پولیس نظام اس دور میں ٹھیک ہو سکے گا ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیس میں اصلاحات عمران خان کی انتخابی مہم کا اہم ترین نعرہ تھا۔ خیبر پختونخوا میں اپنے پہلے پانچ سالوں میں انہوں نے تھوڑا بہت کام اس حوالے سے کیا بھی لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد اب تک پولیس اصلاحات ان کے نزدیک وہ اہمیت حاصل نہیں کر سکیں جتنی الیکشن مہم کے دوران انہیں حاصل تھی۔ خیبر پختونخوا کے سابق آئی جی ناصر درانی کو پنجاب پولیس میں اصلاحات کے لیے وزیر اعلیٰ کا مشیر لگایا گیا مگر انہوں نے جوتیوں میں دال بٹتی دیکھی تو عزت سے الگ ہو کر گھر بیٹھ گئے۔ ان کے جانے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کھل کھیلی۔
اس نے پولیس میں سیاسی مداخلت کے چور دروازے کو کشادہ شاہراہ میں بدل دیا اور پنجاب بھر کے تھانوں میں صرف انہی لوگوں کو ایس ایچ او لگایا‘ جنہیں تحریک انصاف کے کسی رکن اسمبلی یا ٹکٹ ہولڈر (شکست یافتہ امیدوار) کی حمایت حاصل تھی۔ ذرا ذرا سی بات پر ڈی پی او بدلے، حتیٰ کہ صوبے کے آئی جی کو بدلنے میں بھی کبھی تامل نہیں کیا۔
اصلاح تو تحریک انصاف والوں سے کیا ہونی تھی؛ البتہ پولیس کو برباد تر کرنے میں انہوں نے جس خشوع و خضوع سے کام لیا، وہ بیان سے باہر ہے۔ اب اپنے ‘بندوں‘ کے ہاتھوں خدا کے بندے بے گناہ مرنے لگے تو اصلاحات کا غلغلہ دوبارہ اٹھا ہے۔ وزیر اعظم کی منطور کردہ اصلاحات کا جو مسودہ اب تک سامنے آیا ہے، اس میں کوئی ایک نکتہ ایسا نہیں جس پر اصلاح کا گمان بھی گزرے۔ لا یعنی انداز میں بے تُکے اقدامات ہیں جو بیوروکریسی کے ڈی ایم جی گروپ کے کسی ایسے شخص نے تجویز کیے ہیں‘ جسے پولیس کا علم ہے نہ اس کے مسائل کا۔
اسے بس یہ پتا ہے کہ اپنے سروس گروپ کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو کیسے بچانا ہے۔ ان اصلاحات کے خلاف پولیس افسروں نے جو دلائل رقم فرمائے ہیں‘ وہ بھی الا ماشااللہ ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان سر پیٹ لے۔ ان دلائل میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ ”ہمیں نہ چھیڑنا ورنہ ہم رو دیں گے‘‘۔ ان اصلاحات اور ان کے خلاف پولیس کی مزاحمت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ تجویز کنندگان یا تنقید کنندگان میں سے کسی ایک نے بھی سنجیدہ اصلاح کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ٹریڈ یونین کے انداز میں اپنے اپنے گروہی مفادات کا تحفظ ہی کیا ہے۔ کاش وزیر اعظم کسی غیر جانبدار شخص کو اتنا ہی کہہ دیتے کہ ذرا گوگل (google)سے دیکھ کر بتا دو کہ ترقی یافتہ ملکوں میں پولیس کا محکمہ کن خطوط پر استوار ہوتا ہے، تو یقین جانیے تجویز کردہ اصلاحات با معنی ہوتیں۔
وزیر اعظم کی اس بات سے اصولی طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پولیس میں اصلاحات کی ضرورت ہے مگر اس کے مسائل کیا ہیں، اس بارے میں سوچ بچار انہوں نے کی ہے نہ ان کے ارد گرد کوئی ایسا شخص ہے جو پاکستان میں گورننس اور پولیس کے تعلق کو سمجھ سکے۔ انہیں یہ بتانے والا کوئی نہیں ہے کہ پولیس کی تباہی کی بنیادی وجوہات اس پر نگرانی کے طریقہ کار کی کمزوری نہیں بلکہ پولیس کے نظام کے داخلی نقائص ہیں جو اسے پاتال میں لیے جا رہے ہیں۔ اس میں پولیس سروس آف پاکستان کے ذریعے براہ راست اے ایس پی بھرتی ہونے والے اور دیگر طریقوں سے بھرتی ہونے والوں کے درمیان خوفناک اختلاف پایا جاتا ہے۔
پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) سے تعلق رکھنے والے افسروں کے رویے عام پولیس والوں کے نزدیک قابل نفرت ہیں۔ کہنے کو نیچے سے ترقی پا کر آنے والا ڈی ایس پی اور براہ راست بھرتی ہونے والا اے ایس پی برابر ہیں۔ لیکن اعلیٰ عہدوں پر پی ایس پی کا قبضہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ برہمن ہیں اور باقی پولیس والے اچھوت۔ پی ایس پی والے ذمہ داری لیے بغیر ڈنڈا چلاتے ہیں اور جو پی ایس پی نہیں وہ جی حضوری کر کے رشوت اور ظلم و ستم کا بازار گرم رکھتے ہیں۔ اگر یہ پی ایس پی کا بِلّا لگانے والے اتنے ہی سیانے ہوتے تو آج پولیس کی یہ حالت نہ ہوتی کہ انہیں بھی نوکری کے لالے پڑے ہوتے۔
جناب وزیر اعظم اگر واقعی پولیس میں اصلاحات کے لیے سنجیدہ ہوتے تو کوئی افسر لچھے دار انگریزی کے ذریعے اپنے مفادات کے تابع نہ کر پاتا بلکہ انہیں پتا ہوتا کہ پہلی اصلاح پولیس کے بھرتی کے نظام میں ہونی چاہیے۔ لندن پولیس کی مثال ہی لے لیجیے جہاں پولیس میں بھرتی کا صرف ایک طریقہ ہے یعنی کانسٹیبل۔ کانسٹیبل ہی ترقی کرتے کرتے پولیس کا سربراہ بن جاتا ہے۔ یہی طریقہ دنیا کے تقریباً سبھی ترقی یافتہ ملکوں میں رائج ہے۔ کچھ ملکوں میں ہماری فوج کی طرح دو سطح پر بھرتی ہوتی ہے یعنی سپاہی اور کمیشنڈ افسر۔ سپاہی ترقی پاکر نان کمیشنڈ افسر بنتا ہے اور کمیشنڈ افسر اگر اچھا ہو تو جنرل بھی بن جاتا ہے۔
پاکستان میں اگر پولیس میں واقعی کوئی اصلاح کرنی ہے تو پہلا کام یہی ہے، یعنی پولیس میں داخلے کے صرف دو راستے ہوں، سپاہی یا اے ایس آئی۔ سپاہی کے لیے بھی سہولت پیدا کی جائے کہ وہ محنت اور پیشہ ورانہ امتحان کے ذریعے اے ایس آئی کا عہدہ حاصل کر سکے۔ براہ راست اے ایس پی، انسپکٹر اور سب انسپکٹر کی بھرتی کا ڈرامہ بند کیا جائے تاکہ سپاہی کے لیے بھی یہ راستہ کھل جائے کہ وہ ایک دن پولیس کے اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچ جائے گا۔
سپاہی کے لیے خالصتاً جسمانی صلاحیت معیار ہو اور اے ایس آئی کے لیے فوج میں کمیشن لینے کے امتحان جیسا کوئی طریق کار وضع کیا جائے جس میں ملازمت کے امیدوار کے کردار، تعلیمی قابلیت، ذہانت اور عمومی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد پولیس قطعی طور پر صوبائی معاملہ ہے‘ اس لیے پولیس افسروں کی بھرتی کے نظام میں سے وفاقی پبلک سروس کمیشن کا کردار ختم کرنا چاہیے اور یہ کام صوبائی پبلک سروس کمیشن کے سپرد کرنا چاہیے۔ صوبائی پبلک سروس کمیشن ہر کامیاب امیدوارکو اس کے آبائی ڈویژن میں بھیجے اور بعد میں اس کے لیے صوبائی یا مرکزی سطح پر تربیت کا انتظام بھی کروائے۔
جناب وزیر اعظم پولیس میں جو دوسری بنیادی اصلاح کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس کا صوبائی کردار ختم کر کے علاقائی کردار دیا جائے۔ اگر پاکستان کے مخصوص حالات میں کمیونٹی پولیس کا تصور مکمل طور پر نہیں اپنایا جا سکتا تو پھر اسے ڈویژن کی سطح پر تو ضرور لے جایا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس ڈویژن میں کوئی بھرتی ہو وہ وہیں پر نوکری کا اختتام کرے۔ اس طرح پولیس والوں کو اپنے علاقوں کا اچھی طرح علم ہو گا اور وہ لوگوں کی نفسیات سے بھی خوب واقف ہوں گے۔ ان کا یہی تجربہ جرائم کی روک تھام میں مددگار ہو گا۔ ان کا چیف بھی انہی میں سے آئے گا اور ڈویژنل پولیس کے سربراہ کو آئی جی کہنے یا بنانے کی ضرورت نہیں‘ اسے سادہ پولیس چیف ہی کہیں۔
ہر ڈویژن میں پولیس کی نگرانی کا خود مختار بورڈ بنایا جائے‘ جس میں ڈویژن میں آنے والے اضلاع اور شہروں کے میئرز، سیشن جج، ریٹائرڈ پولیس افسر اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ہوں۔ یہ بورڈ پولیس کی سختیوں کی روک تھام بھی کرے اور ترقی کے قواعد بھی بنائے۔ یہ حالت نہ ہو کہ انیس سو پچانوے میں بھرتی ہونے والا انسپکٹر ابھی تک ڈی ایس پی ہو اور دو ہزار دس میں بھرتی ہونے والا اے ایس پی کہیں آگے نکل جائے۔ ہر ڈویژن کا پولیس چیف براہ راست وزیر اعلیٰ کو بھی جوابدہ ہو اور ضرورت کے وقت اسے اسمبلی میں بھی طلب کیا جا سکے۔
ان دو اصلاحات پر پہلا اعتراض پی ایس پی کی طرف سے آئے گا۔ ان سے متاثر ہونے والے افسروں کو موجودہ عہدوں اور مراعات کے ساتھ ان کے من پسند ڈویژن میں بھیجا جائے تاکہ ان کی ترقی کے امکانات بھی مسدود نہ ہوں اور ان کے اطمینان کے لیے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اگلے کئی سال تک ڈویژنل پولیس چیف انہی میں سے آتے رہیں گے۔ وزیر اعظم اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اپنی سیاسی حمایت کے زور پر پولیس میں یہ اصلاحات کر سکتے ہیں۔ اگر وہ یہ کام کر گزرے تو سندھ اور بلوچستان خود پیچھے چلیں گے۔ یہی اصلاحات ہیں جو واقعی پولیس کے ظالمانہ رویے کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ ورنہ اصلاحات کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف لیپا پوتی ہے۔ لیپا پوتی جتنی چاہیں کر لیں، نظام ٹھیک نہیں ہو گا‘ آپ کا وقت ختم ہو جائے گا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •