پاکستان میں پنجاب پولیس کی نیک نامی کے لیے بنی فلم ’دال چاول‘ کی کہانی

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس گذشتہ ہفتوں شدید تنقید کے نشانے پر رہی ہے لیکن اس دوران ایک ایسی فلم ریلیز کی جارہی ہے جس میں پولیس اہلکاروں کی زندگیوں کے وہ پہلو دکھائے جائیں گے جو بظاہر پوشیدہ رہتے ہیں۔

حال ہی میں پولیس کی حراست میں تشدد سے ملزمان کی ہلاکتوں، عقوبت خانوں کی دریافت اور بزرگ شہریوں سے بدتمیزی کے پے در پے واقعات سے ادارے کی ساکھ کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ عمومی طور پر بھی پاکستان میں پولیس اور شہریوں سے اس کے برتاؤ کے حوالے سے زیادہ مثبت تاثر نہیں پایا جاتا۔

لیکن پنجاب میں سیف سٹی اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اکبر ناصر ان پولیس افسران میں شامل ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ’پولیس کی ایسی کہانیاں لوگوں کو سنانا ضروری ہیں جن سے ان کے ادارے کا مثبت رخ سامنے آ سکے۔‘

انھوں نے اس کا بیڑا خود اٹھاتے ہوئے فلم کے میڈیم کا انتخاب کیا ہے اور ’دال چاول‘ کے نام سے ایک فلم بنائی ہے جو جمعے کو پاکستان میں ریلیز ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا یہ نیا تفتیشی سکول پولیس تشدد ختم کر پائے گا؟

طبقاتی فرق اور پنجاب پولیس کی کارکردگی

پنجاب پولیس کو تجویز کردہ اصلاحات پر کیا اعتراضات ہیں؟

پنجاب: تھانوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی

دال میں تڑکا

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ’دال چاول‘ کے پروڈیوسر، لکھاری اور میوزک ڈائریکٹر اکبر ناصر نے بتایا کہ فلم میں شامل کرنے کے لیے ان کے پاس کہانیاں تو بہت تھیں۔

ان کا ادارہ سیف سٹی اتھارٹی لاہور میں نصب 8000 سے زائد کیمروں کی مدد سے مسلسل شہر کی نگرانی کرتا ہے۔ ان کیمروں میں روزانہ ہزاروں کہانیاں نظر آتی ہیں۔

فلم کی کہانی کچھ یوں ہے کہ پولیس کا ایک انسپکٹر منشیات فروشوں کے گروہ کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف ایک ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اس وقت جان سے جاتا ہے جب لاہور کی ایک شاہراہ پر ایک مظاہرے پر تعینات پولیس کو ایک خودکش بمبار نشانہ بناتا ہے۔

فلم کے پروڈیوسر نے بتایا کہ ان کی فلم ’ایسی ہی سچی کہانیوں پر مبنی ہے اور اسے حقیقی جائے وقوع پر فلمایا بھی گیا ہے۔‘

اکبر ناصر کا استدلال ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں پولیس کو ایک مثبت کردار میں ریاستی علامت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

’ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی پاکستان پولیس کو اسی کردار میں دکھائیں کہ جو قانون کے محافظ ہیں۔ جو اچھائی کا پہلو ہے، جسے ہم اگلی نسلوں کی تربیت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، اسے اجاگر کیا جانا چاہیے۔‘

پولیس پر بنی فلم کا نام ’دال چاول‘ ہی کیوں؟

اکبر ناصر نے اپنی پہلی فلم نوجوانوں کو ذہن میں رکھ کر بنائی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’نوجوان کو اگر موزوں مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ ملک کے لیے اثاثہ بن جاتے ہیں۔‘

فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ ایسے نوجوان جنھیں وسائل میسر نہ ہوں وہ ’غلط ہاتھوں میں جا سکتے ہیں۔‘

اسی خیال سے فلم کے عنوان ’دال چاول‘ نے وجود پایا۔ فلم بنانے والوں نے یہ سوال اٹھائے ہیں کہ پاکستان میں جدید دور کے نوجوان کے مسائل کیا ہیں، کیا ان کی زندگی کا محور صرف دال چاول یا روٹی پانی ہے، اور کیا اس کے لیے اس کی جستجو درست سمت میں ہے۔ یہ فلم انھی سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

فلم کے نام کی ایک اور وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اسے انتہائی سادہ انداز میں بنایا گیا ہے۔ اکبر ناصر نے بتایا کہ فلم کوئی بہت بڑے بجٹ سے تیار نہیں کی گئی اور اس میں کوشش کی گئی ہے کہ کہانی کو حقیقت کے قریب رکھا جائے۔

دال چاول، پنجاب پولیس

BBC

یہی وجہ ہے کہ اس کے مرکزی کرداروں کے لیے دو نوجوان اداکاروں، احمد سفیان اور مومنہ اقبال، کا انتخاب کیا گیا۔ گو کہ فلموں کے تجربہ کار اداکار شفقت چیمہ اس میں ولن کا کردار نبھا رہے ہیں جبکہ سلمان شاہد جیسے منجھے ہوئے فنکاروں کی خدمات بھی اسے حاصل ہیں۔

فلم میں زیادہ گلیمر نہیں ہے۔ وہ تمام چیزیں جنھیں ایک کمرشل فلم کی کامیابی کی عمومی ضمانت تصور کیا جاتا ہے، اس فلم میں نہیں ہوں گی۔

اس سے قطع نظر کہ کتنے لوگ اس فلم کو دیکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’جو پیغام ہم پہنچانا چاہتے ہیں ہمارے لیے وہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔‘

اکبر ناصر کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ ’پاکستان میں ایسی فلمیں بنانے کی ضرورت ہے جو کسی اہم موضوع کو اجاگر کریں۔‘

فلم کے ایک ترانے کو آواز معروف گلوکار راحت فتح علی خان نے دی ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=VoYQLTUvXKI

پاکستان میں پولیس کی نیک نامی کیوں ضروری؟

اگر پولیس میں تعینات افسران سے بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ اچھے کے ساتھ برے عناصر ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور چند افراد کی وجہ سے مجموعی طور پر پورا ادارہ بدنام ہو رہا ہے۔

وہ پولیس کی ان قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران خود دیکھیں اور وہ بھی جو بظاہر پوشیدہ ہیں۔

پولیس کے کردار کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اکبر ناصر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی مشکل حالات میں کام کیا ہے۔

’خصوصاً سنہ 2001 کے بعد پولیس نے وہ جنگ لڑی ہے جو اس کے دروازے پر آ گئی تھی۔ اس میں پورے پاکستان کی پولیس نے قربانیاں دی ہیں۔‘

وہ اپنی فلم دال چاول کو پولیس کے ان افراد کے لیے ’خراج تحسین‘ بھی سمجھتے ہیں جو ’اب اس دنیا میں نہیں رہے۔‘

دال چاول، پنجاب پولیس

BBC

’میرے خیال میں یہ ہم پر ان شہیدوں کا قرض بھی تھا۔ یہ ضروری تھا کہ ہم ان کی کہانیاں لوگوں تک پہنچائیں۔‘

اکبر ناصر کا اصرار ہے کہ پنجاب میں سیف سٹی اتھارٹی کے قیام کے بعد سے جدید اطوار پر کام ہو رہا ہے۔ ’خصوصاً لاہور میں پولیس ایک نئے ڈھنگ سے کام کر رہی ہے جس کا فائدہ آپ کو اور مجھے ہر روز سڑکوں پر ہوتا نظر آ رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی فلم میں کوشش کی گئی ہے کہ دکھایا جا سکے کہ ’یہی وہ رُخ ہے جو پاکستان یا پنجاب پولیس اپنانا چاہتی ہے، دکھانا چاہتی ہے، کرنا چاہتی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10224 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp