وزیرِ اعظم عمران خان: کنٹرول لائن پار کرنا ’انڈین بیانیے کے ہاتھوں میں کھیلنا‘ ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان

AFP

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پایا جانے والا کرب سمجھ سکتے ہیں مگر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرنا انڈین بیانیے کو مضبوط کرنے کے مترادف ہو گا۔

عمران خان نے ٹوئٹر پر یہ پیغامات ایسے وقت میں جاری کیے ہیں جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متحرک خودمختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے کارکنان سینچر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے عام لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور وہاں جاری لاک ڈاؤن کے خلاف ایل او سی کی جانب پیدل مارچ کر رہے ہیں۔

صحافی ایم اے جرال کے مطابق اس مارچ کا آغاز جمعے کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع بھمبر سے ہوا تھا جو کوٹلی، راولاکوٹ اور دھیرکوٹ سے ہوتا ہوا رات گئے مظفرآباد پہنچا، جہاں سے مارچ کے شرکا ایل او سی کے چکوٹھی چیک پوائنٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’کنٹرول لائن پر جانے کے خواہش مند میری کال کا انتظار کریں‘

پاکستان میں کشمیر کی خودمختاری کی بات کون کرتا ہے؟

لائن آف کنٹرول پر دھرنا کیوں جاری ہے؟

جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ، جے کے ایل ایف، کشمیر، انڈیا، پاکستان،

BBC
مارچ کے شرکا چاہتے ہیں کہ پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت انھیں لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی اجازت دیں

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے لوگوں کی مدد یا جدوجہد میں ان کی حمایت کی غرض سے جو بھی پاکستانی ایل او سی پار کرے گا، وہ انڈیا کے بیانے کے ’ہاتھوں میں کھیلے گا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے انڈیا کو اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں محصور لوگوں پر تشدد بڑھانے اور لائن آف کنٹرول کے اس پار حملے کا جواز ملے گا۔

https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1180356675032817664

دوسری جانب مارچ کی سربراہی کرنے والے جے کے ایل ایف رہنما ڈاکٹر توقیر گیلانی کا کہنا ہے کہ یہ مارچ ایل او سی کی دوسری جانب رہنے والے ان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہے جو ’ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود انڈین فوج کے محاصرے میں ہیں۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سمیت ان کے حامیوں کو ایل او سی عبور کرنے کی اجازت دیں۔

جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ، جے کے ایل ایف، کشمیر، انڈیا، پاکستان،

BBC
سنیچر کو جے کے ایل ایف کی جانب سے نکالا گیا جلوس چکوٹھی کی جانب جا رہا ہے

جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ اپنے آپ کو ’خود مختار کشمیر‘ کا حامی قرار دیتی ہے۔ ستمبر کے اوائل میں جے کے ایل ایف کے ایک دھڑے نے لائن آف کنٹرول کے تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے خلاف چار روز تک دھرنا دیا۔

دھرنے سے قبل اس مارچ میں شریک افراد نے جب میرپور سے تیتری نوٹ کی جانب مارچ کیا تو شرکا کو کوٹلی سرساوہ اور ہجیرہ کے بعد داورندری کے مقام پر پولیس نے روکا جس سے دونوں کے درمیان شدید تصادم ہوا اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

آج ہونے والے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کمشنر مظفرآباد ڈویژن چوہدری امتیاز نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر کسی بھی فرد کو ایل او سی کی جانب جانے کی اجازت دینا ممکن نہیں، اس لیے مارچ کے شرکا کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

انڈیا کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے اور وہاں جاری لاک ڈاؤن کے خلاف مختلف لوگوں کی جانب سے پانچ اگست کے بعد سے اب تک تین مرتبہ ایل او سی پار کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔

اس سے قبل 1990 اور 1992 میں جے کے ایل ایف اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) نے الگ الگ طور پر چکھوٹی کی جانب سے ایل او سی عبور کرنے کی کوشش کی جس میں متعدد نوجوان کامیاب رہے مگر انڈین فوج کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp