پہلا رفال جنگجو طیارہ انڈیا کے حوالے کر دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راج ناتھ

Getty Images
راج ناتھ سنگھ نے طیارے پر ناریل اور لڈو چڑھائے

فرانس نے منگل کو پہلا رفال جنگی طیارہ انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو سونپ دیا ہے۔

انڈیا کو جنگی طیارہ ملنے کے بعد راج ناتھ سنگھ نے اس طیارے پر ‘شستر پوجا’ یعنی اسلحہ پوجا کی۔ وزیر دفاع نے طیارے پر سِندور سے اوم لکھا، طیارے پر پھول ،ناریل اور لڈو چڑھائے۔ اس کے علاوہ طیارے کے پہیے کے نیچے دو لیموں بھی رکھے گئے۔

اس سب کے بعد راج ناتھ سنگھ نے اس طیارے میں سفر کیا۔

راج ناتھ

Getty Images
راج ناتھ سنگھ نے طیارے میں پرواز کیا

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فرانس میں کہا ‘مجھے خوشی ہے کہ رفال کی ڈلیوری وقت پر ہو رہی ہے اور امید ہے کہ یہ ہماری فضائیہ کی طاقت میں اضافہ کرے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ‘آج انڈیا اور فرانس کے سیاسی اشتراک کے ایک نئے دور میں میں رفال جنگجو طیارے میں پرواز کروں گا جو ایک اعزاز کی بات ہے’۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’رفال ایک فرانسیسی لفظ ہے جس کا مطلب آندھی ہے اور میں امید کرتا ہوں کے یہ اپنے نام کی طرح ہی انڈین فضائیہ کو مضبوط کرے گا‘۔

یہ جنگجو طیارے فرانس کی کمپنی داسا نے بنائے ہیں اور اس کی خریداری پر کئی طرح کے سوال اٹھائے گئے ہیں۔

کب ہوا تھا یہ معاہدہ؟

2010 میں انڈیا کی سابق حکومت نے فرانس سے یہ طیارے خریدنے کا عمل شروع کیا تھا اور2012 سے 2015 تک دونوں کے درمیان بات چیت چل رہی تھی اور 2015 میں مودی حکومت اقتدار میں آگئی۔

2016 میں انڈیا نے فرانس کے ساتھ 36 رفال طیاروں کے لیے تقریباً 59 ہزار کروڑ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

دفاعی امور کے ماہر ماروف رضا کہتے ہیں کہ ’رفال انڈیا کے لیے بہترین سودا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین فوج میں کوئی بھی نیا اسلحہ بہت چھان بین کے ساتھ لیا جاتا ہے اور تحقیقات کے بعد ہی فوج اسے خریدنے کا مشورہ دیتی ہے‘۔

ماروف رضا کہتے ہیں کہ ’رفال کے مقابلے میں پورے برصغیر میں چاہے وہ چین ہو یا پاکستان کسی کے پاس ایسا جنگی طیارہ نہیں ہے۔ اسی لیے اس کے بارے میں بہت غلط پراپیگنڈہ کیا گیا لیکن ابھی تک کچھ بھی ثابت نہیں ہو سکا‘۔

32 طیارے ’ناکافی‘ ہیں

ماروف رضا کہتے ہیں کہ انڈیا کی دفاعی ضرورتیں ان 32 طیاروں سے پوری ہو جائیں گی۔ دوسری جانب دفاعی امور کے ایک اور ماہر راہل بیدی کی رائے اس کے برعکس ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی ضرورتوں کے مطابق یہ 32 طیارے ناکافی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان طیاروں سے انڈین ائر فورس کی طاقت بڑھے گی ضرور لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ 32 رفال تو امبالہ اور مغربی بنگال کے ہاسی مارا سکوارڈن میں ہی کھپ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کے لیے دو سکوارڈن نہیں بلکہ 42 سکوارڈن کی ضرورت ہے۔ ہمیں کوالٹی کے ساتھ ساتھ اچھی تعداد کی بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ چین یا پاکستان کا مقابلہ کر رہے ہیں تو آپ کو لڑاکا طیاروں کی تعداد بھی چاہیے۔‘

’رفال کی صلاحیتوں پر کوئی شبہ نہیں‘

انڈین فضائیہ کا کہنا ہے کہ ’فال ایک بہترین اور با صلاحیت جنگی طیارہ ہے۔‘

ماروف رضا کہتے ہیں رفال کی خصوصیات کی وجہ سے اسے ’فورس ملٹی پلایئر‘ کہا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رفال کی فلائنگ رینج عام جنگی طیاروں سے کہیں زیادہ ہے۔

رضا کہتے ہیں کہ ’اس کے میزائل تین سو کلو میٹر کی دوری سے فائر کیے جا سکتے ہیں جو اپنے ٹارگٹ پر جا کر لگیں گے۔‘

رضا بتاتے ہیں ’اس کی آپریشنل صلاحیت 65 سے 70 فیصد تک ہے جبکہ جنگی طیارے سوکھوئی کی بچاس فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سوکھوئی کے آدھے طیارے کسی بھی وقت مینٹینننس میں جا سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ ملٹی رول نہیں اومنی رول والا طیارہ ہے۔ ’یہ پہاڑی اور چھوٹے مقامات پر اتر سکتا ہے اس کے علاوہ سمندر میں چلتے ہوئے ائر کرافٹ کریئر پر اتر سکتا ہے۔‘

رفال کس طرح کی خوبیوں سے لیس ہے؟

رفال جوہری میزائل لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس میں دو طرح کے میزائل ہیں ایک کی رینج ڈیڑھ سو کلو میٹر ہے جبکہ دوسرے کی رینج تقریباً تین سو کلو میٹر ہے۔

جوہری اسلحے سے لیس رفال فضا میں ڈیڑھ سو کلو میٹر تک میزائل داغ سکتا ہے جبکہ فضا سے زمین میں اس کی صلاحیت تین سو کلو میٹر تک ہے۔

یہ انڈین فضائیہ کی جانب سے استعمال ہونے والے میراج 2000 کی جدید شکل ہے۔

انڈین ائر فورس کے پاس 51 میراج 2000 ہیں۔

داسا ایوی ایشن کے مطابق رفال کی رفتار میک ایک عشاریہ آٹھ ہے یعنی 2020 کلو میٹر فی گھنٹہ۔

رفال کی اونچائی پانچ عشاریہ تیس میٹر اور لمبائی پندرہ عشاریہ تیس میٹر ہے۔ اس طیارے میں فضا میں بھی تیل بھرا جا سکتا ہے۔

رفال کو اب تک افغانستان، لیبیا، مالی، عراق اور شام جیسے ممالک میں استعمال کیا جا چکا ہے۔

سابق وزیر دفاع منوہر پاریکھ کا کہنا تھا کہ ’رفال کا نشانہ کبھی نہیں چوکتا‘۔

رفال اوپر، نیچے، دائیں بائیں ہر طرف نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یعنی اس کی وِزبلٹی 360 ڈگری ہے۔

کئی طرح کی خوبیوں سے لیس رفال کو بین الاقوامی معاہدوں کے سبب جوہری اسلحے سے لیس نہیں کیا گیا۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا میراج 2000 کی طرح رفال کو بھی اپنی ضرورت کے مطابق ڈھال لے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11103 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp