ویانا کے سیلفی میوزیم آئیں اور خوبصورت فن پاروں کے ساتھ انسٹاگرام کے لیے اپنی تصاویر بنوائیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایک سیلفی میوزیم کھل رہا ہے جہاں نوجوان انسٹاگرام کے لیے اپنی تصاویر اور فن پارے بنا سکیں گے۔

’نو فلٹر میوزیم‘ کے نام والی اس جگہ پر چمکدار اور رنگین دیواریں ہیں، اور آپ کی تصاویر کو منفرد بنانے کے لیے مختلف چیزیں بھی رکھی گئیں ہیں۔

https://www.instagram.com/p/B3J145EIxZV/

نو فلٹر میوزیم کی شریک مالک پیٹرا شارنگر کہتی ہیں کہ ’میوزیم جانے والے نوجوانوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اس لیے ہم سوشل میڈیا کی مدد سے اسے بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

’وہ اصل دنیا سے تعلقات قائم کرنے کے بجائے آن لائن رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

نوجوان مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس کے سب سے بڑے صارفین میں سے ہیں۔ برطانیہ میں ہر 10 میں سے 9 نوجوان انسٹاگرام، فیس بک یا واٹس ایپ جیسی سوشل میڈیا سائٹس استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پٹنہ کی زیرِ آب سڑکوں پر فوٹو شوٹ پر تنقید

فرانس میں مونا لیزا کے برہنہ سکیچ کی دریافت

فرائڈ زندہ ہوتے تو سیلفی کے بارے میں کیا کہتے؟

پیٹرا شارنگر کہتی ہیں کہ ان کے میوزیم میں ایسی مزے دار چیزیں پڑی ہیں جن کے ساتھ نوجوان اپنی تصاویر بنوا سکتے ہیں اور انھیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر سکتے ہیں۔

https://www.instagram.com/p/B2w18kHoO9G/

میوزیم میں 24 الگ الگ کمرے ہیں۔ یہاں آنے والے افراد رنگ برنگی دیواروں کے سامنے خوبصورت ملبوسات پہن کر انسٹاگرام کے لیے اپنی تصویر بنا سکتے ہیں۔

یہاں ایک ایسا کمرہ بھی ہے جہاں کھانے کی نقلی کا چیزیں پڑی ہیں، جیسے کپ کیکس۔

نو فلٹر میوزیم دنیا بھر کی ایسی جگہوں میں سے ہے جو خاص سوشل میڈیا صارفین کے لیے بنائی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا کے کئی انفلوینسرز اور مشہور لوگوں نے ابھی سے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ وہ یہاں تصاویر بنوا سکیں۔

https://www.instagram.com/p/B1l-wYzi4YP/

لیکن ایسے لوگوں کا یہاں آنا متنازع ہوگا جن کا کمپنیوں اور برینڈز سے تعلق ہے۔ اکثر اوقات سوشل میڈیا پر چیزیں بیچنے کا طریقہ خفیہ ہوتا ہے اور لوگ اسے عام پوسٹ جیسا ہی سمجھتے ہیں۔

https://www.instagram.com/p/B1g98rkC7ZK/

امریکہ میں آئس کریم میوزیم بھی کافی مقبول ہے اور اس کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 390000 فالوورز ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے ایک اندازے کے مطابق یہ کمپنی 200 ملین ڈالر کی بن گئی ہے۔

سیلفی میوزیم کے مالکوں کا خیال ہے کہ یہاں روز 300 سے 500 افراد آسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ میوزیمز کا مستقبل ہے۔ اس کا مقصد صرف تصاویر بنوانا نہیں بلکہ اچھا وقت گزارنا بھی ہے۔‘

’مجھے لگتا ہے کہ کئی لوگ زیادہ وقت اپنے فون پر گزارتے ہیں اس لیے ہم نے کوشش کی ہے کہ اسے ایک مزے دار تفریح سے جوڑ سکیں۔ لیکن یہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ لوگوں کو معلومات بھی فراہم کریں۔‘

https://www.instagram.com/p/B1Jq4rFiFwH/

یہ سیلفی میوزیم عارضی طور پر بنایا جا رہا ہے۔ اس کے مالک چاہتے ہیں کہ وہ اسے دیگر شہروں میں بھی بنائیں۔

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12787 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp