اگر دیس کچھ تھوڑا سا بدل سکے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دفاع پہ ہم نے بہت دھیان دیا اور اب ہمارا دفاع مضبوط ہے۔ اچھی خاصی فوج ہے، لڑاکا جہاز ہیں، بحریہ کے پاس بھی بہت کچھ ہے۔ کروز میزائل بنانے کی صلاحیت ہم رکھتے ہیں۔ بڑے میزائل بھی ہم نے بنا لیے اور ایٹمی صلاحیت بھی ہے۔ اور کیا چاہیے؟ اتنا کچھ ہوتے ہوئے بھی ہمیں کھٹکے لگے رہیں تو اس کا کوئی علاج نہیں۔

اس لیے اپنے پہ کچھ اعتماد ہونا چاہیے اور بات بات پہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ ہندوستان کے عزائم خطرناک ہیں۔ پاکستان کوئی آسان نوالہ نہیں کہ کوئی بھی آ کے چبا جائے۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ہندوستان کا اگلا ہدف آزاد کشمیر ہے‘ اس سے بڑھ کر فضول بات کوئی نہیں۔ ہندوستان کو ہم فتح نہیں کر سکتے اور ہندوستان بھی ہم پہ چڑھائی نہیں کر سکتا۔ 1971ء کے معاملات اور تھے۔ وہ قصہ ہی اور تھا اور ہندوستانی برتری سے زیادہ ہماری اپنی غلطیاں تھیں۔ لہٰذا اب خواہ مخواہ کی جارحانہ باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

یہ جو ہماری عادت بن چکی ہے کہ وقت بے وقت ایٹمی طاقت ہونے کا حوالہ دیتے ہیں بہت ہی فضول ہے۔ ٹی وی پہ بیٹھے سن سن کے کان پک چکے ہیں کہ دو نیوکلیئر طاقتیں آمنے سامنے ہیں اور دنیا کو اس خطرے کا نوٹس لینا چاہیے۔ کیا بیکار کی بات ہے۔ اسرائیل سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ وہ بھی ایٹمی قوت ہے۔ اچھا خاصا ایٹمی ذخیرہ بنا لیا ہے لیکن وہاں ایک غیر تحریر شدہ اصول ہے کہ نیوکلیئر صلاحیت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرے گا۔ چاہے کوئی حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں نیوکلیئر طاقت ہونے کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ ہمارے ہاں جس نے کبھی پستول نہ چلایا ہو ایٹمی ہتھیاروں کی بات کرتا ہے۔ ہمیں تھوڑا سا اب میچور ہو جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے اپنی شاندار تقریر میں وزیر اعظم عمران خان ایک بات غلط کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہم سے سات گنا بڑا ملک ہے اور اگر جنگ ہوئی اور پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ گیا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا اشارہ تھا کہ تب ہم اپنی ایٹمی قوت بھی بروئے کار لا سکتے ہیں۔ اِنہیں یہ کس نے بتایا ہے کہ کسی حریف کے مقابل میں ملک چھوٹا ہو تو وہ اپنا دفاع نہیں کر سکتا؟ 1940ء کی فن لینڈ اور روس کے درمیان جنگ کا کچھ مطالعہ کر لینا چاہیے۔ سٹالن نے فن لینڈ پہ بھرپور حملہ کیا۔

عددی قوت ظاہر ہے روس کے حق میں تھی لیکن فن لینڈ کی فوج نے مارشل مینر ہائم (Marshal Mannerheim) کی کمان میں روسیوں کو دن میں تارے دکھا دئیے تھے۔ ایسا دفاع کیا کہ اُس کی مثال دی جاتی ہے۔ آخر میں عددی قوت کے زور پر روس کا پلڑا بھاری رہا لیکن روس نے جو کچھ بھی حاصل کیا آسانی سے نہ کیا۔ 1978ء میں چین نے ویت نام پہ حملہ کیا۔ سب مانتے ہیں کہ ویت نام نے اپنے حریف کو مزا چکھا دیا۔ چینی قیادت سمجھدار تھی۔ حملہ کیا اور پھر فوجیں واپس بلا لیں لیکن اچھا خاصا نقصان اٹھانے کے بعد۔ تازہ مثال یمن میں دیکھی جا سکتی ہے۔

حوثیوں کے پاس کیا ہے؟ سارا سازوسامان، توپ وتفنگ، دوسری طرف ہے۔ لیکن چار سال ہو گئے اور حوثی اپنے حریفوں کو جنگ لڑنے کا سبق سکھا رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے صحیح کہا کہ سکیورٹی خریدی نہیں جا سکتی۔ تو ہمارے وزیر اعظم نے یہ بات کہاں سے کر دی کہ حملے کی صورت میں ہماری فوج شاید اس پوزیشن میں آ جائے کہ اُسے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پڑیں؟ گئی گزری فوج نہیں ہے۔ حملے کی صورت میں کسی بھی صورت حال کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

یہ تو کمزوری اور بزدلی کی باتیں ہیں کہ ہمیں ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کرنے پڑ سکتے ہیں۔ عددی اعتبار سے ہماری فوج چھوٹی نہیں۔ ٹینکوں اور توپوں کے حوالے سے ہم ہندوستان کے تقریباً برابر ہیں۔ تو ایٹمی رد عمل کی بات چھیڑنے کی کیا ضرورت پڑ جاتی ہے؟ ایک اور مثال تو بھول ہی گیا۔ 2006ء میں اسرائیل نے لبنان پہ حملہ کیا اور اُس کے مدِ مقابل کوئی باقاعدہ فوج نہ تھی صرف حزب اللہ تنظیم۔ حزب اللہ کے پاس کوئی ہوائی جہاز نہیں ہیں، کوئی ٹینک نہیں لیکن اُس نے اسرائیلی فوج کے قدم روک دئیے۔ ایسی باتیں ہمیں نہیں کرنی چاہئیں، زیب نہیں دیتیں۔ کشمیر کے پہاڑوں سے لے کر سمندر تک ہماری فوجی چھاؤنیوں کا ایک سلسلہ ہے۔ تربیت یافتہ فوج ہے اور اَب تو فاٹا میں آپریشنز کی بدولت جنگ کی تربیت یافتہ فوج بن چکی ہے۔ تو پھر وہی سوال، بات بات پہ ہم کیوں کہتے پھرتے ہیں کہ ہمیں مت چھیڑو ہم ایٹمی قوت ہیں اور ایٹمی ہتھیار چل گئے تو صرف خطے کو نہیں دنیا کو خطرہ ہو گا۔ ایسی باتیں ہمیں بند کرنی چاہئیں اور وزیر اعظم کو تو بالکل ہی نہیں کرنی چاہئیں۔

دفاع پہ دھیان بہت ہو گیا۔ اب سوچنا چاہیے کہ قومی وسائل جتنے بھی ہیں کہاں لگنے چاہئیں۔ جاندار قوم ہے لیکن کمی کس چیز کی ہے؟ ایک تو واضح ہونا چاہیے کہ تعلیم کی کمی ہے۔ تعلیم کا ہم نے ستیاناس کر دیا ہے۔ اچھا بھلا نظام اور اچھی بھلی درس گاہیں انگریز چھوڑ کے گئے تھے ۔ ہم نے اُن کا کیا حشر کیا؟ اب مل بیٹھ کے سوچنا چاہیے کہ تعلیم کے میدان میں کیا چیزیں کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک تو یکساں تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔ یہ O اور A لیول کا تماشا ختم ہونا چاہیے۔ ہندوستانیوں نے 1964ء میں ختم کر دیا تھا۔ ہم پتا نہیں کیوں اس کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ ملک میں ایک نصاب ہو، ایک قسم کی کتابیں اور ایک قسم کے امتحانات۔ اسمبلی میں بیٹھے ممبران اور سرکاری محکموں کے افسران پہ لازم ہو کہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجیں۔ پھر دیکھیں کہ سرکاری نظام تعلیم کیسے بہتر ہوتا ہے۔ سرکاری نظام تعلیم کیلئے معجزانہ طور پہ وسائل نکل آئیں گے۔ نصاب کو بہتر کریں۔ جس قسم کی تاریخ اور پاکستان سٹڈیز ہمارے نصاب کا حصہ ہے اس سے کون سے سوال اُٹھانے والے ذہن بن سکتے ہیں؟ بات ہم کرتے ہیں مساوات کی اور ہر طبقے کا الگ نظام تعلیم ہے۔ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

ہمارے مسائل امریکا اور برطانیہ کے مسائل نہیں۔ شعبہ تعلیم میں کسی سے سیکھنا ہے تو کیوبا سے سیکھیں کہ وہاں کیسے فیڈل کاسترو نے تعلیم کا نظام رائج کیا اور کیا نتائج اُس سے برآمد ہوئے۔ صحت کے میدان میں بھی کاسترو نے یہی کچھ کیا۔ آج بھی کیوبا کا نظامِ صحت کم ہی ملکوں میں ملے گا۔ دفاع ہماری ضرورت تھی وہ ہم نے پوری کر دی، اب قوم کی بہتری اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ عمران خان یہ نہیں کر سکیں گے تو پھر اِس دھرتی پہ یہ چیزیں کبھی نہیں ہوں گی۔

کوئی ملک اپنے آپ کو مہذب یا ترقی یافتہ نہیں کہہ سکتا جب تک کہ اُس کے پاس دو چیزیں نہ ہوں۔ قومی آرکیسٹرا اور قومی بیلے (ballet)۔ ہمارے ہاں نیشنل آرکیسٹرا ہے ہی نہیں۔ اسی لیے دنیا کی موسیقی سے ہمارا ملک بالکل نا آشنا ہے۔ آرکیسٹرا بھی نہیں ہے اور ریڈیو اور ٹی وی پہ بھی دنیا کی عظیم ترین کلاسیکی موسیقی نہیں سنی جا سکتی۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف قوم کیسے جا سکتی ہے؟ چین کے گروپ پاکستان میں آ کے مختلف پرفارمنس کر سکتے ہیں لیکن ہم نے قومی سطح پہ ایسے کوئی گروپ نہیں بنانے۔ قوم کی تعمیر میں جہاں توپ و تفنگ کی ضرورت ہوتی ہے‘ وہاں فنون لطیفہ کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ ان چیزوں پہ ہمارا دھیان کب جائے گا؟

اب سوچنا چاہیے کہ قومی وسائل جتنے بھی ہیں کہاں لگنے چاہئیں۔ جاندار قوم ہے لیکن کمی کس چیز کی ہے؟ ایک تو واضح ہونا چاہیے کہ تعلیم کی کمی ہے۔ تعلیم کا ہم نے ستیاناس کر دیا ہے۔ اچھا بھلا نظام اور اچھی بھلی درس گاہیں انگریز چھوڑ کے گئے تھے ۔ ہم نے اُن کا کیا حشر کیا؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •