہوئے حکومت کو اختیار دینا کہ وہ پولیس سے کارکردگی کے حوالے سے جواب طلب کر سکے

نئی اصلاحات پر پولیس کی جانب سے کیے گئے اعتراضات

  • تجویز کردہ اصلاحات میں کہا گیا ہے کہ سپیشل برانچ کا سربراہ وزیرِ اعلیٰ ہوگا جبکہ پولیس کی جانب سے یہ تجویز دی گئی کہ سپیشل برانچ کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ماتحت کرنے کے بجائے آئی جی پنجاب کے ماتحت ہی کیا جائے۔
  • پولیس کمپلینٹ کمیشن محکمہ داخلہ پنجاب یا سی ایم سیکریٹریٹ کے بجائے پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے ماتحت کیا جائے۔
  • نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کو فعال کیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے، جبکہ پنجاب پولیس کا الگ سے کنٹرول انسپکٹوریٹ بنانے پر بھی اختلاف کیا گیا ہے۔

سابق پولیس اہلکاروں کے علاوہ کچھ حاضر سروس افسران نے بھی سوشل میڈیا پر نئی اصلاحات کے مسودے پر اپنے اعتراضات کا اظہار کیا۔ پنجاب پولیس سے تعلق رکھنے والی آمنہ بیگ کا کہنا ہے کہ پولیس کی ان اصلاحات سے ہم سو سال پیچھے پہنچ جائیں گے۔

جبکہ کمانڈنٹ سہالہ پولیس کالج احسن عباس نے ٹویٹ کی کہ ہمیں پرائم منسٹر کے خیبر پختونخواہ کے پولیس ماڈل کے ویژن کو کامیاب بنانا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز اس پر بحثت کر کرکے اصلاحات پنجاب پولیس میں لا سکیں۔

پولیس اور بیوروکریسی کے اختلافات

سابق آئی جی پنجاب شوکت جاوید نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم پنجاب میں بھی خیبر پختونخواہ جیسی پولیس اصلاحات لے کر آئیں گے تاکہ یہاں بھی لوگوں کو اسی طرح کا فائدہ ہو جو وہاں ہوا۔

’اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی مگر اس کمیٹی کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ اب چند ہفتے پہلے سیکریٹری داخلہ نے ایک بریفنگ دی جس میں پولیس والوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کا صرف اتنا اختلاف ہے کہ اگر پولیس میں اصلاحات لانی ہیں تو یہ پولیس کے مشورے سے ہونی چاہیے تھیں، نا کہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے پولیس کی اصلاحات کریں۔

’تاہم وزیرِ اعظم صاحب کو بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں الگ طریقہ کار ہے اور یہاں سیاسی مداخلت کے بغیر گزارا نہیں ہے، جو کہ بلکل غلط ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ساری دنیا میں پولیس میں سیاسی مداخلت کو ختم کر کے آزاد محکمہ بنایا گیا ہے۔ جب تک ہم وہ چیز یہاں نہیں لائیں گے، تب تک بات آگے نہیں چلے گی۔‘

پولیس اور بیوروکریسی کے اختلافات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایک سروس گروپ چاہتا ہے کہ وہ ہر چیز پر قابض رہے اور کوئی بھی محکمہ مکمل آزاد نا ہو جائے جس سے ان کا عمل دخل ختم ہو جائے۔

’پولیس چاہتی ہے کہ محکمے کو بالکل بیوروکریٹک کنٹرول سے آزاد کیا جائے۔ اگر پولیس کے محکمے پر کنٹرول رکھنا ہے تو وہ جمہوری کنٹرول ہونا چاہیے، جس میں سیاسی لوگ بھی ہوں اور سول سوسائٹی سے لوگ بھی شامل ہوں۔‘

سابق آئی جی کے مطابق خیبر پختونخواہ کی حکومت قوانین میں بہتری لانا چاہتی تھی جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے بالکل ایک نیا سسٹم لایا گیا ہے جس کی وجہ سے ’ہم واپس 1861 کے دور میں چلے جائیں گے جس سے ہم نے جان چھڑوائی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ 2002 میں مشرف دور میں بھی پولیس کو ناظمین کے ماتحت نہیں کیا گیا تھا۔ ’تب بھی ناظمین کو کہا گیا تھا وہ اپنے ضلع میں امن و امان کے ذمہ دار ہوں گے۔ اگر کوئی امن و امان کا کوئی مسئلہ ہو جاتا تھا تو ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ 144 لگا سکیں، وہ بھی دو دن کے لیے یا کسی کو آرڈینیشن کے لیے وہ میٹنگ بلا سکتے تھے۔‘

یاد رہے کہ وفاقی سطح پر پولیس اصلاحات، قانون سازی، اور کابینہ کے فیصلوں کے لیے پنجاب کو 30 ستمبر کی ڈیڈلائن دی گئی تھی۔

پیر کی شام وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پنجاب پولیس اصلاحات کے حوالے سے اجلاس طلب کر رکھا ہے جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، اعلیٰ پولیس افسران سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10154 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp