رحیم یار خان پولیس اور مدعی خاتون پر شرمناک الزامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین سال پُرانی بات ہے، میری لاہور گلبرگ میں  محلے کے لڑکوں سے لڑائی ہوگئی۔میں اکیلا تھا اسلیے مجھے مار بھی زیادہ پڑی۔لڑائی کے بعد پولیس کو فون کیا۔گلبرگ پولیس  تب پہنچی،جب سب تتربتر ہوگئے۔جن سے لڑائی ہوئی ،مجھے ان کا گھر بھی پتا نہیں تھا۔ پولیس والوں نے کہا چلو تھانے چلتے ہیں، درخواست جمع کرادو۔ میں پولیس وین میں ان کےساتھ بیٹھ گیا۔ جیسے ہی محلے سے نکلے تھوڑی دیر بعد موٹرسائیکل پر سوار دو نوجوانوں نے ہمیں روکا۔ اور  اُن لڑکوں کا نام و پتا بتایا جن سے میر ی لڑائی ہوئی تھی۔ شاید دونوں لڑکے ان کے مخالف گروپ کے تھے۔ میں تھانے پہنچا اور واقعے کی درخواست لکھوادی۔ کچھ دیر بعد وہاں سے گھر واپس آگیا۔درخواست کی پیروی کرنے میں دوسرے دن پھر تھانے پہنچ گیا۔ تب تلک مخالف پارٹی تھانے میں رابطے کرچکی تھی۔ وہاں پہنچا تو تھانیدار نے بتایا کہ آپ نے اُن کے بوڑھے والد کو مارا ہے۔ اس لیے انہوں نے آپ کو مارا۔ اسی دوران انہوں نے دوسری پارٹی کے لوگوں کو  بھی بلا لیا۔

مجھے کہا گیا کہ یہ لوگ آپ کے خلاف درخواست لکھوا رہے ہیں۔ جس کے بعد آپ کو بھی ان کے ساتھ تھانے میں رکھنا پڑے گا۔ اگرآپ چاہیں توان سے صلح کرسکتے ہیں۔ تھانے میں  رات گزارنے کی بات سن کر میں سن ہوگیا۔ تھانے دار نے کہا آپ کو سوچنے کے لیے دس منٹ کا وقت دیتے ہیں، باہر جائیں سوچ کر آئیں کیا کرنا ہے۔ میں   باہر چلاگیا۔ دوستوں سے فون پر مشورہ لیا۔ آخرمیں یہی بات طے پائی کہ صلح کرلی جائے تو بہتر ہوگا۔

خیر یہ تو تھی میری کہانی، اب چلتے ہیں  اصل معاملے کی طرف، چند روز قبل رحیم یار خان سے ایک خبر موصول ہوئی۔ جس  میں ایک ایف آئی آر کا عکس بھی تھا۔ اُس میں  ایک خاتون پر یہ الزام تھا کہ اس نے ایک نوجوان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ نوجوان کو نشہ آور چیز کھلا کر اس کے عضو تناسل پر دانت سے کاٹا ہے۔ وغیرہ۔

ایف آئی آر کے عکس کے ساتھ اُس خاتون کا ایک ویڈیو بیان بھی تھا۔ جس میں  وہ رحیم یار خان پولیس کو دہائیاں دے رہی ہے۔ ویڈیو بیان سننے کے بعد میں نے خبر کے حقیقت جاننے کی ٹھان لی۔ رحیم یار خان میں اپنے ٹی وی کے نمائندے سے رابطہ کیا۔ خبر سے متعلق اس نے تمام چیزیں مجھے ارسال کردیں۔ ایک دن کی تحقیق اور کانٹ چھانٹ کے بعد جو حقیقت سامنے آئی کچھ یوں ہے۔

چند روز قبل 58 سالہ   ٹیچر ثمینہ کے گھر میں چوری ہوئی۔ شک کے بنا پر اُس نے اپنے کرائے دار لڑکوں  کے خلاف درخواست دے دی۔ پولیس نے چوری ثابت ہونے پر لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ بعد ازاں ملزم پارٹی کے طرف سے  پولیس کومبینہ طور پر رشوت دی گئی۔ جس کے بعد پولیس نے خاتون پر صلح کے لیے پریشر ڈالا۔ خاتون نہ مانی اوراپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ پنجاب پولیس نے خاتون ٹیچر کو سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ ملزم کی مدعیت میں  اس کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی۔ جس میں درج بالا گھناونے الزامات لگائے گئے۔ جنہیں میں دوبارہ لکھنا نہیں چاہتا۔ سب سے اہم نکتہ یہ  ہے کہ میڈیکل رپورٹ میں لڑکے سے جنسی زیادتی ثابت نہیں ہوئی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رحیم یار خان پولیس نے خاتون کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی۔

کوشش بھی ایسی کہ جس سےوہ معاشرے میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ یہ صرف دو واقعات  نہیں ہیں، پنجاب پولیس نہ جانے روزانہ  کتنی بار قانون سے کھلواڑ کرتی ہے۔ آخر میں اس مصرع میں ترمیم کی جسارت کرتے اختتام کروں گا:
پنجاب پولیس جو چاہیے اس کا دست کرشمہ ساز کرے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سجاد احمد بلوچ کی دیگر تحریریں
سجاد احمد بلوچ کی دیگر تحریریں