لندن میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الطاف حسین

AFP
پاکستانی حکومت نے ستمبر 2016 میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا

لندن میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ چھیاسٹھ سالہ الطاف حسین کے خلاف مقدمہ دہشتگردی کی معاونت کے الزام میں ٹریزازم ایکٹ 2006 کی سیکشن 1 (2) کے تحت درج کیا گیا۔

یہ مقدمہ الطاف حسین کے 22 اگست 2016 کو کراچی میں ایک مجمع سے خطاب کی بنیاد پر کیا گیا ہے جسے پولیس کے مطابق بعض یا تمام لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر دہشتگردی کی ترغیب، اس کی تیاری اور دہشتگرد ی کی کارروائی پر مائل کرنے کی کوشش سمجھ سکتے ہیں۔

الطاف حسین کو گرفتار کر کے ویسٹ منسٹر مجسریٹ کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’الطاف حسین کے خلاف شواہد فراہم کیے جائیں‘

الطاف حسین کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی منظوری

’الطاف حسین کا معاملہ برطانوی پولیس کا ہے: برطانیہ

خیال رہے کہ پاکستانی حکومت نے ستمبر 2016 میں الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانوی حکومت کو بھجوایا تھا۔

اس ریفرنس کے ساتھ الطاف حسین کی مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کی کاپی اور مبینہ طور پر اپنی جماعت کے لوگوں کو تشدد اور بدامنی پر اکسانے کے شواہد بھی برطانوی حکام کو فراہم کیے گئے تھے۔

اس ریفرینس میں برطانوی حکام سے کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد نے نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

برطانیہ کے قوانین میں کسی شخص کی طرف سے دوسرے فرد کو تشدد پر اکسانے کے بارے میں سخت قوانین موجود ہیں۔

ایم کیو ایم

AFP
فروری 2017 میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی

یاد رہے کہ الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو کراچی میں اپنی جماعت کے کارکنان سے ایک ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان کے بارے میں نعرے بازی کی تھی۔

اس خطاب کے بعد مبینہ طور پر ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے مقامی میڈیا کے ملازمین اور دفتر پر حملے بھی کیے گئے تھے۔

تاہم اس واقعے کے بعد الطاف حسین نے اپنی تقریر کے لیے معافی مانگ لی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریاں دیکھ کر شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور اسی عالم میں وہ تقریر کر بیٹھے۔

اس ریفرنس کے بھجوائے جانے کے بعد فروری 2017 میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے الطاف حسین کے ریڈ ورانٹ جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔

خیال رہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ اکتوبر 2016 میں منی لانڈرنگ کیس میں الطاف حسین سمیت چھ افراد کے خلاف تحقیقات ختم کر چکی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے اس وقت بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ تمام ثبوتوں کی تحقیقات کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس بات کے ناکافی ثبوت ہیں کہ دو ہزار بارہ اور چودہ کے درمیان ملنے والی پانچ لاکھ پاؤنڈ کی رقم جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی تھی اور یا اس رقم کو غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp