نواز شریف اور عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف اور عمران خان، دونوں آج وہ نہیں ہیں جو بیس سال پہلے تھے۔ دونوں ارتقا کے مراحل سے گزرے ہیں۔ نواز شریف حقیقت پسندی سے رومان کی طرف آئے ہیں۔ عمران خان رومان سے حقیقت پسندی کی طرف۔ نواز شریف صاحب کی سیاست کا آغاز، سب جانتے ہیں کہ جنرل ضیاالحق کی چھتری تلے ہوا۔ وہ ایک سرمایہ دار گھرانے کے نوجوان تھے جو بھٹو کی ‘سوشلسٹ‘ سیاست کے متاثرین میں سے تھا۔ سوشلزم سے سرمایہ دار کا ویسے ہی بیر ہے لیکن اس معاملے میں تو خاندانی نقصان بھی شاملِ حال ہو گیا تھا جب ان کی اتفاق سٹیل مل کو قومی تحویل میں لیا گیا۔

نواز شریف کی سیاست کے دو ادوار ہیں۔ دورِ اوّل ان تمام خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے، جن سے ہماری روایتی سیاست عبارت ہے۔ وہ ایک آمر کے ساتھی تھے۔ انہوں نے جنرل ضیاالحق کو وہ تمام سیاسی کمک فراہم کی جو انہیں پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے لیے درکار تھی۔ یہ حمایت میسر نہ آتی تو شاید وہ بھٹو صاحب کو پھانسی لگانے کی جرأت نہ کر سکتے۔ یہ حمایت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی فراہم کی جو بھٹو صاحب کے ستم گزیدہ تھے۔

نواز شریف صاحب سیاست کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے بھٹو مخالف قوتوں کے واحد نمائندہ بن گئے۔ اس دورِ اوّل کا ایک اہم باب وہ ہے جب بے نظیر بھٹو صاحبہ کے ساتھ ان کی سیاسی مخاصمت اپنے عروج پر تھی۔ پیپلز پارٹی کے خلاف انہیں مقتدر حلقوں کی حمایت، ضیاالحق صاحب کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی میسر رہی۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب میں نواز شریف صاحب کی حکومت تھی اور مرکز میں بے نظیر بھٹو کی۔

اس دور میں دونوں فریقوں نے سیاسی معرکہ جیتنے کے لیے اخلاقی ضابطوں کو بری طرح پامال کیا۔ پنجاب میں سرکاری ملازمتیں سیاسی رشوت کے طور پر بٹنے لگیں۔ سب سے زیادہ نقصان پولیس اور تعلیم کا ہوا۔ یہ ادارے نااہلوں سے بھر گئے اور اس کی سزا معاشرہ آج تک بھگت رہا ہے۔ اس وقت ایک ہی مسلم لیگ تھی۔ چوہدری نثار علی خان سے لے کر چوہدری شجاعت حسین اور جہانگیر ترین تک، سب اس میں شامل تھے۔ وہ ہر برائی میں شریک تھے اور اچھائی میں بھی۔

اس دور میں نواز شریف صاحب کو ریاستی اداروں کے ساتھ جماعت اسلامی اور دوسرے مذہبی طبقات کی پوری حمایت حاصل رہی۔ اس سیاسی طرزِ عمل کے حق میں دلیل یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کو کمزور کرنا اسلام، پاکستان اور عوام کے مفاد کا تقاضا ہے۔ اس لیے اس بڑی برائی کے خاتمے کے لیے جو برائی بھی اختیار کی جائے گی، وہ اس سے یقیناً کم تر ہو گی۔

نواز شریف صاحب کی سیاست کے دورِ ثانی کا آغاز 1993ء میں ہوا جب جنرل عبدالوحید کاکڑ کی مداخلت کے باعث انہیں وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ وہ دور ہے جب ان کے ہاں سیاسی عمل کے بارے میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا۔ اس سوچ کی تکمیل 12 اکتوبر 1999ء کو ہوئی جب ایک تجربے سے گزرنے کے بعد انہیں شرحِ صدر ہو گیا کہ اس ملک کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ میرا خیال ہے اس وقت انہوں نے ارادہ کر لیا کہ اگر انہیں ایک بار پھر اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو وہ اس بنیادی مسئلے کو ضرور حل کریں گے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جسے آج نواز شریف کا بیانیہ کہا جاتا ہے اور جو ایک جملے ‘ووٹ کو عزت دو‘ میں مجسم ہو گیا ہے۔

شریف خاندان اقتدار میں تھا اور ساتھ ہی کاروبار میں بھی۔ نواز شریف صاحب نے خود کو کاروبار سے الگ کر لیا مگر ان کے بیٹے سر تا پا کاروباری تھے۔ اگرچہ ان کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ تا حال ثابت نہیں مگر اپنی معاشرتی اخلاقیات کو سامنے رکھتے ہوئے، میں اس امکان کو رد نہیں کرتا کہ ان کے کاروبار کو ان کے اقتدار سے فائدہ پہنچا ہو گا۔ ایک تاجر کے طور پر ان کا رویہ کسی دوسرے تاجر سے شاید ہی مختلف ہو۔ محض یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ سپریم کورٹ نے انہیں اقامہ میں سزا سنائی تھی، کسی اور جرم میں نہیں۔ بعد میں انہیں ارشد ملک صاحب نے جس مقدمے میں سزا دی، ہنوز اپیل کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

اس عرصے میں صرف ان کے کاروبار میں ہی اضافہ نہیں ہوا، ہر تاجر کی معیشت مستحکم ہوئی۔ 1970ء کی دہائی میں جب صنعتیں قومی تحویل میں لی گئیں تو پھر بھی شریف خاندان کے پاس ایک کارخانہ موجود رہا۔ اس وقت اس میں سات ہزار ملازمین تھے۔ یہی وہ دور تھا جب جہانگیر ترین صاحب کے والد گرامی پولیس میں اے ایس آئی تھے۔ پھر وہ کاروبار میں آئے۔ آج ترین صاحب کے اثاثے نواز شریف صاحب سے زیادہ ہیں۔

اس دورِ ثانی میں نواز شریف صاحب پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ اِس وقت ان کی جس مبینہ کرپشن کا ذکر ہے، اس کا تعلق بھی ان کی سیاست کے ابتدائی دور سے ہے۔ اس حوالے سے 2013ء سے 2016ء تک کا دور بطور خاص قابلِ ذکر ہے۔ سیاسیات کے ایک طالب علم کے طور پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ نواز شریف نے بتدریج خیر کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔ ان کی سیاست میں اخلاقی اعتبار سے نکھار آیا ہے۔ شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اقتدار کی سیاست سے نکل کر اقدار کی سیاست کی سمت میں پیش قدمی کی ہے۔

عمران خان کی سیاست کے بھی دو ادوار ہیں۔ وہ وادیٔ سیاست میں اترے تو ایک آدرش ان کے سامنے تھا۔ ہر شعبے کے بہترین افراد نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان سے امیدیں باندھیں۔ جنر ل حمید گل نے خیال کیا کہ ان کی عوامی مقبولیت کو خیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنا وقت دیا۔ عمران خان اکثر ان کے پاس جاتے اور دین سے لے کر سیاست تک، ہر معاملے میں راہنمائی لیتے۔ جاوید صاحب نے اپنے ایک با صلاحیت ساتھی، ڈاکٹر فاروق خان شہید کو ان کے حوالے کر دیا۔ صحافت میں مجیب الرحمن شامی صاحب اور ہارون الرشید جیسے حضرات نے دستِ تعاون دراز کیا۔ اس دور میں، میں اگرچہ ایک مشتِ غبار تھا مگر آندھی کے ساتھ تھا۔

یہ دور عمران خان کے آئیڈیل ازم کا دور ہے۔ اس کا خاتمہ 2011ء میں ہو گیا۔ لاہور کے جلسے کے بعد مقتدر حلقوں نے انہیں اچک لیا۔ ان کے گرد خاص مزاج اور پس منظر کے لوگوں کا اضافہ ہونے لگا۔ نتیجتاً وہ سب لوگ آہستہ آہستہ چھٹنے لگے جو کسی آدرش کے ساتھ ان کے ہم سفر بنے تھے۔ تبدیلی کا یہ عمل 2014ء میں مکمل ہو گیا۔ یہ عمران خان کی سیاست کے دوسرے دور کا نقطہ عروج تھا۔ نوجوان‘ جو رومان میں جیتے ہیں، اس تبدیلی کا پوری طرح ادراک نہ کر سکے۔ رومان میں یہی ہوتا ہے۔

بعد کے واقعات نے بتایا کہ وہ نواز شریف کے برخلاف، رومان سے حقیقت پسندی کی طرف بڑھے ہیں۔ ان کی سیاست اخلاقی اعتبار سے دھندلاتی گئی۔ شفافیت میں کمی آتی گئی۔ انہوں نے اقدار کی سیاست سے نکل کر اقتدار کی سیاست میں قدم رکھ دیا۔ ایک سوال کے جواب سے اس ارتقا کو سمجھا جا سکتا ہے: پہلے کس علم اور اخلاق کے لوگ ان کے ارد گرد ہوتے تھے اور آج کس درجے کے لوگ ان کے گرد ہیں؟

زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ وہ اس نئی صحبت میں آسودہ ہیں۔ گویا ان کی من پسند دنیا یہی ہے۔ اقتدار میں آ کر انہوں نے اخلاقیات کو جس طرح نظر انداز کیا اور انتقام میں قانون کو بازیچہ اطفال بنا دیا، اس سے بھی ان کے بارے میں مایوسی بڑھی ہے۔ کارکردگی اورگورننس کا جو حال ہے، اس کے مظاہر بھی ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ ان کی شخصیت کا حقیقی روپ آج ہمارے سامنے ہے۔

سیاست کبھی بھی مثالی نہیں ہوتی۔ یہ معاشرے کا پرتو ہوتی ہے اور معاشرہ کبھی مثالی نہیں ہوتا۔ اس میں جتنا خیر ہوتا ہے، سیاست میں بھی اتنا ہی خیر تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ہم اگر تدریجاً خیر کی طرف بڑھ رہے ہیں تو یہ بات اطمینان کا باعث ہے۔ اگر ہم خیر سے شر کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں تو یہ بات پریشانی کا باعث ہونی چاہیے۔

جو لوگ سیاسی مقدمہ قائم کرتے وقت بات بات پر ماضی کے حوالے دیتے ہیں، ان کو چاہیے کہ فرد کے ارتقا کو جانیں۔ اس سوال کا جواب ہمارے لیے انتخاب کو آسان کر سکتا ہے کہ کون خیر کی طرف بڑھا ہے اور کون شر کی طرف؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •