ہم ایتھوپیا سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند برس قبل میں نے ایتھوپیا پر ایک کالم لکھا تھا۔ کالم میں میں نے عرض گزاری تھی کہ پاکستان جیسے پسماندہ ممالک ایتھوپیا سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ جواب آں غزل کے طور مجھے کچھ لوگوں کے غصے سے بھرے پیغامات موصول ہوئے کہ میں نے یہ مشورہ دے کر ایک عظیم قوم کی تذلیل کر دی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ اب ہم ایک ایٹمی قوت ہیں‘ اتنے گئے گزرے نہیں کہ ایتھوپیا جیسے بھوکے ننگے ملکوں کے تجربات کے محتاج ہوں۔ یہ پیغامات ایسے لوگوں کے تھے جو واضح طور خبطِ عظمت میں مبتلا ہیں یا جو برتری کی مغالطے کا شکار ہیں۔ ان کی خدمت میں مکرر عرض کیا کہ آپ ایتھوپیا کے بارے میں جو چاہیں سوچیں، مگر اس ملک میں سارے انڈیکیٹرز یہ بتا رہے ہیں کہ یہ ملک حیرت انگیز تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے، اور اس کی اس ترقی کا راز جاننے یا ایک آدھ دانش کی بات سیکھ لینے میں آخرحرج ہی کیا ہے؟
مکرر جواب ملا کہ ہم کیا کسی سی کم ہیں کہ ان سے سیکھتے پھریں‘ ہمارے پاس فلاں فلاں علمائے کرام، سائنس دان اور دانشور حضرات ہیں۔ اس کے بعد مجھے کچھ کہنے کا یارا نہ رہا۔ اب جب ایتھوپیا کے وزیر اعظم کو نوبیل امن ایوارڈ دیا گیا تو مجھے وہ گفتگو یاد آئی۔ وزیر اعظم کو یہ انعام اریٹیریا سے امن ڈیل کی وجہ سے ملا۔ مگر ان کے کئی دوسرے شاندار اقدامات بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بد ترین تصادم ختم کیے اور امن کی طرف قدم بڑھایا۔ انہوں نے صومالیہ سے سرحدی تنازعات ختم کیے۔ ملک کے اندر سیاسی قیدیوں کو رہا کیا۔ دہشت گردی کے خلاف قوانین میں ترامیم کیں۔ میڈیا کو مکمل آزادی دی۔ سول سوسائٹی کے متحرک کردار کی حوصلہ افزائی کی۔ مگر ایک وزیر اعظم کی کہانی سے زیادہ خود ایتھوپیا کی کہانی زیادہ دلچسپ ہے۔
ابھی کل ہی کی بات ہے‘ یعنی سن دو ہزار میں ایتھوپیا دنیا کا تیسرا غریب ترین ملک تھا۔ اس کی کل سالانہ جی ڈی پی خاصی کم تھی۔ اس کی کل آبادی کا نصف غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھا۔ یہاں دنیا میں غربت کی بلند ترین شرح تھی۔ پھر یہاں پر جو تبدیلی آئی وہ حیرت انگیز تھی۔ آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار سے لے کر دو ہزار سولہ تک ایتھوپیا دنیا میں تیز ترین رفتار سے ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک تھا۔ ترقی کی شرح اور رفتار کے اعتبار سے یہ دس ملین یا اس سے زیادہ آبادی رکھنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر تھا۔ جہاں تک مستقبل میں ترقی کی رفتار کا تعلق ہے تو آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق سن دو ہزار بائیس تک ایتھوپیا کا جی ڈی پی چھ اعشاریہ دو کی شرح سے بڑھے گا۔ اور اگر یہ رفتار برقرار رہی تو مستقبل قریب میں ایتھوپیا ایک ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔
ایتھوپیا کی تاریخ بڑی ہنگامہ خیز اور درد ناک ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں ایتھوپیا کی مزاحمتی تحریک نے انگریزوں کی مدد سے اٹلی کو باہر نکال کر ایک آزاد ملک بنایا۔ اس کے بعد کی تاریخ کے بیشتر دور میں اس ملک کو بد ترین قدرتی آفات، بد ترین قحط سالیوں، بد ترین آمریتوں، پڑوسیوں کے ساتھ طویل اور خونیں لڑائیوں، بھوک ننگ اور ذلت کا سامنا رہا۔ ان حالات و واقعات کی وجہ سے اس کا شمار دنیا کے بد قسمت ترین، لٹے پُٹے اور فاقہ زدہ ممالک میں ہوتا تھا، جن میں کسی اچھے مستقبل، امن اور خوشحالی کی کوئی امید باقی نہیں تھی، مگر سن دو ہزار کے بعد صورت حال تیزی سے بدلنے لگی۔
ایتھوپیا کی جمہوریت کی طرف پیش قدمی تو نوے کی دہائی سے شروع ہو گئی تھی مگر دو ہزار پانچ کے انتخابات میں پہلی بار ایک آزاد اور شفاف انتخابات کے تحت یہاں پہلی جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد گاہے تشدد، نسلی لڑائیوں اور ہنگاموں اور پڑوسیوں کے ساتھ مسلسل لڑائی کے باوجود جمہوریت اور ترقی کی طرف پیش قدمی جاری رہی۔ دو ہزار پانچ سے لے کر دو ہزار انیس تک ایتھوپیا نے جو کچھ حاصل کر لیا وہ تیسری دنیا کے بیشتر پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک خواب ہے۔
خبط عظمت میں مبتلا دانشوروں سے پیشگی معذرت کے ساتھ ایک بار پھر عرض ہے کہ ہم ایتھوپیا کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جن شعبوں میں ہم یہ استفادہ کر سکتے ہیں ان میں ایک تعلیم ہے۔ تعلیم ایک ایسا میدان ہے، جس میں اگر ہم ایتھوپیا کے نقش قدم پر چلیں تو اس شعبے میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ ایتھوپیا نے کئی برس قبل یہ اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا تھا کہ ایتھوپیا اپنے کل بجٹ کا پچیس فیصد تعلیم پر خرچ کرے گا اور اس بجٹ کا نصف پرائمری تعلیم پر خرچ کیا جائے گا۔ اس موضوع پر عالمی بینک نے ایک رپورٹ پیش کی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار پانچ سے دو ہزار سترہ تک ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کی شرح میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔ ایتھوپیا نے جب تعلیم میں انقلاب کے عزم کا ارادہ کیا تھا تو اس وقت پورے ملک میں کل ملا کر آٹھ سرکاری اعلیٰ تعلیمی ادارے تھے۔ دو ہزار سترہ تک ان کی تعداد چھتیس ہو چکی تھی۔ حکومت نے اعلیٰ تعلیم کی جو پالیسی اپنائی وہ ستر تیس کے نام سے مشہور ہوئی۔ ستر تیس کا مطلب یہ تھا کہ ستر فیصد طلبا کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائے گی، اور باقی تیس فیصد کو سماجی سائنس اور فنون عامہ یا علم و ادب پڑھایا جائے گا۔ یہ پالیسی عالمی ضروریات کے تناظر میں بنائی گئی تھی، اور دنیا میں موجود جدید رجحانات سے میل کھاتی تھی؛ چنانچہ اس پالیسی نے حیرت انگیز اور فوری نتائج دیے۔ بہت ہی مختصر وقت میں ایتھوپیا ایک قابل رشک رفتار سے ترقی کی راہ پر چل پڑا۔
ہمارا ایک سنگین مسئلہ ماحولیاتی تباہی اورآلودگی ہے۔ اس میدان میں بھی ایتھوپیا سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے کہ اس شعبے میں اس نے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ایتھوپیا نے پودے لگانے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس نے بارہ گھنٹوں میں تین سو پچاس ملین پودے لگا کر بھارت کا سال دو ہزار سترہ کا ریکارڈ توڑ دیا، جو انہوں نے بارہ گھنٹے میں چھیاسٹھ ملین درخت لگا کر قائم کیا تھا۔ درخت لگانے سے کیا کیا معجزے ہو سکتے ہیں؟ ہم سب یہ جانتے ہیں۔ ہم ہر سال دس بلین ٹن سے زائد کاربن ہوا میں پھنکتے ہیں اور ایک تحقیق کے مطابق اگر دنیا میں پانچ سو ارب درخت لگائے جائیں تو فضا سے کل کاربن کا ایک چوتھائی کم ہو سکتا ہے۔
ہمارے ہاں خوراک ایک بڑا مسئلہ ہے، خصوصاً بچوں میں خوراک کی کمی ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں بچے سٹنٹ ہو رہے ہیں، اور قدرتی نشوونما نہیں پا سکتے۔ ان کی بے خوراکی ان کی مائوں کی کوکھ سے شروع ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں لاکھوں عورتیں حمل کے دوران کم یا ناقص خوراکی کی وجہ سے آئرن کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہماری طرح ایک وقت میں ایتھوپیا میں یہ مسئلہ کئی گنا زیادہ سنگین رہا ہے۔ اس ملک میں کئی قحط پڑے ہیں، اور ماضی میں لاکھوں لوگ بھوک اور ننگ کی وجہ سے مرتے رہے ہیں۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایتھوپیا نے ”پروڈکٹیو سیفٹی نٹ‘‘پروگرام کے تحت حیرت انگیز اقدامات کیے۔ اس پروگرام کے تحت بچوں کی خوراک کے بارے میں والدین کی با قاعدہ تعلیم کا بندوبست کیا گیا۔ یہ پروگرام بطور ماڈل اپنایا جا سکتا ہے۔
ایتھوپیا سے جو کام نہیں سیکھنا چاہیے وہ حکمرانوں کا مطلق العنانیت کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ بد قسمتی سے دنیا کے کئی دوسرے ممالک کی طرح ایتھوپیا میں بھی حکمران جمہوریت کے کامیاب تجربے کے باوجود مطلق العنانیت کی طرف مائل ہیں۔ سال دو ہزار پندرہ سے اس رجحان میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس وقت کی حکومت اختلاف رائے کو برداشت نہیں کر رہی تھی۔ اور اس پر کچھ خاص نسلی گروہوں یا علاقوں کی سرپرستی کا بھی الزام تھا۔ سال دو ہزار پندرہ سے لے کر مطلق العنانیت کے خلاف احتجاج کرنے والے پانچ سو سے زائد لوگ پولیس کے ساتھ تصادم میں مارے جا چکے ہیں۔ مگر سال دو ہزار اٹھارہ سے لے کر موجودہ وزیر اعظم نے کچھ اصلاحات کا آغاز کیا ہے، جس سے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •