کردوں سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کالم میں کردوں کے لیے لکھ رہا ہوں۔ کچھ معترض یہ کہیں گے کہ ایک کشمیری کو کردوں کے بکھیڑے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے‘ آپ کے اپنے دکھ کیا کم ہیں؟ آپ کی اپنی صورت حال نا گفتہ بہ ہے۔ کشمیری دو ماہ سے کھلی جیل میں بند ہیں۔ آپ کے لیڈر دیکھیے کیا کر رہے ہیں‘ اور آپ چلے کردوں کی حمایت کرنے۔ مگر عرض یہ ہے کہ گزشتہ بیس برسوں میں مَیں نے کشمیر پر اتنے کالم لکھے ہیں کہ اگر جمع کریں تو کئی کتابیں بن جائیں گی۔ اور اپنا دکھڑا اتنی بار دہرا چکا ہوں کہ اب کشمیر کا عنوان دیکھ کر ہی قارئین بتا دیتے ہیں کہ کالم میں کیا لکھا ہو گا۔ اب تو ایڈیٹر حضرات بھی اکتا گئے ہوں گے۔ مروت میں خاموش ہیں‘ ورنہ کب کا کہہ چکے ہوتے کہ جناب کشمیر پر بہت ہو گیا، اب کوئی اگلی بات کریں۔

کردوں کے بارے میں کالم لکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک مظلوم قوم کو دوسری مظلوم قوم کی اخلاقی حمایت کرنی چاہیے۔ کشمیریوں اور کردوں کی کہانی میں بہت کچھ مشترک ہے۔ دونوں قومی آزادی اور شناخت کی بات کرتے رہے ہیں۔ دونوں کا مسئلہ جمہوری حقوق، شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ دونوں تاریخ کے جبر، معاہدوں اور وعدوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ جس طرح اٹھارہ سو چھیالیس کے معاہدہ لاہور اور معاہدہ امرتسر سے کشمیر کی جدید کہانی کا آغاز ہوتا ہے، اسی طرح کردوں کی کہانی بھی ایک معاہدے سے شروع ہوتی ہے۔ یہ مشہور معاہدہ ہے، جسے دنیا ”ٹریٹی آف سیورس‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ معاہدہ دس اگست انیس سو بیس کو فرانس کے ایک شہر سیورس میں ہوا تھا۔

یہ معاہدہ پہلی جنگ عظیم کے پس منظر میں ہوا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران کچھ کرد قوم پرست گروہوں نے برطانیہ کا ساتھ دیا تھا‘ جبکہ دوسری طرف کچھ قبائلی لوگ سلطنت عثمانیہ کے ساتھ تھے۔ اس جنگ کے نتیجے میں کرد لوگ بڑے پیمانے پر تباہی، موت، ہجرت اور نسل کشی کا شکار ہوئے۔ جنگ عظیم کے خاتمے پر سلطنت عثمانیہ کی شکست و ریخت کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر ترک قوم پرستوں کے لیے ایک تارِیخی موقع پیدا ہوا۔ مغربی ممالک‘ خصوصاً برطانیہ‘ نے ترکوں سے وعدہ کیا کہ وہ ان کی خود مختاری میں ان کی مدد کریں گے۔ لیکن یہ وعدہ ایفا نہ ہوا؛ البتہ معاہدہ سیورس کے تحت کردوں کی اندرونی خود مختاری کو تسلیم کیا گیا۔

اس معاہدے کی اہم شق غیر ترکی علاقوں سے ترکوں کا انخلا تھا۔ اس کی روشنی میں نئی حکومتوں کا قیام عمل میں آیا جس میں فلسطین، شام اور لبنان وغیرہ شامل تھے۔ اس معاہدے سے ترکوں میں قوم پرستی کے جذبات پیدا ہوئے، ترکی کی خود مختاری کی جنگ شروع ہوئی۔ ترکی قوم پرستوں کی رہنمائی کرتے ہوئے اتاترک نے معاہدہ سیورس پر دستخط کرنے والوں کو شکست دی، اور انیس سو تئیس میں سوئٹزرلینڈ کے ایک شہر لوزان میں ایک نئے معاہدے کے تحت ری پبلک آف ترکی کا قیام عمل میں آیا۔ اس معاہدے کے تحت کرد عوام کو کئی حصوں میں تقسیم کر کے ترکی، شام، ایران اور عراق میں بانٹ دیا گیا۔ اس سے کردوں کے اندر سوئے ہوئے قوم پرستی اور نسلی شناخت کے جذبات بڑی شدت سے انگڑائی لے کر بیدار ہو گئے۔

یوں تو کردوں کے اندر قوم پرستی کی تحریک بہت پرانی ہے‘ لیکن جدید تحریک کا آغاز اٹھارہ سو اسی کے لگ بھگ ہوا۔ اس وقت کردوں نے اپنے ایک جاگیردار شیخ عبیداللہ کی قیادت میں مکمل خود مختار ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تحریک کو دبا دیا گیا، رہنمائوں کو جلا وطن کر دیا گیا، مگر تحریک کسی نہ کسی شکل میں جاری رہی۔

انیس سو پچاس تک کرد کسی نہ کسی شکل میں اپنی شناخت کے لیے لڑتے بھی رہے، اور گاہے سمجھوتہ کر کے متعلقہ ممالک کے حکومتی بندوبست کا حصہ بھی بنتے رہے۔ کردوں کی تحریک ستر کی دہائی میں اس وقت سائنسی بنیادوں پر منظم ہونا شروع ہوئی، جب کرد قوم پرستوں کی نئی نسل نے مارکسسٹ خیالات کو اپنانا شروع کیا‘ جو بالآخر کردش ورکرز پارٹی کے قیام پر منتج ہوا۔

کردوں کی تحریک پر اردو زبان میں ایک سیاسی یا نظریاتی تحریک کے طور پر بہت کم لکھا گیا۔ اس حوالے سے تحقیق کی دنیا میں ایک ”بلائنڈ سپاٹ‘‘ موجود ہے۔ اس حوالے سے جو ادب تخلیق ہوا، وہ ان کے جرائم یا تشدد و دہشت گردی کے بارے میں زیادہ ہے۔ کردوں کے بارے میں جانب دارانہ نقطہ نظر سامنے لایا جاتا رہا ہے۔ کردوں پر دہشت گردی اور تشدد کے الزامات عام ہیں۔ یہ الزامات کسی حد تک درست بھی ہیں۔ مگر ایک وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے کروڑوں کرد عوام سماجی و معاشی طور پر پسماندہ لٹے پٹے مظلوم لوگ ہیں، جن کا دہشت یا تشدد سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ عام لوگ ہیں، جنہیں سماجی و معاشی انصاف کی ضرورت ہے۔

حالیہ برسوں میں کرد ترقی پسند تحریک ماضی کے کئی پُر تشدد اور درد ناک تجربات سے سیکھ کر اپنے نظریات اور پالیسیوں میں بڑی حد تک تبدیلی لائی ہے۔ اب اس تحریک کے دانشوروں کا خیال ہے کہ آزادی کے لیے اپنی الگ ریاست بنانا ضروری نہیں ہے‘ بلکہ آزادی کا حصول ایک مکمل جمہوریت کے ذریعے بھی ممکن ہے۔ اس حوالے سے ‘پی کے کے‘ کے تین مشہور پروجیکٹ ہیں۔ جمہوری ری پبلک، جمہوری نیم خود مختاری، اور جمہوری کنفیڈریشن۔

ڈیموکریٹک ری پبلک کا مطلب ہے کہ ترکی کے جمہوری نظام کا از سر نو تعین کیا جائے۔ جمہوریت کو قوم پرستی سے الگ کیا جائے۔ ڈیموکریٹک نیم خود مختاری کا مطلب ہے کہ عوام کے پاس اپنی ترجیحات اور پالیسیوں کے تعین کا حق ہو۔ اور ڈیموکریٹک کنفیڈریشن کا مطلب ہے کہ طاقت کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے اور عوام کا خود پر حق حکمرانی تسلیم کیا جائے۔ یہ ایک ترقی پسندانہ نظریہ ہے جو کردوں کو اپنی شناخت، ثقافت اور روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عام دھارے کا حصہ بنا سکتا ہے۔ ترکی اور کردوں کے درمیان کشمکش کا مسئلہ پرانا ہے۔

یہاں پندرہ سے بیس فیصد کرد آباد ہیں۔ کردوں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ ترک حکام کے ہاتھوں کرد آبادی زیادتیوں کا شکار رہی ہے۔ ترکی میں آباد کردوں کے ناموں اور ان کے لباس تک پر پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔ ان کی زبان کو محدود کرنے اور مٹانے کی سرکاری سطح پر کوششیں ہوتی رہی ہیں، تاکہ ان کو ترک آبادی میں ضم کر دیا جائے۔ اس کے مقابلے میں کرد اپنی ثقافت، زبان اور شناخت کی لڑائی لڑتے رہے۔ ترکی کے اندر کردوں کی اس جدوجہد کی طویل تاریخ ہے۔ اسی کی دہائی میں انہوں نے اپنے مطالبات کے لیے ہتھیار بھی اٹھائے اور باقاعدہ منظم مسلح جدوجہد بھی کی۔ اس دوران چالیس ہزار سے زائد لوگ مارے گئے۔ انیس سو نوے میں کردوں کی مقبول پارٹی ”کرد ورکر پارٹی‘‘ پی کے کے نے خود مختاری کا مطالبہ واپس لے لیا، اور اس کی جگہ ثقافتی اور سیاسی خود مختاری کا مطالبہ اپنایا۔

آج کل شامی کردوں پر تازہ افتاد پڑی ہوئی ہے۔ اس کی ابتدا امریکہ کی طرف سے ترکی کی سرحد سے متصل شام کے شمال مشرقی علاقوں سے اپنی فوج کے انخلا کے فیصلے سے ہوئی۔ اس فیصلے سے ترکی کی فوج کو موقع مل گیا کہ وہ اپنی سرحدوں سے شامی کرد ملیشیا اتحاد کے خلاف کارروائی کر سکے۔

ترکی کے پاس اس وقت تین اعشاریہ پانچ ملین شامی پناہ گزین ہیں۔ ترکی ان میں سے بیس لاکھ پناہ گزینوں کو واپس کرنے اور دوبارہ آباد کاری کے لیے شام کے اندر بتیس کلومیٹر ”سیف زون‘‘ یعنی محفوظ علاقہ بنانا چاہتا ہے۔ ترکی اس علاقے کے شامی کردوں کے اتحاد کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ اتحاد کردستان ورکز پارٹی کا ہی حصہ ہے، جو لمبے عرصے سے کردستان کی خود مختاری مانگ رہی ہے۔ کردوں کی ایک سو سال تک پھیلی ہوئی طویل جدوجہد میں سبق یہ ہے کہ فی زمانہ مسلح جدوجہد اور دہشت گردی کسی سیاسی مسئلے کا حل نہیں۔ کردوں کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ یہ اور زیادہ خوفناک مسائل پیدا کرتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •