ذہنی امراض کا عالمی دن: ’دوا گوگل نہ کریں،مستند سائیکاٹرسٹ کے پاس جائیں‘

فرحت جاوید - بی بی سی اردو، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈپریشن

BBC

ہو سکتا ہے کہ آپ نے کبھی گوگل کیا ہو کہ آپ ہر وقت اداس، مایوس یا غصے میں کیوں رہتے ہیں؟ یا یہ کہ آپ کو نیند کم یا بہت زیادہ کیوں آ رہی ہے؟ یا آپ کے کھانے پینے کے معمول میں بڑی تبدیلی کیوں آ گئی ہے؟ آپ کو مستقل پریشانی یا کوئی خوف کیوں ہے؟ یا آپ کو جینے سے نفرت کیوں ہو رہی ہے؟

جواب میں ایک لامتناہی فہرست کھلتی ہے جسے دیکھنے کے بعد آپ سوچیں گے کہ شاید آپ پاکستان کی اس 20 فیصد آبادی کا حصہ ہیں جو ڈپریشن یا کسی اور ذہنی مرض کا شکار ہے۔

اگر آپ نوجوان ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ اس 36 فیصد نوجوان طبقے کا حصہ ہوں جو ڈپریشن یا کسی اور ذہنی مرض کے ساتھ خاموشی سے لڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈپریشن اور خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟

’لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ذہنی مسئلہ ہے تو آپ پاگل ہیں‘

’میں نے بیٹے کی موت کے بارے میں سچ بولنا شروع کیا‘

لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ کے ذہن میں ایسے سوالات جنم لے رہے ہیں تو گوگل کی بجائے ایک مستند ماہرِ نفسیات کے پاس جائیں۔

ڈپریشن آپ کی نیند اور روزمرہ معمولات زندگی خراب کرنے سے شروع ہو کر خودکشی تک پہنچا سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر چالیس سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کر رہا ہے اور یہی جمعرات کو دنیا بھر میں منائے جانے والے ذہنی صحت کے عالمی دن کا مرکزی خیال بھی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں رپورٹ ہونے والے خودکشی کے مقدمات میں سے 90 فیصد کا تعلق ڈپریشن یا دیگر ذہنی امراض سے ہے۔ یہاں اس معاملے پر بات کم کی جاتی ہے، بطور معاشرہ ذہنی امراض کا شکار افراد کا ساتھ دینے کا رحجان کم اور علاج کے لیے سہولیات اور معالج دونوں ہی کا فقدان ہے۔

تاہم گذشتہ چند برسوں میں لوگوں میں اس معاملے میں آگہی بڑھی ہے، تو ملک میں جگہ جگہ نفسیاتی ماہرین کے کلینک کُھل رہے ہیں۔ تاہم ان ماہرین کی تعلیم کیا ہے، تجربہ کیا ہے اور کیا یہ مریضوں کو ادویات دینے کے مجاز ہیں۔

یہ سوال پوچھا جاتا ہے نہ ہی اس بارے میں سرکاری اعداد وشمار موجود ہیں مگر یہی اب سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

‘میرے والد کو جعلی ماہرِ نفسیات نیند کی گولیاں کھلاتا رہا’

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے 60 سالہ جہانداد خان 25 سال تک ڈپریشن کے مریض رہے ہیں۔

ان کے بیٹے وحید امان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے والد کئی کئی دن تک سو نہیں پاتے تھے۔ ‘وہ بہت حساس تھے، ایک دن ہسپتال میں زیرِ علاج رشتہ دار ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ گیا تو یہ لمحہ میرے والد کے ذہن میں ٹھہر گیا۔ اس کے بعد 25 سال تک میرے والد کو لگتا تھا کہ اگلے ہی لمحے ان کی زندگی ختم ہو جائے گی۔’

وحید امان بتاتے ہیں کہ ان کے والد کمرے کی روشنی گُل نہیں کرتے تھے کیونکہ انھیں لگتا تھا کہ روشنی نہ ہوئی تو ان کے بچوں کو ان کی موت کا علم نہیں ہو سکے گا۔

’والدین کی اپنی مصروفیات، بچے نفسیاتی مسائل کا شکار‘

’ویڈیو گیمز ذہنی امراض کے علاج میں مددگار‘

فیس بک خودکشی کا سوچنے والوں کی نشاندہی کرے گا

‘میں تیرہ یا چودہ سال کا تھا جب مجھے احساس ہوا کہ والد کا علاج کروانا چاہیے۔ ہم نے پہلے وہی روایتی طریقہ اختیار کرنے کا سوچا کہ دم درود یا تعویز کراتے ہیں۔ مولوی صاحب کے پاس گئے تو وہ ایک اچھے انسان تھے جنھوں نے بات سننے کے بعد کہا کہ انھیں میرے پاس لانے کی بجائے کسی اچھے ماہر نفسیات کے پاس لے کر جائیں کیونکہ انہیں ذہنی مرض ہے۔’

تاہم باقاعدہ تحقیق نہ ہونے کے باعث وہ جس ماہر نفسیات کے پاس گئے وہ ان کے والد کو نیند کی گولیوں سمیت دیگر اینٹی ڈپریسنٹ دیتے رہے۔ وہ تین سے چار سال تک مسلسل یہی گولیاں کھاتے رہے۔

وحید امان کہتے ہیں کہ ‘میرے والد ہر وقت سوتے رہتے تھے، جب دوا کا اثر ختم ہوتا اور وہ جاگتے تو ان کی حالت پہلے جیسی ہو جاتی، وہ غصہ کرتے تھے، یہاں تک مار پیٹ بھی، یہ دوا بس ان کو سلا رہی تھی مگر بیماری مزید بگڑ رہی تھی۔

’ہمیں احساس ہوا کہ یہ تو صرف نیند کی گولیاں ہیں، ہم سائیکاٹرسٹ کے پاس جاتے، وہ مختلف نام کے ساتھ اسی فارمولے کی کوئی اور گولی دے دیتے، اور الزام میرے والد ہی کی کسی روٹین پر ڈالتے۔ ‘

آخر کار وحید امان اور ان کے اہلخانہ نے ماہر نفسیات تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ راولپنڈی میں ایک کلینک گئے اور ڈاکٹر کو وہ ادویات دکھائیں جو ان کے والد کچھ سالوں سے کھا رہے تھے۔

‘سائیکاٹرسٹ حیران رہ گئیں۔ انھوں نے پوچھا کہ آخر کون سے ڈاکٹر نے یہ گولیاں دی ہیں۔ یہ تو وہ ادویات ہیں کہ اگر آپ کے والد کو ڈپریشن نہ بھی ہو، یہ ان کو بھی ذہنی مریض بنا دیں۔ میرے والد ذیابیطس کے مریض تھے اور ان ادویات میں بعض ایسی ادویات بھی شامل تھیں جو ایسے مریضوں کے لیے ہرگز قابلِ استعمال نہیں’۔

وحید امان کے مطابق وہ تمام ادویات بند کر دی گئیں اور نئے سرے سے ان کے والد کا علاج شروع ہوا۔ جس کے بعد وہ محض تین ماہ میں مکمل طور پر ٹھیک ہو گئے۔

‘مگر اب ان کا ذیابیطس اب بگڑ چکا ہے۔ افسوسناک بات ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، جگہ جگہ جعلی ماہر نفسیات بیٹھے ہیں، اور وہ لوگوں کی جان سے کھیل رہے ہیں’۔

ڈپریشن

PA

پاکستان میں ذہنی امراض میں اضافہ، ماہرینِ نفسیات نہایت کم

پاکستان مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کسی نہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہیں۔ ذہنی امراض کا شکار ہونے والوں میں زیادہ بڑی تعداد خواتین کی ہے

پاکستان نوجوان آبادی والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہیں لیکن غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس نوجوان آبادی کا بھی ایک تہائی سے زیادہ ڈپریشن کا مریض ہے۔

اس کی بڑی وجوہات میں گذشتہ دو دہائیوں میں ملک کی سکیورٹی صورتحال، غربت اور بیروزگاری کو قرار دیا جاتا ہے۔

اس قدر بڑی تعداد میں ذہنی مریض ہونے کے باوجود عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ذہنی امراض کے لیے صرف پانچ ہسپتال ہیں اور پورے ملک میں موجود ذہنی امراض کے لیے موجود سہولیات میں سے محض ایک فیصد بچوں اور نوجوانوں کے لیے ہے۔

دنیا بھر میں مانے جانے والے معیار کے مطابق ہر دس ہزار کی آبادی کے لیے ایک ماہر نفسیات ہونا چاہیے تاہم پی ایم ایچ اے کے مطابق، پاکستان میں ذہنی مریضوں کے علاج کے لیے صرف 400 ماہرینِ نفسیات ہیں اور بچوں کے ماہرین کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔

اگر آپ کو ڈپریشن ہے تو کیا کرنا چاہیے؟

صرف ایک کام کریں، سب سے پہلے ایک قابلِ بھروسہ، سند یافتہ سائیکاٹرسٹ کے پاس جائیں’، یہ مشورہ دانیکا کمال دے رہی ہیں جو قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی امراض سے متعلق ایڈووکیسی کرتی ہیں۔

دانیکا ‘دی کلر بلیو’ نامی ایک آن لائن پلیٹ فارم چلا رہی ہیں جو ڈپریشن سمیت دیگر ذہنی امراض کے مریضوں کو اپنے شعبے میں ماہر نفسیات کے ماہرین سے ملواتا ہے۔

دانیکا کمال کہتی ہیں کہ ‘آپ کو زکام ہو جائے یا کوئی اور بیماری ہو تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ایک اچھے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔۔۔۔ تو پھر ذہنی بیماری کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کریں۔ ‘

ایک لڑکی

Getty Images
ڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جس کے باعث لوگوں کو خودکشی کرنے کے خیالات آتے ہیں (فائل فوٹو)

ماہرین نفسیات کی اقسام اور کون کیا کر سکتا ہے؟

نفسیات کے شعبے سے تین قسم کے ماہرین منسلک ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے پہلے سائیکاٹرسٹ ہیں۔ یہ باقاعدہ میڈیکل کالج اور یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر ہوتے ہیں اور ایک ڈاکٹر کی ہی طرح پریکٹس کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نفسیات کے شعبے میں صرف سائیکاٹرسٹ ہی آپ کو دوائی تجویز کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ کو کوئی ماہر نفسیات دوا دے تو وہ غیرقانونی عمل ہے۔ اس لیے جب آپ ایک ماہر نفسیات کے پاس جائیں تو آپ کو علم ہونا چاہیے کہ یہ معالج سائیکاٹرسٹ ہے یا سائیکالوجسٹ۔

سائیکالوجسٹ علم نفسیات میں ماسٹرز یا بیچلرز کی ڈگری کسی بھی تعلیمی ادارے سے حاصل کرتے ہیں۔ جس کے بعد وہ سائیکالوجیکل تھراپی کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے بھی بین الاقوامی قوانین کے مطابق انھیں باقاعدہ تربیت حاصل کرنا پڑتی ہے تاہم سائیکالوجسٹ کسی بھی مریض کو کسی بھی قسم کی دوا تجویز نہیں کر سکتے۔

تیسری قسم تھیراپسٹ کی ہے اور یہی وہ قسم ہے جو اب پاکستان میں نہایت عام ہو چکی ہے اور تیزی سے پھیل رہی ہے۔

دانیکا کمال کہتی ہیں کہ ’یہاں دو سے تین مہینوں پر مشتمل کورسز کرائے جا رہے ہیں، یہ جھوٹا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ کورس کرانے والے ادارے بیرون ملک نفسیات کے اداروں سے منسلک ہیں اور مختصر کورسز کے بعد سرٹیفیکیٹ دیے جاتے ہیں۔

’یہ نام نہاد تھیراپسٹ جگہ جگہ موجود ہیں، یہ ادویات بھی دیتے ہیں، مشورے بھی دیتے ہیں اور یہاں تک کہ ماہر نفسیات کے لیے سب سے اہم ذمہ داری رازداری قائم رکھنا ہے، یہ نام نہاد ماہرین رازداری نہیں رکھتے اور نہ ہی مریضوں کا کوئی ریکارڈ رکھتے ہیں۔’

دانیکا کمال کہتی ہیں کہ مریض جب بھی ماہر نفسیات کے پاس جائے، ان سے پوچھے کہ ان کی تعلیم اور تجربہ کیا ہے۔

ہر 40 سیکنڈ میں ایک مرد خودکشی کرتا ہے۔۔۔

موسمِ بہار میں خودکشیاں کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

‘ہمارے ہاں اس سوال کا برا منایا جاتا ہے جو کہ غلط ہے، آپ مریض ہیں اور یہ جاننا آپ کا حق ہے کہ آپ کا علاج کون کر رہا ہے، کیا ادویات دی جا رہی ہیں اور کیوں دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ریسرچ کریں، لوگوں سے پوچھیں، انٹرنیٹ پر دیکھیں’۔

ذہنی امراض کی ہیلپ لائن یا ویب سائٹس کی مدد لی جا سکتی ہے؟

دانیکا کمال کے خیال میں ‘خود اپنے مرض کی تشخیص کرنا غلط اور اس کے نتائج بھیانک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ‘

وہ کہتی ہیں کہ ان کے پاس حال ہی میں ایسے مریض بھی آئے جو ڈپریشن کے لیے مختلف ادویات استعمال کر رہے تھے تاہم ‘جب ہم نے ان سے پوچھا کہ انہیں یہ ادویات کا نسخہ کس سائیکاٹرسٹ نے لکھ کر دیا ہے، تو انھوں خودکشی سے بچاؤ کے حوالے سے کام کرنے والی کچھ ہیلپ لائنز کا بتایا کہ یہ ادویات انہیں ہیلپ لائن پر بتائی گئی تھیں۔’

تنہائی

Getty Images
خود کشی کی کوشش اعصابی تبدیلیوں کے باعث ہوتی ہے

ماہرین کے خیال میں یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، ‘سب سے پہلے تو ٹیلی فون پر مرض کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔ دوسرا آپ کو یہ علم نہیں کہ فون کی دوسری طرف بیٹھا شخص سائیکاٹرسٹ ہے یا سائیکالوجسٹ یا تھیراپی کرنے والا ہے۔ تو اس طرح ادویات استعمال نہ کریں۔

دانیکا کہتی ہیں کہ اس ضمن میں انٹرنیٹ پر موجود نسخوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے، ‘آن لائن موجود مشوروں پر عملدرآمد کر کے آپ اپنے ڈپریشن میں صرف اضافہ کرتے ہیں۔ آپ صرف سائیکاٹرسٹ کے پاس جائیں، وہ آپ کو بتائیں گے کہ مرض کیا ہے اور آیا آپ کو کسی دوا کی ضرورت ہے یا صرف سائیکالوجسٹ یا تھراپسٹ کے پاس جانے سے آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہی آگے بڑھنے کا صحیح راستہ ہے۔’

پاکستان میں کیا کوئی چیک اینڈ بیلنس ہے؟

بظاہر ایسا نہیں ہے۔ ملک میں اس ضمن میں کوئی سرکاری اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔

ملکی قوانین میں خودکشی کی کوشش کو ایک بیماری کی بجائے جرم سمجھا جاتا ہے اور اس کے لیے سزا مقرر ہے۔ صحت کے شعبے کے لیے مختص کیا جانے والا بجٹ انتہائی کم ہے اور 2010 تک اس بجٹ کا بھی محض صفر اعشاریہ چار فیصد نفسیات کے شعبے کے لیے مختص رہا ہے تاحال اس میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ حکومتی سطح پر ذہنی امراض سے متعلق جامع پالیسی اور سنجیدگی نہ ہونا ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ میں خودکشی کی کوشش کو جرم سمجھے جانے کے قانون کے خلاف بل پاس ہونے کے باوجود پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن 325 تاحال موجود ہے جس کے مطابق خود کشی کی کوشش جرم ہے، بیماری نہیں۔

ماہرین کے مطابق ملک میں سب سے پہلے قومی سطح پر ذہنی صحت کے حوالے سے مربوط اور جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

صوبہ سندھ میں 2013 میں مینٹل ہیلتھ ایکٹ پاس کیا گیا اور گذشتہ برس اس سلسلے میں اتھارٹی قائم کی گئی۔ پنجاب نے 2014 میں ایسا ہی بل پاس کیا جبکہ خیبر پختونخواہ نے 2017 میں مینٹل ہیلتھ ایکٹ لانے کا اعلان کیا تاہم بلوچستان، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں فی الحال ایسے کوئی ایکٹ موجود ہی نہیں۔

دوسری جانب غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ ڈپریشن کا شکار افراد لاہور میں، دوسرے نمبر پر کوئٹہ اور تیسرے نمبر پر کراچی میں ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تینوں صوبوں میں پاس کیے گئے مینٹل ہیلتھ ایکٹ وفاقی سطح پر مینٹل ہیلتھ آرڈیننس 2001 کی نقل ہیں۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ اپنے صوبے کی ضروریات کے مطابق نئے بل تک بنانے کی کوشش نہ کرنا بھی حکومتوں کی ذہنی صحت سے متعلق سنجیدگی کی عکاسی کر رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10351 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp