آدھے گھنٹے کا خدا – اردو کا شاہکار افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ دونوں گڈیالی کے جنگل میں جیپ کے کسی کچے راستے پر بیٹھ جاتے۔ دیودار کے ایک ٹوٹے ہوئے تنے پر۔ پیچھے جیپ کھڑی ہوتی۔ سامنے ایک چھوٹی سی ڈھلوان کی گہری اور دبیز گھاس۔ کوئی چشمہ تقریباً بے آواز ہو کر بہتا تھا۔ جنگلی پھلوں پر پانی کے قطرے گر کر سو جاتے اور چاروں طرف بڑے بڑے ستونوں کی طرح اُونچے اُونچے دیوار اور ان کے گھنے چھتناروں میں سے سبزی مائل روشنی دور اُونچے لٹکے ہوئے فانوسوں کی طرح چھن چھن کر آتی ہوتی۔

۔ ۔ کاشر کو ایسا محسوس ہوتا گویا وہ کسی مغل بادشاہ کے دیوان خاص میں بے اجازت آ نکلا ہے۔ یہاں آ کر وہ دونوں کئی منٹ تک جنگل کے گہرے سناٹے میں کھو جاتے اور آہستہ آہستہ سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگتے۔ کبھی ایسا لگتا جیسے سارا جنگل چپ ہے۔ کبھی ایسا لگتا جیسے سارا جنگل ان کے اردگرد سرگوشیوں میں باتیں کر رہا ہے۔

موگری، علاقہ غیر کے گاؤں سے ایک ٹوکری میں پھل اُٹھائے ہوئے گڈیالی کے پل تک آتی تھی جو کاشر اور اس کے سپاہیوں کی عملداری میں تھا۔ سیا، ناشپاتی، کیلے، آلو یا بہی کے مب، اودے انگوروں کے گچھے یا صرف اخروٹ اور مکئی کے بھٹے اور وہ چھوٹی چھوٹی خوش رنگ خوبانیاں جنہیں دیکھ کر سنہری اشرفیوں کا دھوکہ ہوتا ہے اور موگری اتنی خوبصورت تھی کہ پل کی حفاظت کرنے والے سپاہی چند منٹوں میں اس کی ٹوکری خالی کر دیتے تھے۔ سب سے آخر میں کاشر آتا اور جب کاشر موگری کے نزدیک آتا تو سب سپاہی ہٹ جاتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے۔ ۔

لیکن جس دن موگری کی مخبری پر علاقہ غیر کے گاؤں والوں نے گڈیالی کا پل جو اس کی تحویل میں تھا، ڈائنامیٹ سے اُڑا دیا، اسی دن اسے شدید دھچکا سا لگا۔ جیسے اس کے دل کے اندر بھی کوئی پل تھا جو ڈائنا میٹ سے پُرزے پُرزے ہو گیا تھا اور وہ باہر کا پل تو کبھی نہ کبھی پھر بن جائے گا۔ لیکن اندر کا پل کون بنا سکے گا پھر سے؟ اس لئے وہ وحشت زدہ سا ہو کر پل کے ٹکڑوں کو ان گہرے پانیوں میں جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ جہاں لطیف سے لطیف جذبے بھی بھاری پتھر بن کر ایسے ڈوب جاتے ہیں کہ پھر کبھی نہیں اُبھر سکتے۔

وہ رونا چاہتا تھا مگر اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آ سکے اور وہ موگری کو گالی دینا چاہتا تھا۔ مگر اس کی زبان پر الفاظ نہ آ سکے وہ جانتا تھا کہ ہر سپاہی کی نگاہ اس پر ہے۔ وہ نگاہ بظاہر کچھ نہیں کہتی۔ لیکن خاموش لہجے میں شکایت کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ جب وہ ان نگاہوں کی تاب نہ لا سکا تو اپنی رائفل لے کر گڈیالی ندی میں کود پڑا۔ وہ اس کے سپاہی بھونچکے ہو کر اس کی طرف دیکھتے رہ گئے۔ وہ ندی پار کر کے گڈیالی کے جنگل میں گھس گئے۔

کئی دن تک وہ اکیلا بھوکا پیاسا اس جنگل میں گھومتا رہا اور وہ ان تمام جگہوں پر گیا جہاں پر وہ موگری کے ساتھ گیا تھا اور ان جگہوں پر جا کر اس نے ان تمام جذبوں کو بھلانا چاہا جنہوں نے موگری کی موجودگی میں اس کے لئے دھندلے دھندلے شفق زار تعمیر کیے تھے۔ کئی بار وہ موگری کی عدم موجودگی میں بھی یہاں آیا تھا تو بھی اسے ہر جگہ موگری کی عدم موجودگی میں بھی اس کی موجودگی کا احساس ہوا تھا۔ وہ پیڑ کاتنا جہاں موگری بیٹھی تھی۔

اس کے گرد اک ہالہ سا کھنچا معلوم ہوتا تھا۔ موگری نہ تھی۔ پھر بھی گویا جھرنے کے پانیوں میں اس کی آواز کی روانی گھل گئی تھی۔ ہر پھول میں اس کے بالوں کی مہک تھی اور وہ زمین جہاں پروہ بیٹھتے تھے، وہاں سے موگری کے جسم کی سوندھی سوندھی مہک آتی تھی۔ ۔ ۔ مگر آج وہاں کچھ نہ تھا۔ جذبوں کے شفق زار چھٹ گئے تھے۔ پیڑ کا تنا محض پیڑ کا تنا تھا اور پانی کا جھڑنا، پانی کے جھرنے کی طرح بہہ رہا تھا۔ ہر چیز انجانی اور اجنبی اور اس سے الگ الگ کھڑی تھی۔

وہ چیخ مار کر سارے جنگل کو جگا دینا چاہتا تھا۔ مگر اس کا حلق بار بار گھٹ رہا تھا۔ اس کے سارے احساسات پر اک دھند سی چھائی ہوئی تھی، جنگل میں بے سمت گھومتے گھومتے کئی بار اسے خیال آیا کہ اگر وہ اس دھند کو اپنے ناخنوں سے چیر دی تو شاید اندر سے موگری کا زندہ اور اصلی چہرہ صحیح و سلامت نکل آئے گا۔ وہ موگری جسے وہ اپنے دل سے پہچانتا تھا۔ مگر دھند کسی طرح نہ چھٹی۔ اور گہری ہوتی گئی۔

جنگل میں اس کا دم گھٹنے لگا۔ پیڑوں کا گھیرا اس کے لئے تنگ ہونے لگا۔ اسے ایسا محسوس ہونے لگا، جیسے چاروں طرف سے جنگل کے پیڑ جھک کر اس پر گرنے والے ہیں۔ پھر وہ گھبرا کر جنگل سے باہر بھاگ نکلا اور گڈیالی کا جنگل طے کر کے وہ ساردو پہاڑ کی برفیلی چوٹی کے دوسری طرف اُتر گیا۔ جہاں موگری کا گاؤں تھا۔ کئی دنوں تک وہ بھیس بدلے ہوئے ٹوہ لیتا رہا۔ کسی کو اس پر شبہ نہ ہوا کیونکہ اس کی شکل و صورت ایسی تھی جیسے علاقہ کے لوگوں کی ہوتی ہے۔

اس کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے تھے اور وہ ان کی زبان بخوبی بول سکتا تھا اس لئے کسی کو اس پر شبہ نہ ہوا اور وہ ایک دن موقعہ دیکھ کر آدھی رات کو موگری کے گھر کے اس کمرے میں گھس گیا۔ جہاں موگری سو رہی تھی۔ موگری کمرے میں اکیلی سو رہی تھی۔ اس نے آہٹ کیے بغیر کنڈی اندر سے چڑھا دی۔ رائفل کندھے سے اُتار کر ایک کونے میں رکھ دی۔ اور آہستہ آہستہ دبک کر وہ موگری کے بستر کے قریب چلا گیا۔ قریب جا کر اس نے اپنا خنجر نکال لیا۔

وہ خنجر ہاتھ میں لئے دیر تک کھڑا رہا اور موگری کی سانسوں کی پُر سکون آواز سُنتا رہا۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ وہ موگری کے چہرے کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ایک بار ماچس جلا کر موگری کا چہرہ دیکھ لے۔ مگر بڑی جانکاہ کاوش سے اس نے ایک اذّیت ناک خواہش کو اپنے دل میں روک دیا۔ دیر تک وہ خنجر لئے جونہی کھڑا رہا اور موگری کے سانسوں کے اس بے آواز جھرنے کو سنتا رہا جو اب اس کے دل کی طرف بہہ رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اس سیریز کے دیگر حصےخزاں سردی میں آتی ہے؟وہ بڈھا – راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •