پاکستان تحریک انصاف: غیر ملکی فنڈنگ کیس کی تحقیقاتی کمیٹی پر پی ٹی آئی کے اعتراضات مسترد

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان

Getty Images

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے غیر ملکی فنڈز کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے خلاف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی چار درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے حکام کو 14 اکتوبر کو اس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر کے حکم پر ڈائریکٹر جنرل لاء کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی کمیٹی اپریل سنہ 2018 سے پاکستان تحریک انصاف کو ملنے والی غیر ملکی امداد سے متعلق معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس کمیٹی کے دیگر دو ارکان کا تعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے محکمے سے ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے دو ارکان نے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی ان درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔

پاکستان تحریک انصاف کا موقف

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی طرف سے تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی کے خلاف چار درخواستیں مختلف اوقات میں دائر کی تھیں اور ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا تھا کہ ’کمیٹی کے امور بدنیتی پر مبنی ہیں اور کمیٹی کی خفیہ کارروائی لیک کر کے تحریک انصاف کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے‘۔

اس تحقیقاتی کمیٹی کا موقف تھا کہ ان درخواستوں پر کارروائی کرنا ان کا اختیار نہیں ہے لہذا خصوصی کمیٹی نے یہ معاملہ چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان

BBC
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ کمیشن کے کسی بھی رکن کے ذہن میں پی ٹی آئی کے بارے میں کوئی تعصب بہیں ہے

پاکستان تحریک انصاف کے خلاف کیس ہے کیا؟

حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی امداد سے متعلق معاملہ سنہ 2014 میں الیکشن کمیشن میں آیا تھا اور اس جماعت کے سابق رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف نے سنہ 2009 سے سنہ 2013 تک ممنوعہ ذرائع سے بیرون ممالک سے فنڈز حاصل کیے تھے‘۔

ایک سال تک یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں چلتا رہا اور پھر اس درخواست کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سنہ 2015 میں ایک درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کو ایسی کارروائی سے روکا جائے۔ تاہم عدالت نے تقریباً دو سال کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا کہ سیاسی جماعت کے اکاؤنٹس کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کرنا الیکشن کمیشن کا ہی کام ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے طرف سے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست مسترد ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے سٹیٹ بینک سے پاکستان تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کیں جس میں یہ بتایا گیا کہ ملک کے مختلف بینکوں میں 23 ان کے اکاؤنٹس ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کا اس میں موقف تھا کہ اس میں سے 18 اکاؤنٹس مقامی سطح کے ہیں جو کہ عام انتخابات کے لیے کھلوائے گئے تھے اس لیے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے اس موقف کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ کیسے ممکن ہے پارٹی کے لیٹر ہیڈ کے بغیر کوئی بینک اکاؤنٹس کھولے۔ الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکمراں جماعت اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp