آدھے گھنٹے کا خدا – اردو کا شاہکار افسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ ہولے ہولے موگری کے چہرے پر جھک گیا۔ بس ایک الوداعی بوسہ اور پھر خنجر! ۔ ۔ ۔ مگر جُھکتے جُھکتے اس کے سانس کی رفتار تیز ہوتی گئی۔ اس کے دماغ میں سنسناتی ہوئی گونجیں سی چاروں طرف پھیلنے لگیں اور اس نے اپنے جلتے ہوئے کانپتے ہوئے ہونٹ موگری کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ ۔ ۔ موگری کے سارے جسم میں ارتعاش سا پیدا ہوا۔ اسے محسوس ہوا، جیسے موگری چیخ مارنے کو ہے مگر اس نے ایسی مضبوطی سے اپنے ہونٹوں کو موگری کے ہونٹوں سے ملا رکھا تھا کہ چیخ مارنے کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا تھا۔

پہلے تو موگری کا سارا جسم برف کی طرح سرد ہونے لگا اور ہمیشہ یونہی ہوتا تھا۔ اسے اس سے پیشتر کے بہت سے رنگین اور خوبصورت لمحے یاد آئے۔ جب موگری پیار کرتے کرتے یک لخت اس کے بازوؤں میں سرد پڑ جاتی تھی اور کئی لمحوں تک اس کی یہی کیفیت رہتی تھی جیسے وہ دل و جان سے اس کی مزاحمت کر رہی ہو۔ پھر ہولے ہولے اس کے بوسوں کی آنچ سے اس کا سارا جسم گرم ہونے لگتا ہولے ہولے گویا برف پگھلنے لگتی۔ اور بدن میں انگڑائیاں اور پھر پھریریاں جاگنے لگتیں اور گرم گرم سانس آنچ کی طرح پگھلنے لگتا اور وہ بے اختیار ہو کر کاشر سے لپٹ جاتی اور اپنے بازو اس کی گردن میں حمائل کر دیتی۔

موگری کے دل کے اندر غالباً محبت اور نفرت کا ہر آن بدلتا ہوا میزانیہ سا چلتا رہتا تھا۔ اپنا دشمن سمجھ کر وہ اس سے نفرت کرتی تھی۔ اپنا محبوب سمجھ کر اس سے محبت کرتی تھی اور کبھی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکی تھی۔ اس وقت بھی یہی ہوا۔ موگری کا سرد پڑتا ہوا خوفزدہ اور اپنے آپ میں اکیلا جسم دھیرے دھیرے لو دینے لگا۔ جیسے انگ انگ سے روشنی پھوٹ نکلے۔ ایسی روشنی جسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں صرف ہاتھ محسوس کر سکتے ہیں۔

موگری نے یقیناً اس بوسے کو پہچان لیا تھا۔ خوبصورت اور پُر خطر زندگی بسر کرنے والی عورت کی زندگی میں بہت سے بوسے آتے ہیں۔ دیمک کی طرح چاٹ جانے والے بوسے اور جونک کی طرح چمٹ جانے والے بوسے۔ روکھے سوکھے پاپڑ نما بوسے اور ایسے لجلحے اور گندے بوسے گویا ہونٹوں پر کیڑے چل رہے ہوں۔ شرمائے ہوئے سہمے ہوئے بوسے۔ اور خوفزدہ کمزور اور بیمار بوسے اور صحت مند اور شریر بوسے۔ موگری ایسی خوبصورت عورتوں کو ہر قسم کے بوسوں سے واسطہ پڑتا تھا۔

مگر وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ ان میں سے کون سا بوسہ ایسا ہوتا ہے جو دل پر دستک دیتا ہے۔ صرف اسی دستک کے جواب میں وہ بوسے کو جواب میں بوسہ دیتی ہیں۔ ورنہ صرف ہونٹ پیش کرتی ہیں۔ مگر اس بار موگری صرف چند لمحوں کے لئے برف کی طرح ٹھٹھری رہی۔ پھر اس نے اپنے اُوپر جھکے ہوئے ہونٹوں کے لمس کو پہچان لیا۔ اور پہچان کر بھی گو وہ چند لمحوں کے لئے وحشت زدہ اور ٹھٹھری سی رہی مگر ہولے ہولے اس کی مغائرت دور ہوتی گئی۔

آدھی رات کے نیم گرم اندھیرے میں کسی غیر متوقع خوشی سے اس کی ساری روح کانپ اُٹھی۔ اور وہ خود سے کاشر کی بانہوں میں آ گئی اور اس طرح آئی جیسے اب تک کبھی نہ آئی تھی۔ کاشر نے محسوس کیا جیسے آسمان زمین پر اُتر آیا ہو اور زمین لمبے لمبے سانس لے کر ہانپنے لگی۔ ایک شعلہ سا تھا جو برف کی پہنائی میں ڈوب رہا تھا۔ برف کی ٹوٹتی ہوئی ٹکڑیاں گلاب کی بکھری ہوئی پتیاں۔ سسک سسک کر سلگتا ہوا سنگیت۔ ۔ ۔ جسم کے حصار کو توڑنے کی کاوش میں افتاں و خیزاں۔

یکایک حصار ٹوٹ گیا۔ ۔ ۔ مچھلیاں طوفان میں بہہ گئیں۔ بہت سارے چراغ اک دم گل ہو گئے۔ پھر سارے احساس نیم غنودگی کی سبز جھیل میں کھو گئے۔ ۔ ۔ جب وہ جاگا تو اسی طرح گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اور موگری اس کی بانہوں میں بے خبر سو رہی تھی۔ جانے اس بے خبری میں کب کاشر نے خود اپنے ہاتھ کا خنجر اپنے پہلو میں رکھ لیا تھا۔ ۔ ! ٍ

اس نے پہلو بدل کا آہستہ سے خنجر نکالا۔ آہستہ سے موگری نیند میں کسمسائی۔ جھلے ہوئے کاشر کو موگری کا ہاتھ اپنی پیٹھ پر محسوس ہوا۔ تھپکتا ہوا۔ نیند کی ترغیب دیتا ہوا۔ پیشتر اس کے کہ وہ پھر اپنے جذبات کے دھارے میں بہہ جائے، اس نے ایک ہی جھٹکے سے پورا خنجر ہتھی تک موگری کے دل میں اُتار دیا۔ موگری چیخ بھی نہ سکی۔ ہولے ہولے اس کا کانپتا ہوا جسم ٹھنڈا ہوتا گیا۔ مگر کاشر نے موگری کو بہت دیر تک اپنے جسم سے الگ نہیں کیا۔

ہولے ہولے کا شر کے جسم نے موگری کے مرتے ہوئے جسم کے ہر ارتعاش کو اپنے اندر جذب کر لیا۔ اور جب موگری کا جسم بالکل ٹھنڈا ہو گیا تو اس نے موگری کے جسم کو اپنے جسم سے الگ کر دیا۔ اس ٹھنڈے ہونٹوں کو پھر اس طرح بوسہ دیا جیسے وہ کسی قبر کو بوسہ دے رہا ہو۔ پھر کنڈی کھول کر باہر آنگن میں آیا اور تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ آنگن کی دیوار پھلانگ کر ایک احمق کی طرح سرپٹ بھاگنے لگا کیونکہ اب اس کے دماغ کی ہر رگ اور نس تانبے کے تاروں کی طرح جھنجھنا رہی تھی اور جسم کے روئیں روئیں میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں۔

یہ اس کی خوشی قسمتی تھی کہ سارا گاؤں نیند میں ڈوبا ہوا سو رہا تھا۔ کسی نے اس کے جسم میں بجتی ہوئی خطرے کی گھنٹیوں کی پر شور صدا کو نہیں سُنا۔ اور وہ کھیتوں سے نکل کر ساردو پہاڑ کی چڑھائی چڑھنے لگا۔ صبح جب موگری کے بھائیوں نے موگری کی لاش دیکھی اور دیوار سے لگی ہوئی رائفل کو پہچانا تو اس کا تعاقب کیا۔ مگر اب تک اسے چار گھنٹے کا اسٹارٹ مل چکا تھا۔

اس سیریز کے دیگر حصےخزاں سردی میں آتی ہے؟وہ بڈھا – راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •