نواز شریف ،کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت اور حکمران جماعت میں سراسیمگی کی کیفیت تو مولانا کے ”آزادی مارچ ‘‘کے اعلان کے ساتھ ہی نظر آنے لگی تھی، ہر آنے والا دن جس میں اضافے کا باعث بنتا گیا۔ مولانا کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں داخلے میں ابھی دوہفتے باقی ہیں لیکن سراسیمگی ،اعصاب باختگی میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ اتوار کو پشاور میں موٹروے کے کنارے ایک گرائونڈ میں ”انصار الاسلام‘‘کی پریڈ اور مولانا کے لیے گارڈ آف آنرنے ”دہشت ‘‘ کی فضا پیدا کردی ہے۔ لائٹ برائون شلوار قمیض میں ان رضا کاروں کی مجموعی تعداد اسی ہزار بتائی جاتی ہے۔
جے یو آئی کے ذمہ داران کے بقول ان ڈنڈا برداروں کو ”مسلح‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ وہی ڈنڈے ہیں جو جھنڈوں کے ساتھ ہر جلسے جلوس میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نظر آتے ہیں۔ جمعیت نے حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف شہروں میں پندرہ ملین مارچ کئے، ہر جگہ یہ رضا کار موجود تھے جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے، نظم وضبط اور امن وامان کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا اور اب وہ اسلام آباد میں آزادی مارچ کی سکیورٹی اور شرکائے مارچ کے قیام و طعام سمیت جملہ انتظامات کے ذمہ دار ہوں گے۔
کہا جاتا ہے کہ1919میں انگریز استعمار کے خلاف علماء دیو بند کی سیاسی جدوجہد کے آغاز کے ساتھ ہی ”انصار الاسلام‘‘ کا قیام بھی عمل میں آگیا تھا،1947کے بعد بھی یہ رضا کار سیاسی سرگرمیوں اور جلسوں جلوسوں کی سکیورٹی اور دیگر انتظامات کے لیے موجود ہوتے۔البتہ منظم انداز میں یہ بھرپور نمائش شاید پہلی بار ہوئی اور یہ حکومت پر نفسیاتی دبائو بڑھانے کا حربہ بھی ہوسکتاہے۔ویسے سچ بات یہ ہے کہ ہمیں مولانا کے یہ ڈنڈا بردار” انصار الاسلام‘‘ کینیڈا والے ”شیخ الاسلام‘‘ کے انقلابی دستوں کے مقابلے میں ،معصوم سے لگتے ہیں، (شِکروں کے مقابلے میں فاختائیں کہہ لیں) اگست 2014کے دھرنے سے قبل کے مناظر بہت سوں کو یاد ہیں۔
2012ء میں ” شیخ الاسلام‘‘ کی آمد ”سیاست نہیں ،ریاست بچائو‘‘ کے ساتھ ہوئی تھی جبکہ 2014 کی تشریف آوری کا عنوان ”شہادت یا انقلاب‘‘تھا، جس کا اعلان وہ 17 جون کے ماڈل ٹائون خونیں واقعہ سے بہت پہلے کرچکے تھے۔ دوخواتین سمیت کوئی درجن بھر شہادتوں کا یہ پرُاسرار واقعہ” شیخ الاسلام ‘‘کے انقلابی ایجنڈے کے لیے نئی مہمیز کا باعث بن گیا تھاجو اس اعلان کے ساتھ کینیڈا سے روانہ ہوئے تھے کہ انقلاب کے لیے چار، پانچ ہزار کارکنوں کی شہادت کوئی مہنگا سودا نہیں ہوگا، اس بار فوج نہیں، عوام ٹیک اوور کریں گے۔ جنرل راحیل شریف سے ان کا ”مطالبہ‘‘ تھا کہ ان کی آمد پر، فوج اسلام آباد کو ٹیک اوور کرلے۔
17جون کے شہدا کے لیے10اگست کو یوم شہدا منانے کا اعلان ہوا تو مختلف شہروں سے لاہور کا رخ کرنے والے انقلابی جتھے سلاخوں والے ڈنڈوں کے علاوہ آتش گیر سامان سے بھی لیس تھے کہ راستے میں آنے والے تھانوں اور پولیس والوں سے نمٹنے میں آسانی ہو ،قائد آباد تھانے کو نذرِ آتش کرنے کے علاوہ اسلحہ بھی لوٹ لیا گیا اور حوالات سے تین ڈاکو فرار ہوگئے۔ مختلف مقامات پر جھڑپوںمیں 2پولیس اہل کار جاں بحق اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
انقلابی جتھوں میں (خواتین سمیت) کارکنوں کے ایک ہاتھ میں ڈنڈا، دوسرے میں دفاعی شیلڈ، سروں پر ہیلمٹ، آنسو گیس سے بچائو کے لیے جدید ماسک اور یوں دوبدو جنگ کی مکمل تیاری۔ کارکنوں کے لیے ”قائد انقلاب‘‘ کا فرمان تھا کہ پولیس والے گرفتار کرنے آئیں تو پانچ، پانچ سو، ہزار، ہزار کے جتھوں میں ان کے گھروں میں گھس جائیں۔ ”قائد انقلاب‘‘ کا کہنا تھا، میں کشتیاں جلا کر آگیا ہوں، جرابیں اور ٹوتھ برش تک لے آیا ہوں، میں شہید ہو جائوں تو انقلاب آنے تک میری میت دفن نہ کی جائے۔ یہ 14 اگست کے دھرنے سے پہلے کے مناظر تھے، دھرنے کے دوران جو کچھ ہوا، وہ الگ کہانی ہے۔ تو خدا لگتی کہیے، اس سب کچھ کے مقابلے میں اپنے مولانا کا ”آزادی مارچ‘‘ آپ کو کیسا لگتا ہے؟ پھیکا پھیکا سا، ماٹھا ماٹھا سا۔
العزیزیہ ریفرنس میں سزا بھگتنے والے سابق وزیر اعظم کی اس جمعہ کو پاکستان کے تقریباً تمام نیوز چینلز پر ”لائیو کوریج‘‘ حامیوں اور مخالفوں کے لیے حیرت کا باعث تھی۔ 8 اگست کو مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کی چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتاری کے بعد یہ توقع ایسی بے جا نہ تھی کہ اب میاں صاحب کو بھی، اس کیس میں ملوث کرلیا جائے گا۔ دور کی کوڑی لانے والے اسے العزیزیہ کیس میں متوقع ضمانت کی پیش بندی بھی قرار دے رہے تھے۔ (ایون فیلڈ اپارٹمنٹس والے ریفرنس میں وہ پہلے ہی ضمانت پر ہیں) سرکار کے کسی نامطلوب فرد کو مستقل زیر حراست رکھنے کا یہ فارمولا ایوب خان کے عہد میں ایجاد ہوا تھا‘ جب ایسے کسی ملزم کے خلاف متعدد نامعلوم ایف آئی آرز پولیس کی زنبیل میں موجود ہوتیں۔
وہ ایک مقدمے میں ضمانت پر باہر آتا تو پولیس اگلی ایف آئی آر کے ساتھ موجود ہوتی۔ ایوب خان کے خلاف تحریک کے دنوں میں زیر حراست بھٹو کے خلاف یہی حکمت عملی اختیار کی گئی تو جسٹس مولوی مشتاق حسین نے ان تمام (نامعلوم) ایف آئی آرز میں انہیں بلینکٹ بیل دے دی۔ یہ الگ بات کہ خود بھٹو کے اپنے عہد میں سیاسی مخالفین کے خلاف یہ حکمتِ عملی اوجِ کمال کو پہنچ گئی اور نوبت چودھری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کے مقدمے تک جا پہنچی۔
اب میاں صاحب کے خلاف چودھری شوگر ملز کے مقدمے کی خبر آئی تو خیال تھا کہ کوٹ لکھپت جیل ہی میں ان کی گرفتاری ڈال دی جائے گی، اور جو تفتیش درکار ہو گی، وہیں ہوتی رہے گی۔ اس کے لیے جسمانی ریمانڈ لینے کا فیصلہ حیرت کا باعث تھا۔ جسمانی ریمانڈ کی ضرورت تب پڑتی ہے جب ملزم تفتیش میں تعاون نہ کررہا ہو‘ اس کے فرار ہو جانے کا خطرہ ہو یا ایسے ضروری شواہد کا حصول مطلوب ہو جو جسمانی ریمانڈ کے بغیر نہ مل سکتے ہوں۔ لیکن یہاں تو ملزم پہلے ہی زیر حراست تھا۔ جسمانی ریمانڈ کے لیے میاں صاحب کی عدالت میں پیشی، سوا پانچ ماہ بعد ٹی وی چینلز پر ان کی براہِ راست رونمائی کا باعث بن گئی۔
وہ اس سے پہلے سات مئی کی شب ٹی وی سکرینوں پر نظر آئے تھے، لیکن وہ خاموش رونمائی تھی۔ سپریم کورٹ سے علاج کے لیے 6 ہفتے کی ضمانت پر رہائی کا آخری دن تھا اور رمضان المبارک کا پہلا روزہ… میاں صاحب نے پہلا افطار والدہ صاحبہ اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ، جاتی امرا میں گھر پر کرنے کا فیصلہ کیا‘ ادھر سرکار کا موقف تھا کہ انہیں غروب آفتاب سے پہلے جیل پہنچنا ہو گا (اور اس کے لیے پولیس حکام جاتی امرا پہنچ بھی گئے تھے) میاں صاحب افطار کے بعد گھر سے نکلے، حمزہ ڈرائیونگ سیٹ پر تھا، مریم پچھلی نشست پر تھی اور کوٹ لکھپت جیل تک لوگ ہی لوگ تھے۔ فیروز پور روڈ کے شنگھائی اوورہیڈ برج پر مریم کے خطاب کا پروگرام وقت کی قلت کے باعث منسوخ ہو گیا اور شب بارہ بجے سابق وزیر اعظم داخلِ زنداں ہو گئے۔
اب چودھری شوگر ملز کیس میں جسمانی ریمانڈ کے لیے نیب عدالت میں پیشی ”ملزم‘‘ کے علاوہ، اس کی جماعت اور اندرون و بیرون ملک اس کے لاکھوں چاہنے والوں کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ بن گئی۔ غمزدوں کے لیے تو پیغامِ دیدارِ یار بھی وجۂ قرار بن جاتا ہے، یہاں تو دیدارِ یار کا اہتمام تھا۔ میڈیا سے میاں صاحب کی گفتگو سے مولانا کے آزادی مارچ کو نئی توانائی، نیا Boost مل گیا۔ وہ ”آزادی مارچ‘‘ میں بھرپور تعاون کے اعلان کے ساتھ، مولانا کے موقف کو اپنا موقف قرار دے رہے تھے۔
انہوں نے مولانا کے مارچ میں شرکت کے حوالے سے شہباز شریف صاحب کو لکھے گئے اپنے خط کا بھی ذکر کیا (احسن اقبال کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی زیر صدارت مسلم لیگ(ن) اپنے قائد کے حکم پر من وعن عمل کرے گی) جبکہ عدالت کے روبرو اپنے بیان میں‘ ان ریفرنسز کو اپنے خلاف سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ انہیں گوانتانامو بھیج دیا جائے یا کالا پانی، وہ ”ووٹ کو عزت دو‘‘ کے اپنے سیاسی موقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اکبر الٰہ آبادی کا یہ شعر بھی پڑھا؎
اکبر نے سنا ہے اہلِ غیرت سے یہی/ جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا۔
عزیمت اور استقامت کے مضمون کو شاعروں نے سو، سو طرح سے باندھا ہے۔ ہمارے سعداللہ شاہ نے کہا ؎
وقت خود ہی یہ بتائے گا کہ میں زندہ ہوں
کب وہ مرتا ہے جو زندہ رہے کردار کے ساتھ
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •