یہ خاموشی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بظاہر ہر طرف خاموشی ہے۔ ایسے ہی جیسے طوفان کے کسی بڑے تھپیڑے کےبعد کوئی تباہ حال مڑ کر اپنا خانہ خراب حسرت بھری آبدیدہ کن اکھیوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ترقی کی منزل کو پانے کی جستجو میں تبدیلی لائے، برداشت کیا اور اب معاملہ سرخ لکیر پار کر رہا ہے۔ بظاہر مکمل خاموشی ہے، کوئی اجتماعی ردعمل ہے نہ سڑکوں پر احتجاج۔ ہاں ایک بات ہے سب تبدیلی کا بھیانک منظر دیکھ کر کچھ ایسےسہمے ہوئے ضرور ہیں کہ جیسے تبدیلی کی تمنا کے خواب سے بھی اب ڈر رہے ہوں۔۔۔۔!

افسوس محض ایک سال میں غیر مقبولیت کے ریکارڈ توڑنے والے حکمرانوں کے ہر فیصلہ پر گہرے سوالیہ نشان پڑ چکے ہیں، شومئی قسمت کہ گژشتہ کرپٹ جمہوری ادوار نے عوام کو لاچار کر کے نیا مسیحا ڈھونڈنے پر مجبور کیا لیکن انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ کھلاڑی تو کھلاڑی ہوتا ہے، کبھی اچھا کھیلتا ہے اور کبھی برا۔۔۔ کبھی اچھی پرفارمنس پر لوگ داد دیتے ہیں تو کبھی بری کارکردگی پر سخت تنقید برداشت کرنا پڑتی ہے، لیکن جانے کیوں وہ کپتان کی ٹیم کی پہلے سال کی پرفارمنس پر اتنےمایوس، پریشان، بدحال اور غیریقینی صورتحال پر کیوں نوحہ کناں ہیں۔ ان نصیب ماروں پر ہمارے پروفیسر ہمیشہ ایسا ہی جذباتی تبصرہ کرتے ہیں لیکن شاید بھول جاتے ہیں کہ یہ نیا پاکستان ہے، پھر اقتدار کی غلام گردشوں کے رویوں کو دوش دیتے ہیں تو کبھی اس مقدس سرزمین کے باسیوں سےگلہ کرتے ہیں گویا سب کچھ ہی بول دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ یہ سب بولنے پر پابندی ہے۔

کہتے چلے جاتے ہیں کہ روٹی سے لے کر ہر ضرورت کی شے کی خریداری قوت خرید سے دور ہٹ چکی۔ تعلیم، صحت کے بجٹ کو کم کر کے یونیورسٹیوں کی گرانٹ اور اسکالرز کے مشاعرے بند کر دیے گئے ہیں، میڈیا مہربلب ہے، دس لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ درجنوں فیکٹریاں اور کارخانے پہلے ہی بند تھے اور جو چل رہے تھے وہ بھی اپنا بزنس سمیٹ کر بیرون ملک جا چکے ہیں۔ بنک خزانوں سے خالی ہو چکے ہیں لیکن بظاہر خاموشی ہے۔۔!

احتساب کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ سیاست دان، بزنس کمیونٹی اور بیوروکریٹس ہر ایک خود کو اپنے آپ سے بھی چھپاتا اور پکڑدھکڑ سے گھبراتا پھرتا ہے- کوئی پہلی سی حرکتیں کر رہا ہے نہ بیان دے رہا ہے لیکن طاقتور شکنجے میں پھنستا جا رہا ہے۔ ملک اور عوام کے معیار زندگی کو بلندیوں پر لے جانے کے دعوؤں کے ساتھ ایک سال تو گزر چکا ہے۔ نہ ترقی کی پہلی منزل آئی اور نہ اربوں کھربوں لوٹ مار کرنےوالے کسی بڑے نام کو سخت سزا اور نہ ہی خزانے میں لٹی قومی دولت کا ایک روپیہ واپس آیا۔ تاہم امید قائم ہے۔

ویسے تو سونامی کی تباہی و بربادی کے دلخراش نظارے ملک کے ہر حصے، ہر شعبے اور ہر شخص کے چہرے پر دکھائی دے رہے ہیں لیکن سب سے زیادہ متاثر ملک کا سب سے زیادہ ریسورس فل اور بڑی آبادی والا صوبہ پنجاب ہوا ہے جہاں وسیم اکرم پلس نے اپنی تباہ کن باؤلنگ سے ہر شعبے کو ہٹ وکٹ کر دیا ہے۔ محرومی کی بنیاد پر اقتدار کا تاج پہننے والے نے پورے پنجاب کو محض ایک سال میں محرومیوں کی چوٹی پر پہنچا دیا ہے۔ عوام پر جو بھی گزرے مگر ہٹ دھرمی اور نااہلی سے فائدہ اٹھانے والے اتحادی اور بڑے بابو ہیں۔ اپنی نااہلی کی تباہی مچانے والے کی تبدیلی کے مطالبہ پر طاقتوروں کے دانت بھی ابھی تک کھٹے ہیں۔ کپتان اپنے غیرمعمولی فیصلہ پر ڈٹا ہے کہ اس کو اپنےگھر کی بھی فکر ہے۔ اس کو تو اس بات کی بھی پروا نہیں کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان شیشےجیسے نازک تعلقات میں یہی معاملہ بد اعتمادی کی باریک لائین آنے کا سبب بن چکا ہے۔۔۔

پروفیسر صاحب یہ سب فرما کر پہلو بدلتے مایوس ہو کر مزید بولتے ہیں کہ پھر بھی خاموشی ہے۔۔۔! تاریک راتوں میں روشن کمین گاہوں کے مہمان صبح کی پو پھٹنے تک محفلوں کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ بظاہر خاموشی تو ہے لیکن اندرون خانہ بہت کچھ بھی چل رہا ہے، ایک حالیہ اہم ترین خفیہ ملاقات میں تمام اپوزیشن اور ان کے ہمدردوں کو ملکی اور عالمی حالات کے تناظر میں احتیاط کا دامن نہ چھوڑنے کی تلقین کر دی گئی ہے جس کے بعد پیغام بڑوں تک پہنچانے کے نتائج سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں، جذباتی اور بپھرے ہوئے مولانا اب کسی بھی ادارے سے نہ ٹکرانے اور کسی غیرمعینہ بڑے احتجاجی دھرنے کی دھمکی کی بجائے محض پرامن مارچ تک محدود رہنے کی یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ بیٹا ابو کی ہدایت پر پریس کانفرنس کر کے دھرنے اور حکومت خاتمے کے محاذ سے اعلان لاتعلقی کر چکا ہے۔ چھوٹے بھائی اور مفاہمت کے حامی خصوصی اجازت پر بڑے بھائی سے ملاقات کر کےحالات کی سنگینی کو کھول کر رکھ چکے ہیں۔ چھوٹے بھائی مولانا کو تاریخ پر تاریخ دے کر ٹالنے کی مقدور بھر کوششوں پر کاربند ہیں۔

پروفیسر صاحب فکر انگیز ہو کر زور دیتے ہیں کہ کوئی کچھ بھی کہے، اہم ملاقات کے بعد بھی بڑے میاں ابھی تک چھوٹے بھائی کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے کو تیار نہیں ہیں بلکہ کھری کھری سنا بھی رہے ہیں کہ افطار کا وقت قریب ہے اور وہ اس سے پہلے کسی بھی مجبوری پر روزہ توڑنے کو تیار نہیں، کیونکہ ڈیل ہونے اور نہ ہونے کی صورت میں فائدہ اٹھانے والے شریف برادران ہی ہوں گے۔ لیکن بظاہر خاموشی رکھ کر گڈ کاپ اور بیڈ کاپ کی گیم آن رکھنا ہی بہتر حکمت عملی ہے۔

پروفیسر صاحب سے اجازت چاہی تو کھڑکی سےباہر دھوپ کی تمازت کا مزہ لیتے ہوئے کچھ دیر رکنے کےاصرار کے ساتھ بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ہر دور میں بازی گر طاقتوروں کے ساتھیوں کے اطمینان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ خاموشی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ضرور ہے کیونکہ اندرونی اور بیرونی حالات کی سنگینی کپتان کی تبدیلی کا جواز بن سکتی ہے تاہم یہ کسی بھی طور آسان نہیں ہوگا۔ مولانا کو اسلام آباد بٹھا کر موثر استعمال اور ضد کے ساتھ تھوڑی سی بے احتیاطی بازی پلٹنے اور گیم طاقتوروں کے ہاتھ سے نکلنے کا سبب بن بھی سکتی ہے۔

ضد میں آکر کپتان ڈٹ گیا تو طاقتوروں نے نظام کو طے شدہ ڈگر پر چلانے کا انتظام بھی مکمل کر لیا ہے۔ پنجاب اور کے پی کے بڑوں سمیت وفاقی کابینہ اور بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ طے شدہ ہے۔ ایک سال میں “عوامی خدمت“ کےنام پر لوٹ مچانے والے وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کے بڑے بڑے سکینڈلز کا ریکارڈ تیار ہے۔ میڈیا کی زباں بندی کے بعد اگلا ہدف اب الیکٹرانک و سوشل میڈیا کو چپ کرانے اور گستاخوں کو اندر کرنے کا فارمولا اور قانون بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ پروفیسر صاحب نے بیرونی دروازے پر رخصت کرتے ہوئے خدا حافظ کہنے سے پہلے آخری جملہ بولا۔ پہلے چھ ماہ اور اس کےبعد چھ ماہ کی توسیع کے بعد اب ہر صورت واضح سمت کا تعین ضروری ہو چکا ہے۔ اب کی بار ناکامی کی صورت میں خاموشی کا بند زور سے ٹوٹے گا، پھر ایک اور تبدیلی کا طوفان راج کرے گا۔۔۔!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آصف علی بھٹی کی دیگر تحریریں
آصف علی بھٹی کی دیگر تحریریں