فیصل آڈیٹوریم، ذوالفقار علی بھٹو سے فاروق حیدر تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1988-89 کے ”انتفاضہ‘‘ کے ساتھ، کشمیر کا ذکر یواین سیکرٹری جنرل کی سالانہ رپورٹ میں ایک ”فلیش پوائنٹ‘‘ کے طور پر ہونے لگا۔ 1999 (ایٹمی دھماکوں) کے بعد یہ ”نیوکلیئر فلیش پوائنٹ‘‘ ہو گیا، وزیر اعظم مودی کے 5 اگست کے جارحانہ اقدام نے جسے سنگین تر بنا دیا ہے۔ وقت کے سلگتے ہوئے مسئلے پر قومی کانفرنس کا انعقاد پنجاب یونیورسٹی فیصل آڈیٹوریم میں ایک اور تاریخی واقعہ تھا۔
فیصل آڈیٹوریم کتنی ہی تاریخی یادوں کا امین ہے۔ یہاں ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق اور سید مودودیؒ کے خطابات، بہت سوں کو آج بھی یاد ہیں۔ 16 دسمبر 1971 (سقوطِ ڈھاکہ) کے بعد ”نئے پاکستان‘‘ میں ذوالفقار علی بھٹو نے ٹیک اوور کیا۔ ملک نیا نیا ٹوٹا تھا، جنگ بندی ہو چکی تھی لیکن مغربی محاذ پر فوجیں موجود تھیں (اِدھر بھی 5000 مربع میل علاقہ دشمن کے قبضے میں تھے) اُدھر پاکستان کے 93 ہزار جنگی قیدی، دشمن کی حراست میں تھے (ناقدین اس سنگین المیے کے بنیادی کرداروں میں بھٹو صاحب کو بھی شمار کرتے) ذہین و فطین سیاستدان کو صورتِ احوال کی نزاکت کا احساس تھا؛ چنانچہ اس نے اربابِ علم و دانش اور اصحابِ ادب و صحافت سے ”وسیع تر مکالمے‘‘ کا اہتمام کیا جس کے لیے پنجاب یونیورسٹی کے آڈیٹوریم کا انتخاب ہوا۔
پہلی قطار اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے لیے تھی۔ ان میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مولوی مشتاق حسین بھی تھے، جنہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے زیر عتاب اور زیر حراست بھٹو کو (تمام تر سرکاری دبائو کے باوجود) عدالتی ریلیف دیا تھا۔ بھٹو صاحب کی نظر پڑی تو رکے اور ضروری آداب کے ساتھ ان سے مصافحہ کیا۔ (انہی کی زیر قیادت، لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے 1978 میں بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا سنائی تھی)
کہنے کو یہ ”ڈائیلاگ‘‘ کا اہتمام تھا لیکن عملاً یہ ”مونولاگ‘‘ بن گیا تھا۔ بھٹو صاحب نے چند روز قبل ملک کی بنیادی صنعتوں کو (مالکان کو ایک پیسہ ادا کئے بغیر) قومیا لیا تھا (میاں محمد شریف اور ان کے بھائیوں کی ”اتفاق‘‘ بھی ان میں شامل تھی) صنعت کار (اور سرمایہ دار) اپنی بچی کھچی پونجی بیرون ملک منتقل کر رہے تھے۔ اپنے خطاب میں بھٹو نے پیشکش کی کہ وہ اپنا سرمایہ واپس لے آئیں‘ انہیں (اور ان کے سرمائے کو) کچھ نہیں کہا جائے گا۔
ترقی پسند اخبار نویس حسین نقی کے نوجوان خون نے جوش مارا، ”آپ تو کہتے تھے یہ عوام کا (لوٹا ہوا) پیسہ ہے جسے یہ لوگ باہر لے گئے، اسے واپس لا کر ضبط کرنے (اور ان لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کی بجائے) آپ تحفظ کی یقین دہانی کرا رہے ہیں‘‘۔ بھٹو صاحب چیخے ”نقی! تم ہمیشہ میری مخالفت کرتے ہو‘‘۔ اس کے ساتھ ہی مسرور حسن خان (ہوم سیکرٹری) اور سردار عبدالوکیل خاں (ایس ایس پی سپیشل برانچ) حسین نقی کی طرف بڑھے، گورنر غلام مصطفیٰ کھر بھی آستینیں چڑھاتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔ بھٹو صاحب نے معاملہ بگڑتے دیکھا تو کہا، بیٹھ جائو، نقی میرا دوست ہے۔ اس شام (اور شب) نقی صاحب پر کیا بیتی؟ وہ ایک الگ کہانی ہے (سید مودودیؒ اور جنرل ضیاء الحق کی فیصل آڈیٹوریم آمد کی کہانیاں، پھر سہی)۔
فیصل آڈیٹوریم میں قومی کشمیر کانفرنس کے عنوان سے اس تقریب کا (مشترکہ) اہتمام، یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن، الطاف حسن قریشی صاحب کے ”پائنا‘‘ اور متحدہ علماء کونسل نے کیا تھا۔ آزاد کشمیر میں دو تہائی سے بھی زائد اکثریت کے حامل مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم سردار فاروق حیدر مہمانِ خصوصی تھے۔ وہ ایک دن قبل لاہور پہنچ گئے تھے۔ اس شام انہوں نے ”دنیا نیوز‘‘ میں جنابِ شامی (اور جامی) کے پروگرام ”نقطۂ نظر‘‘ میں شرکت کی۔ شامی صاحب کے ہاں عشائیہ میں مہمانوں کی تعداد چالیس سے کم کیا ہو گی، یہ سب میڈیا پرسنز تھے، بزرگ بھی اور نوجوان بھی۔ بے تکلفانہ نشست دو گھنٹے سے زائد جاری رہی۔
نواز شریف سے وفاداری کا دم بھرنے والی مظفر آباد حکومت اور ”اسلام آباد‘‘ میں ورکنگ ریلیشن شپ کا کوئی مسئلہ نہیں۔ فاروق حیدر نے یہاں دلچسپ بات بتائی، وزیر اعظم عمران خان سے پہلی ملاقات کے آغاز ہی میں انہوں نے کہہ دیا تھا کہ ”میری طبیعت بھی آپ جیسی ہی ہے‘‘۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سفارتی محاذ پر اسلام آباد اور مظفر آباد میں کوئی ربط و ضبط نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف 2016 میں ہماری حکومت بننے کے بعد مظفر آباد آئے تو انہوں نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے متعلق ہم سے بھی صلاح مشورہ کیا تھا۔ ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ”خود مختار کشمیر‘‘ کے نعروں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، کنٹرول لائن کے دونوں طرف ان لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ انہوں نے دلائل کا انبار لگا دیا کہ کشمیریوں کے لیے پاکستان کے سوا کوئی آپشن ہی نہیں۔
کشمیری لیڈر کے خیر مقدم کے لیے کینال روڈ پر آزاد کشمیر کے جھنڈوں کی بہار تھی۔ ادھر یونیورسٹی کے اندر کشمیری بھائیوں سے اظہار یک جہتی کے مختلف مظاہر اور مناظر تھے۔ فیصل آڈیٹوریم میں جذبوں کی اپنی کیفیت تھی۔ کانفرنس کے آغاز سے بہت پہلے آڈیٹوریم لبالب بھر گیا تھا۔ جنہیں نشستیں نہ ملیں، وہ دیواروں کے ساتھ چپک گئے۔ مہمانِِ معظم کی آمد پر نعروں کا وہ طوفان تھا، جیسے پُر جوش طلبا و طالبات اپنی آواز مظفر آباد سے بھی آگے سری نگر تک اور اِدھر واہگہ کے پار دہلی تک پہنچانا چاہتے ہوں۔ ملک کی عظیم اور قدیم جامعہ کی عظمتِ رفتہ کی بازیابی کا خواب دیکھنے والے، شیخ الجامعہ ڈاکٹر نیاز احمد نے کرسیٔ صدارت سنبھالی۔
اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ممتاز انور کا کہنا تھا، پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا و طالبات حالات کا دھارا بدل دیں گے، مودی فسطائیت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے۔ جناب الطاف حسن قریشی کہہ رہے تھے، ہوسٹن میں صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی جس طرح شیر و شکر ہوئے اور جن مشترکہ عزائم کا اعلان کیا، وہ پاکستان کی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کے متقاضی ہیں۔
بھارت کے خلاف، خود بھارت کے اندر جنگ لڑنے کے لیے فسطائیت کی مخالف شخصیتوں اور تنظیموں سے تعلقات قائم کئے جائیں۔ سرینگر سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر فرزانہ نذیر، 5 اگست کے اقدام کو مودی کا خود کش حملہ قرار دے رہی تھیں۔ خارجہ امور پر گہری نظر رکھنے والے محمد مہدی کا کہنا تھا، پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کی وجہ سے مودی کو 5 اگست کے اقدام کی ہمت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا، وزیر اعظم پاکستان کو کشمیری قیادت کو بھی اپنے ساتھ اقوام متحدہ میں لے جانا چاہیے تھا۔ صاحب فکر و نظر مفتی منیب الرحمن نے کشمیریوں کی مؤثر مدد کے لیے پاکستان میں سیاسی و معاشی استحکام کو ناگزیر قرار دیا۔
جناب مجیب الرحمن شامی کی اس تجویز (یا مطالبے) کی تائید میں آڈیٹوریم تالیوں سے گونج اٹھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کشمیر پر خصوصی ایکشن کمیٹی قائم کی جائے جس میں وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور وزیر اعظم گلگت بلتستان کے ساتھ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی شامل ہو۔ جماعت اسلامی کے آزاد کشمیر کے لیڈر جناب عبدالرشید ترابی کا کہنا تھا‘ دشمن کی مسلط کردہ اس جنگ کو ہم جیت کر دکھائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری اپنے دورِ طالب علمی کی ان تحریکوں کو یاد کر رہے تھے‘ جو پنجاب یونیورسٹی سے اٹھیں اور کامیابی سے ہم کنار ہوئیں، انہیں شامی صاحب کی ”آل پارٹیز ایکشن کمیٹی‘‘ کی تجویز سے مکمل اتفاق تھا۔ پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے ”پہلے اپنے گھر کو درست کرنے‘‘ پر زور دیا۔
جناب سردار فارق حیدر کہہ رہے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں پاکستان اور کشمیر کے لیے خیر نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا، پاکستان کشمیری لیڈرشپ کو ”فرنٹ لائن‘‘ پر لائے، اور خود پیچھے رہ کر اسے مکمل سیاسی و سفارتی امداد مہیا کرے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کا خطبہ صدارت ہوش اور جوش کا شاندار امتزاج تھا۔ ان کا کہنا تھا، وزیر اعظم عمران خان نے کنٹرول لائن پار کرنے کے لیے اپنی کال کا انتظار کرنے کو کہا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا و طالبات اس کال کے منتظر ہیں۔
سردار فاروق حیدر، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے ہاں ظہرانے کے بعد نکل رہے تھے کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد وہ لاہور میں اپنے باقی ماندہ پروگرام ملتوی کر کے، آزاد کشمیر روانہ ہو گئے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •