پردے کی ضرورت کسے ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل ہری پور میں محکمہ تعلیم کی ایک ضلعی ایجوکیشن آفیسر برائے فی میل نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کہ تحت تمام اسکولز آنے والی تمام طالبات کے عبایا پہننا لازمی قرار دیا گیا۔ اس نوٹیفیکیشن میں یہ مؤقف اپنایا گیا کہ یہ بچیوں کی پروٹیکشن کے لیے گیا گیا۔ نوٹیفیکشن پر سوسائٹی میں جہاں ایک طرف بڑے پیمانے پر اس حکم کو سراہا گیا وہاں معاشرے کے کچھ روشن خیال طبقات کی طرف سے اس پر تنقید بھی کی گئی اور اس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ اس نوٹیفیکشن کو لے کر قومی اور بین الاقوامی میڈیا تک گرما گرم بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہوا۔

خیبر پختونخواہ حکومت پہلے تو اس نوٹیفیکیشن کا دفاع کرتے ہوئے اور اس کو مکمل طور پر اون کرتے ہوئے نظر آئی تاہم بعد ازاں قومی سطح پر شدید دباؤ پڑنے پر بالآخر اس نوٹیفیکیشن کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے حکم پر واپس لے لیا گیا۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ ہری پور کے ہی چند وکلا کی غیرت نے دوبارہ جوش مارا ہے اور انہوں نے نوٹیفیکیشن کی واپسی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ میں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ایک رٹ پیٹیشن فائل کر دی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ کچھ برسوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں بہت خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں مختلف عمر کی عورتوں اورکم عمر بچیوں کے علاوہ چھوٹے بچوں اور لڑکوں کے ریپ کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ قصور میں ننھی زینب کے واقعے پر جب پورے پاکستان میں احتجاج ہوا اور عوامی پریشر کی وجہ سے حکومت نے اس ننھی زینب کے قاتل درندے کو پکڑا اور اس کو سزائے موت دے دی گئی تو یہ امید لگی کہ شاید اب ایسے واقعات ہونا بند ہو جائیں لیکن بد قسمتی یہ کہ ایسا نہ ہوا اور واقعات میں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اب شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو کہ ملک میں کسی بچے یا بچی کا ریپ ہونے کی خبر نا سنائی دے۔ پے در پے ایسے سنگین اور خوفناک واقعات ہونے کے باوجود ہماری مقتدرہ قوتوں نے اس طرف کوئی نا ہی کوئی توجہ دی اور نہ کوئی قابل ذکر اقدام کیا۔

اب ہماری حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملک میں بچیوں کے خلاف ہونے والے واقعات کی وجہ بچیوں کا پردہ نہ کرنا ہے اور اس لیے بچیوں کو سرکاری حکم نامے کے تحت پردے کا پابند بنا کر ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم وہ یہ بتانے میں ابھی تک ناکام ہیں کہ اگر ان کے خیال میں عبایا ہی جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کا ایک مؤثر حل ہے تو پھر بچوں کو بھی عبایا پہنا کر ریپ ہونے سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟ کیا ایبٹ آباد کی اڑھائی سالہ ننھی فریال کو بھی عبایا نا پہنایا جانا ہی اس کے ساتھ جنسی زیادتی اور بعد میں اس کے قتل کی وجہ بنا؟ ان سوالات کا جواب یقینا نہیں ہے۔ اگر عبایا پہنا کر بھی بچی کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکا جیسا کہ ناروال میں دو دن پہلے ہو چکا ہے تو پھر اگلے مرحلے میں بچیوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدام کیے جائیں گے؟ کیا اگلے مرحلے میں بچیوں کو گھر چار دیواری میں قید کرنے کی بات ہو گی لیکن تحفظ تو وہاں بھی ممکن نہیں کیونکہ وطن عزیز میں باپ اور بھائی جیسے رشتوں تک ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ہماری بدقسمتی اس بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ اڑھائی سالہ ننھی فریال کو جب جنسی زیادتی کے بعد قتل کر کے شدید سرد رات میں ایک پانی کے نالے میں پھینک دیا گیا اور اس کے قاتلوں کو گرفتار نا کیا جا سکا تو ہمارے سماج کے غیرت مندوں کی غیرت ننھی فریال کے غریب والدین کو انصاف دلانے کے لیے اب تک نا جاگی۔ لیکن محض پوائنٹ سکورنگ کے لیے جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن کے واپس ہو جانے پر بھونچال آ گیا۔

ہمارے سماج میں بچیوں کو تحفظ دینے کے لیے بچیوں کو پردے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمارے سماج میں عورت کے متعلق پائے جانے والی گندی اور ننگی سوچ کو پردہ کروانے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •