میڈیا کو حکومت نے اپنے خلاف کر لیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے تک اسلام آباد میں حکومتی ترجمان‘ وزرا اور میڈیا مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ پر جگتیں مار رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر بھی تحریک انصاف کے حامی ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی لانگ مارچ کو سنجیدہ نہیں لے رہا تھا ۔
پچھلے ہفتے تک ہمارا خیال تھا کہ مولانا جلدی کررہے ہیں‘ ایک سال میں حکومت کتنی ہی بری پرفارمنس دے‘ وہ اَن پاپولر نہیں ہوتی۔ دو سال لگ ہی جاتے ہیں ۔ نہ عمران خان نے نواز شریف کے دو سال گزرنے کا انتظار کیا تھا اور نہ ہی اب مولانا اور نواز شریف انتظار کے موڈ میں ہیں۔
اگرچہ دھرنے کے بعد عمران خان چار سال کوششوں میں مصروف رہے‘ لیکن حکومت کو نہ ہٹوا سکے‘ تاہم عمران خان یہ کریڈٹ لے سکتے ہیں کہ آخر انہوں نے نواز شریف کو پانامہ پر سزا دلوائی اور وزیراعظم ہاؤس سے سیدھا جیل بھجوایا ۔ ان پانچ برسوں کی محنت‘ جلسے جلوسوں اور الیکشن کے بعد وزیراعظم بھی بن گئے۔ تو کیا نواز شریف اور مولانا نے بھی وہی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو عمران خان نے کیا تھا ؟ کیامولانا بھی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ اس راستے پر وہی نتائج حاصل کریں گے جو عمران خان نے حاصل کیے تھے؟
ہوسکتا ہے باقی حالات وہی ہوں جو عمران خان کے لانگ مارچ یا دھرنے کے وقت تھے‘ لیکن اس دفعہ ایک بڑا فرق ہے‘ اُس وقت سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر السلام اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بارے کہا جارہا تھا کہ وہ سول حکومت کے ساتھ ایک پیج پر نہیں تھے‘ لہٰذا دل جلے یہ کہتے تھے سارا کھیل کسی کے اشارے پر کھیلا جارہا ہے اور عمران خان کو انہی قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔ ایک دن وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے بی بی سی کو انٹرویو میں یہ کہہ ڈالا کہ دھرنے کے پیچھے جنرل تھے اور نواز شریف کے پاس خفیہ ٹیپس بھی موجود تھیں ۔
اگرچہ اس وقت مشاہد اللہ سے استعفیٰ لے لیا گیا ‘لیکن کچھ عرصے بعد جب گرد بیٹھ گئی تو انہیں دوبارہ وزیر بنا دیا گیا ۔ یہ پیغام فوجی قیادت‘ میڈیا اور عوام کو دینا مقصود تھا کہ عمران خان کے دھرنے کے پیچھے عسکری لوگ تھے۔یہ اور بات ہے کہ نواز شریف اقتدار میں آتے ہی یکدم مصلحت پسند کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ایک وقت میں کئی کھیل کھیلتے ہیں‘ ایک طرف وہ ہر جگہ جنرل راحیل شریف کو ساتھ رکھتے‘ لیکن یہ تاثر بھی وزرا اور پسندیدہ صحافیوں کے ذریعے دینانہ بھولتے کہ فوجی قیادت سے اختلافات چل رہے ہیں۔
اسی لیے فوجی قیادت کو خوش کرنے کے لیے ڈان لیکس پر جے آئی ٹی بنا دی اور آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو افسران شامل کر کے وزراکو حکم دیا کہ وہ ان کے سامنے پیش ہوں۔ اس وقت نواز شریف جرأت نہ کر سکے کہ سٹینڈ لیتے‘ تاہم یہ جرأت اس وقت انہیں یاد آئی جب وہ وزیراعظم کے عہدے سے برطرف ہوئے اور کچھ دن بعد ملتان میں اسی رپورٹر کو بلا کر وہی باتیں کہہ ڈالیں جن سے وہ خود انکاری تھے‘ بلکہ اسی رپورٹر کا نام ای سی ایل میں بھی ڈال دیا تھا جسے اب انٹرویو دے رہے تھے۔
تاہم اس دفعہ کہا جاتا ہے وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں۔ یہ بھی بڑی دلچسپ تاریخ ہے کہ ماضی میں جب سول اور فوجی قیادت ایک پیج پر نہیں تھے تو محسوس کیا جاتا تھا کہ میڈیا کو آزادی ہے۔ میڈیا والوں پر دبائو نہیں ہوتا تھا کیونکہ دونوں کوشش کرتے تھے میڈیا ان کی طرف رہے‘ تاکہ وہ ان کے نقطۂ نظر اور ترجیحات کو رپورٹ کرے ۔ اگر آپ لوگوں کو یاد ہو تو شاہد خاقان عباسی کے دور میں جب فیض آباد کا دھرنا ہوا تھا ‘تو کہا جاتا تھا کہ اس وقت بھی سول اور فوج ایک پیج پر نہ تھے‘ لہٰذا جب حکومت نے پیمرا کے ذریعے دو تین اینٹی حکومت ٹی وی چینلز بند کیے تو طاقتور حلقوں نے ان چینلز کی حمایت میں وزن ڈال کر انہیں کھلوا دیا تھا۔
واللہ اعلم۔ تاہم جب سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں‘ بڑے عرصے بعد سول اور فوجی حکام ایک پیج پر ہیں‘ لہٰذا میڈیا کو قدرے دبائو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ میڈیا جو برسوں تک پرچار کرتا رہا کہ پاکستان نے اگر ترقی کرنی ہے تو فوجی اور سویلین لیڈرشپ ایک پیج پر ہونی چاہیے۔ شاید اسے پتہ نہ تھا کہ جس دن یہ ایک پیج پر آگئے تو سب سے بڑا نشانہ اور کوئی نہیں‘ میڈیا ہی ہوگا ۔ شاید اسی تناظر میں کچھ بڑے بڑے ٹی وی اینکرز کو بلا کر کہا گیا کہ وہ اپنی صفیں درست کر لیں اور عمران خان حکومت کی اچھی اچھی باتیں رپورٹ کرنا شروع کر دیں ۔ ٹی وی چینلز کو بھی ہدایات آنا شروع ہوگئیں کہ وہ کیا دکھایا کریں اور کیا نہیں۔
دوسری طرف عمران خان ‘جو میڈیا کی طاقت ہی سے اوپر آئے تھے ‘ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ میڈیا ان کا ساتھی رہا ہے‘ دشمن نہیں ۔ لیکن وہ دھیرے دھیرے عوام اور میڈیا سے دور ہوتے چلے گئے۔ جس میڈیا کی وہ دن رات تعریفیں کرتے تھے وہ انہیں برُا لگنے لگا۔ ایک دن انہوں نے کابینہ اجلاس میں میڈیا کے لیے بھی دہشت گرد عدالتوں کی طرز پر علیحدہ عدالتیں بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں فوری سزائیں دی جائیں ۔ وزیرقانون فروغ نسیم کو کہا گیا کہ وہ قانون بنا کر لائیں۔ دوسری طرف میڈیا والوں کو کہا گیا کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں ورنہ سزائوں کے لیے تیار ہوجائیں ۔
اس وقت عمران خان کے اقتدار کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے‘ لیکن سیانے کہتے ہیں کہ جب آپ عروج پر پہنچ جاتے ہیں تو وہی مرحلہ آپ کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ عمران خان اس وقت جس عروج پر پہنچ چکے ہیں اس سے زیادہ آگے وہ نہیں جا سکیں گے‘اب ان کے پیچھے آنے کے امکانات زیادہ ہیں‘ آگے جانے کے نہیں ۔ اس ایک سال میں وہ بہت سا وقت ضائع کر بیٹھے ہیں اور ان لڑائیوں اور باتوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں جن سے انہیں بچنا چاہیے تھا ۔ اگر انہوں نے ایک ساتھ اتنے محاذ کھولنے تھے‘ مہنگائی کرنی تھی‘ اپنے ووٹرز کی چیخیں نکلوانی تھیں تو پھر انہیں میڈیا کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے تھے ‘جو انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرح پہلے دن سے ہی شروع کر دی تھی ۔ ہوسکتا ہے عمران خان کو محسوس ہوا ہو کہ اب وہ وزیراعظم بن گئے ہیں‘ سب طاقت ان کے پاس ہے ‘ سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے‘ اب میڈیا ان کا کیا بگاڑ سکتا ہے ؟
غالباً اب انہیں پتہ چل رہا ہوگا کہ جب مولانا فضل الرحمن کا دھرنا اسلام آباد آنے کو تیار ہے تو میڈیا کیا رول ادا کررہا ہے۔ شروع میں میڈیا نے کسی حد تک حکومت کو سپورٹ دینے کی کوشش کی‘ لیکن اب جس دن سے مولانا نے نوجوانوں سے خوفناک انداز میں سلامی لی ہے اور کہا ہے کہ اٹھارہ برس سے اوپر کے لڑکے مارچ میں شریک ہوں گے تو سب کو فکر لاحق ہوگئی ہے۔
اچانک حکومت کے مشیروں‘ وزیروں اور میڈیا نے بھی مولانا اور ان کی دھمکیوں کو سنجیدہ لینا شروع کر دیا ہے۔ مولانا نے اچانک میڈیا پر اپنی جگہ بنا لی ہے۔ حکومت کی میڈیا کے خلاف سخت کارروائیوں نے مولانا کا کام آسان کر دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی حکومت نے بھی وہی حربے اختیار کرنے شروع کر دیے ہیں جو کبھی نواز شریف دور میں عمران خان کے خلاف استعمال ہوتے تھے۔مجھے یاد ہے نواز شریف دور میں ٹی وی چینلز پر دبائو تھا کہ وہ نہ تو عمران خان کے لوگوں کو ٹی وی شوز میں بلائیں اور نہ ہی جلسوں کو کوریج دیں ۔ اب عمران خان کی حکومت وہی سب کچھ مولانا کے ساتھ کررہی ہے۔ اگر نواز شریف عمران خان کو ان طریقوں سے نہیں روک سکے تو کیا وہ مولانا کو روک سکیں گے؟
لوگ ستمبر کو ستم گر کہتے ہیں‘ لیکن مجھے نومبر خطرناک لگ رہا ہے۔
عمران خان حکومت کی پہلے سال میں بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ فوجی قیادت کو ایک پیج پر لے آئے‘ لیکن بڑی ناکامی یہ ہے کہ جن دو طبقات کے کندھوں پر بیٹھ کر وہ اقتدار میں آئے تھے وہ ان سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ ایک عوام جس سے کیے گئے سب وعدے جھوٹے نکلے ہیں اوردوسرا میڈیا جس کو وہ دہشت گردوں کی طرح عدالتیں لگا کو سزائیں دلوانا چاہتے ہیں ۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •