’’Straight Talk‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذوالفقار احمد چیمہ کا معاملہ بھی حبیب جالبؔ جیسا ہی ہے : جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے۔ جالبؔ اسے ”حسنِ آوارگی‘‘ کااعجازقرار دیتے ‘ جبکہ ذوالفقار چیمہ کی وجہ ٔ شہرت حسنِ کارکردگی تھی۔ ایک سخت گیر‘ اصول پسند اور آئین وقانون سے سرِ موانحراف نہ کرنے والے پولیس افسر کی تعیناتی ‘ علاقے کے جرائم پیشہ گروہوں کے لیے خوف کا باعث تو ہونا ہی تھی‘ سیاستدانوں میں سے بھی اکثر وبیشتر ان سے نالاں ہی رہتے ۔ میاں صاحب کی دوسری وزارتِ اعلیٰ میں (جب بے نظیر صاحبہ پہلی بار وزیر اعظم تھیں) ذوالفقارچیمہ راولپنڈی میں ایس پی تھے۔
جوئے کے اڈوں کے خلاف مہم پر ایم این اے صاحب ناراض ہوگئے اور لاہور جاکر ڈیرہ لگا لیا کہ ”یہ میری عزت کا سوال ہے۔ اگر ایس پی وہاں رہتا ہے تو میں پنڈی نہیں جاسکتا‘‘۔بالآخر وزیر اعلیٰ کو اپنے ایم این اے کی ضد ماننا پڑی اور چیمہ صاحب کا تبادلہ کردیا گیا۔ ان دنوں لاہور میں بھی جرائم بہت بڑھ گئے تھے‘ وزیر اعلیٰ نے بااصول اور باصلاحیت پولیس افسرکو اپنے شہر کے لیے پسند کرلیا۔یہ ایک طرح سے نوجوان افسر کی راولپنڈی میں کارکردگی کا انعام بھی تھا۔ ”راولپنڈی کی کچھ کھٹی میٹھی یادیں‘‘کے عنوان سے یہ کہانی ذوالفقار چیمہ کی کتاب ”دوٹوک‘‘ کا دلچسپ باب ہے۔
ریٹائر منٹ کے بعد قومی اخبارات میں لکھنا شروع کیا۔ خالد شریف بتارہے تھے کہ ایک دن انہوں نے ان کالموں کو کتابی صورت میں شائع کرنے کی تجویز پیش کی تو ذوالفقار چیمہ کا جواب تھا کہ اخباری کالم کی زندگی زیادہ سے زیادہ ایک آدھ دن ہوتی ہے‘ جنہوں نے پڑھنا ہوتا ہے‘ وہ اسے اخبار میں پڑھ چکے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے کتاب کون خریدے گا(شامی صاحب اس کے لیے سبزی کی مثال دیتے ہیں۔ صبح کی تازہ سبزی شام کو باسی ہو کر ٹکے ٹوکری ہوجاتی ہے)خالد شریف کے اصرار پرذوالفقار چیمہ نے ہاں کردی۔”دوٹوک باتیں‘‘ ان کے کالموں کا پہلا مجموعہ تھا‘ خالد شریف کے بقول تین چار سال میں جس کے دس ایڈیشن آچکے ۔
”Straight Talk‘‘،”دوٹوک باتیں‘‘ کا انگریزی ترجمہ ہے ‘جس کی تقریبِ رونمائی گزشتہ روز الحمرا کے ہال نمبر3میں منعقد ہوئی۔ حاضرین میں اکثریت ریٹائرڈ بیورو کریٹس اور پولیس افسروں کی تھی۔ وکلا واساتذہ سمیت ارباب علم ودانش کی تعداد بھی کم نہ تھی ۔کتاب انگریزی میں تھی‘ شاید اسی لیے انگریزی ہی میں اظہارِ خیال آدابِ محفل ٹھہرا۔ وہ تو خالد محمود روایت شکن ٹھہرے۔ 22 ویں سکیل میں ریٹائرہونے والے بیوروکریٹ‘ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ بھی مختلف حیثیتوں میں وا بستہ رہے۔ 1999ء میں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین تھے ‘جب وسیم اکرم کی کپتانی میں پاکستان ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچا۔
ان دنوں مولانا ظفرعلی خاں ٹرسٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے ‘ مولانا کے افکار ونظریات کی اشاعت ‘ تحریکِ پاکستان کے اعلیٰ وارفع مقاصد سے نئی نسل کی آ گاہی اور اردوزبان کے فروغ کو وظیفۂ حیات بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ایسے موقع پر مائک پر آئے جب ان سے پہلے مقررین اپنی انگریزی دانی کا سکہ جما چکے تھے۔ خالد محمود نے ماحول کوبدلنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا‘ میں اس لیے اردو میں اظہار ِخیال کروں گا کہ میری انگریزی اتنی اچھی نہیں (ظاہر ہے‘ عجزوانکساری کا یہ اظہار ماحول کو پر لطف بنانے کے لیے تھا) اردو میں اظہار خیال کی دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ہم دیسی لوگ بدیسی زبان کو وسیلۂ اظہار بناتے ہیں تو مواد (Content) سے زیادہ زبان پر توجہ رہتی ہے‘ مواد پر توجہ دیں تو زبان کا معاملہ گڑبڑہوجاتاہے تیسری وجہ یہ کہ انگریزی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ہم خود کو چرچل سمجھنے لگتے ہیں اور اصل موضوع سے ہٹ کر فکروفلسفہ کی بھول بھلیوں میں کھوجاتے ہیں۔
شاعر اپنے شعروں سے میلہ لوٹتے ہیں‘ خالد محمود اپنی سادہ سی ”نثر‘‘ سے میلہ لوٹ رہے تھے۔ ذوالفقار چیمہ کی ”دوٹوک باتیں‘‘ (Straight Talk)کا پہلا باب”امی جان ‘‘پر ہے۔خالد محمود کا کہنا تھا کہ خالد شریف ”ماں‘‘ پر اردو نثرمیں لکھی گئی تحریروں کو کتابی صورت میں لائیں تو ذوالفقار چیمہ کی ”امی جان‘‘ شاید سرفہرست ہو۔
جسٹس (ر) ناصر ہ جاوید اقبال کو خالد محمود صاحب سے اتفاق تھا‘ ان کا کہنا تھا کہ اپنوں کے درمیان اپنی ہی زبان‘ میں اظہار خیال جتنا پرُلطف اور پرُتاثیر ہوتا ہے کسی اور زبان میں کہاں۔ ان کی گفتگو میں کہیں کہیں انگریزی کا تڑکا بھی تھا‘ لیکن انہوں نے اپنوں کے درمیان‘ اپنی ہی زبان کو زیادہ تر وسیلۂ اظہار بنا یا۔علامہ کے اشعار کے برموقع اور برمحل استعمال نے جسے چار چاند لگا دیئے تھے۔
احتساب کی اہمیت وافادیت کے لیے انہوں نے علامہ کے اس شعر کا سہارا لیا ؎
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار چیمہ جیسے اشخاص کا تقرر نظامِ احتساب کے وقار اور اعتبار میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ پولیس کے دور یٹائرڈ انسپکٹر جنرلز ‘ سینیٹر رانا مقبول احمد اور طارق سلیم ڈوگر نے ذوالفقار چیمہ کی کتاب کو پولیس کے ٹریننگ سینٹر ز اور اکیڈمیز کے نصاب میں شامل کرنے پر زور دیا۔ سابق وفاقی سیکرٹری خواجہ شمائل احمد اور سابق سفیر پاکستان قاضی رضوان الحق نے ذوالفقار چیمہ کو نوجوان پولیس افسران اور بیوروکریٹس کے لیے رول ماڈل قرار دیا۔ (ہمارے قیام جدہ کے دوران قاضی رضوان الحق تین سال وہاں پاکستان کے قونصل جنرل رہے اور اپنی خوش گوار یادوں کے ساتھ‘ تادیر وہاں کے پاکستانیوں کے دلوں میں ٹھکاناکیے رکھا)۔
جسٹس (ر) اعجاز احمد چودھری کے بیس پچیس منٹ کے خطبۂ صدارت کی ایک اہم بات یہ تھی کہ اس میں شاید ہی انگریزی کا کوئی ایک لفظ آیا ہو۔ جسٹس اعجاز احمد چودھری کا شمار ان ججوں میں ہوتا ہے‘ جو پاکستانی عدلیہ کے وقار میں اضافے کا باعث بنے۔ وہ2007ء کی جسٹس موومنٹ کے اہم کرداروں میں شمار ہوتے۔
9مارچ 2007ء کو ( معطلی کے) صدارتی حکم کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اہم بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کے لیے نکلے‘ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کے لیے وہ 5مئی کی صبح سات بجے پنڈی سے روانہ ہوئے اور 25 گھنٹے میں 6 مئی کی صبح آٹھ بجے لاہور پہنچے توہائی کورٹ کے 16 سرونگ جج ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ ان میں اعجاز چودھری بھی تھے۔جسٹس جواد ایس خواجہ اس سے قبل اپنے احتجاجی استعفے کی صورت میں نئی تاریخ رقم کر چکے تھے۔3نومبر کے PCO (ایمرجنسی پلس) کا ہدف بننے والوں اعجاز چودھری بھی تھے۔
کتاب اور صاحبِ کتاب کی تعریف وستائش کے بعد وہ نرم لہجے میں کچھ تلخ باتوں کی طرف آگئے۔ پولیس کا نظام تفتیش اور ”پولیس مقابلے‘‘ان کے خطبۂ صدارت کے اہم نکات تھے۔ اس حوالے سے ان کے پاس متعدد مثالیں تھیں‘ مثلاً ریاض بسرا کے ” شبہے میں‘‘ 6 بے گناہوں کا قتل‘ انہوں نے ایک نوجوان پولیس انسپکٹر کی کہانی بھی سنائی‘ وہ سی ایس ایس کا امتحان دے کر کوئی اور محکمہ جوائن کرنا چاہتا تھا کہ پولیس میں وہ بہت سے ایسے فرائض کی انجام دہی پر مجبور تھا‘ جنہیں وہ اخلاقاً اور قانوناً درست نہیں سمجھتا تھا ‘مثلاً :مہینے میں منشیات کے تین نئے کیس اس کی ڈیوٹی میں شامل تھے‘ مجبوراً اسے داتا صاحب سے نشئیوں اور چرسیوں کو پکڑ کر گنتی پورا کرنا پڑتی۔
معاشرے کی مجموعی اخلاقی حالت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں حدودآرڈیننس آیا‘ تو ایسے گواہ ہی میسر نہ آتے جو ”تزکیۃ الشہود‘‘پر پورے اترتے ہوں۔ایک اور اہم بات انہوں نے یہ کہی کہ عدالتوں کے فیصلے پبلک پراپرٹی ہوتے ہیں‘جن پر ”فیئر کمنٹس‘‘ توہین ِعدالت کے زمرے میں نہیں آتے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •