گنیز ورلڈ ریکارڈ حاصل کرنے والے منی ایچر آرٹسٹ احسن قیوم پنسل کے سکے پر ایک پوری دنیا سمو دیتے ہیں

کومل فاروق - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنسل

BBC

’ریکارڈ تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں تو میری خواہش ہے کہ مستقبل میں اپنا ہی ریکارڈ توڑوں۔‘ یہ الفاظ حال ہی میں گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے والے پاکستانی منی ایچر آرٹسٹ احسن قیوم کے ہیں جنھوں نے پنسل کے سکے پر چین کی 75 کڑیاں بنائی ہیں۔

ایک دن انسٹاگرام پر سکرول کرتے ہوئے میری نظر احسن قیوم کے فن پاروں پر پڑی۔ پنسل کے سکے پر نقوش؟ پہلی نظر میں ان کا آرٹ مجھے تو آنکھوں کا دھوکہ لگا۔

احسن سے میری ملاقات لاہور میں ان کے گھر پر ہوئی۔ ایک کمرے پر مشتمل گھر۔ دیوار پر گرافیٹی، اخبار کے تراشے، گِٹار اور فریم کیے ہوئے فن پارے اور ان کے بیچ میں گنیز ورلڈ ریکارڈ جیتنے والا فن پارہ میڈل کی طرح لٹکا ہوا تھا۔ گویا کمرے کا ہر حصہ ان کے آرٹسٹ ہونے کی عکاسی کر رہا تھا۔

دیوار پر منی ایچر آرٹ یا چھوٹے سائز کے نازک فن پارے دیکھ کر میں ایک بات تو سمجھ گئی کہ یہ دِکھنے میں چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان کو بنانے کے لیے حوصلہ بڑا چاہیے۔ اور احسن سے مل کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ اسی حوصلے کا مظاہرہ انھوں نے اپنی نجی زندگی میں بھی کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا،پاکستان کی آرٹسٹ نے مل کر دو دن تک کیا رنگ بکھیرے

سیلفی میوزیم آئیں، انسٹاگرام کے لیے تصویر بنوائیں!

وزیرستان کا نو سالہ ’گنیز ریکارڈ ہولڈر‘

آرٹ کے ذریعے سماجی پیغام کا پرچار

حالات نے انھیں اپنے آبائی شہر گجرانوالہ کو خیر باد کہنے پر مجبور کیا تو وہ لاہور آ گئے اور جوتوں کی فیکٹری میں سات ہزار روپے کی ملازمت کرنے لگے۔

احسن کے شوق کا آغاز تو بچپن میں ہی ہو گیا تھا جب ترکھانوں کے گھر چلے جانے کے بعد وہ ان کی بچی کھچی لکڑیوں کو اٹھا لیتے اور تراشا کرتے۔

ملازمت کے ساتھ احسن نے گرافک ڈیزائننگ کی تعلیم شروع کی اور جلد ہی اسے اپنا کریئر بھی بنا لیا۔ لیکن آرٹ تخلیق کرنے کے شوق میں وہ اب بھی گئے رات تک جاگتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’لوگ تو مجھے آرٹ کا دیوانہ کہتے ہیں کہ پاگل ہو گیا ہے اِس کے پیچھے۔‘

پنسل

BBC

لیکن احسن کے بقول ان کے شوق کو سمت سنہ 2015 میں ملی جب ان کے ایک دوست نے انھیں روسی منی ایچر آرٹسٹ سلاوات فدائی کے فن پاروں کی تصاویر دکھائیں اور کہا یہ تم بھی کر سکتے ہو۔

’میں بہت زیادہ متاثر ہوا اور فوراً ہی بلیڈ سے پنسل تراشنا شروع کر دیا۔‘

سنہ 2019 کے آغاز میں ہی احسن قیوم تہیہ کر چکے تھے کہ وہ پنسل کے سکے پر 75 کڑیاں جوڑ کر انڈین آرٹسٹ کا 50 کڑیوں پر مشتمل ورلڈ ریکارڈ توڑیں گے۔

اس دوران ایک اور انڈین منی ایچر آرٹسٹ نے 58 کڑیاں جوڑ کر نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر لیا مگر احسن تو اس سے کہیں آگے کا سوچ کر اپنا ریکارڈ قائم کرنے میں مصروف تھے۔

پنسل

BBC

گنیز ریکارڈ جتانے والا فن پارہ

جب گنیز ورلڈ ریکارڈ کا ٹائٹل جتانے والے فن پارے کے متعلق بات ہوئی تو احسن نے بتایا کہ اس فن پارے کو مکمل کرنے میں ایک ماہ لگا اور اسے انھوں نے ایک ہی بار میں بنایا۔ 75 کڑیوں پر مشتمل چین کی ایک کڑی پر ڈیڑھ گھنٹہ لگا اور کُل ملا کر 120 گھنٹے لگے۔

’یہ فن پارہ میرے دل کے قریب اس لیے ہے کیونکہ اس نے مجھے بہت زیادہ صابر بنایا اور ٹائٹل جتوایا۔‘

پنسل

BBC

ورلڈ ریکارڈ بنانے کے لیے کیا کرنا پڑتا ہے؟

ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کے لیے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، اس بارے میں احسن کا کہنا تھا کہ ’یہ سب چیزیں اسی طرح ہو سکتی ہیں اگر آپ اپنے کام میں محو ہو جائیں اور اس کو اپنی دنیا بنا لیں جس (کام) میں آپ کی دلچسپی ہے۔‘

ٹیلنٹ ہو تو چھپائے نہیں چھپتا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے احسن نے کہا ’میں نے چھ روپے کی پنسل پر ورلڈ ریکارڈ توڑا۔۔۔ ایک سادہ سی چھ روپے کی پنسل پر۔ آپ اپنی صلاحیات کسی بھی چیز کے ذریعے باہر لا سکتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ چیز کتنی مہنگی ہے یا سستی۔‘

‘بطور آرٹسٹ جب میں چھوٹی سے دنیا سے نکل کر باہر جاتا ہوں تو بڑی بڑی عمارتیں مجھے اپنے ان خوابوں کی طرح نظر آتی ہیں جنھیں میں پانا چاہتا ہوں کیونکہ انسان کو ہمیشہ بڑا سوچنا چاہیے، چھوٹی سوچ نہیں رکھنی چاہیے۔‘

گنیز ورلڈ ریکارڈ بنانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

احسن کہتے ہیں ’اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے اندر صلاحیت ہے تو آپ گنیز ورلڈ ریکارڈ کی ویب سائٹ پر جائیں۔ وہاں پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں اور درخواست جمع کروائیں۔ دو طرح کی درخواستیں ہوتی ہیں، ریکارڈ توڑنے کی اور ریکارڈ قائم کرنے کی۔‘

’کافی طویل سلسلہ ہوتا ہے اور اس کے لیے آپ کو تقریباً چھ ماہ درکار ہوتے ہیں۔ پہلے آپ کی درخواست دیکھی جاتی ہے اور اگر درخواست منطور کر لی جائے تو آپ کو شواہد جمع کروانے پڑتے ہیں جو ریکارڈ بناتے وقت کی تصاویر، ویڈیوز اور اس بارے میں شائع کالم وغیرہ پر مشتمل ہو سکتے ہیں۔‘

شواہد کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے احسن نے بتایا کہ ’آپ کو اپنا ریکارڈ قائم کرنے یا توڑنے کے بارے میں آزاد گواہان کے بیانیے بھی چاہیے جن کا آپ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ آپ کے شواہد اتنے مضبوط ہونے چاہیے کہ کمیٹی قائل ہو جائے ورنہ آپ کی درخواست خارج ہو سکتی ہے۔‘

پنسل

BBC

آخر پنسل پر فن پارے بنتے کیسے ہیں؟

پنسلوں سے بھرے میز پر تیز روشنی جلا کر ایک پنسل تراشتے ہوئے احسن کہنے لگے کہ سب سے اہم چیز آئیڈیا سلیکشن ہے کہ سکے پر کیا بنایا جائے۔

نقش کا آئیڈیا تلاش کرنے کے لیے وہ سوشل میڈیا ایپ انسٹاگرام اور پنٹریسٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

بمشکل نظر آنے والے ملی میٹر کے گرافائیٹ سکے پر احسن کو صرف ایک بلیڈ کی مدد سے نقوش بناتے دیکھ کر دماغ دنگ رہ جاتا ہے۔ ان کے بقول یہ بہت باریکی کا کام ہے اور بیرون ممالک میں آرٹسٹ میگنیفائر یا مائکروسکوپ کا استعمال کرتے ہیں لیکن وہ کسی چیز کا سہارا نہیں لیتے۔

’پنسل کی نوک پر فن پارہ تراشنے میں کم از کم چھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں اور بعض اوقات ہفتے اور مہینے بھی لگ جاتے ہیں۔‘

ابھی تک احسن نے 30 سے 40 فن پارے بنائے ہیں جن میں سے چار پانچ بار انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’جب آپ ایک چیز میں فیل ہو جائیں تو اپنے دماغ کو سکون دیں اور اس دوران کچھ اور کر لیں۔‘

پاکستان میں منی ایچر آرٹ کا حال اور مستقبل

اس بات سے منھ نہیں پھیرا جا سکتا کہ آج بھی پاکستان میں آرٹ کو خاص پزیرائی حاصل نہیں ہے۔ اس بارے میں احسن کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی کو بتاتے ہیں کہ وہ منی ایچر آرٹسٹ ہیں تو لوگوں کو تب تک سمجھ نہیں آتی جب تک کہ وہ انھیں کچھ دکھا نہ دیں۔

معاشرے میں آرٹ اور آرٹسٹ کو لے کر پائے جانے والے منفی رویے کے بارے میں احسن کہتے ہیں ’میرے کچھ دوستوں نے میرا مذاق بھی اڑایا کہ کیا تم ایک چیز پر چھ چھ گھنٹے لگاتے ہو، اس سے تمھاری تنخواہ تو نہیں آ رہی۔‘

’مگر ہر چیز پیسے کے لیے نہیں کی جاتی، کچھ چیزیں دل کو سکون دیتی ہیں۔ آج میری کامیابی ان کی باتوں اور سوالوں کا جواب ہے۔‘

پاکستان میں منی ایچر آرٹ کے مستقبل کے بارے میں احسن کا کہنا تھا کہ یہاں لوگوں کو سمجھ نہیں ہے کہ یہ کس قسم کا آرٹ ہے اس لیے انھیں پیسے کے لحاظ سے منی ایچر آرٹ کا کوئی خاص مستقبل نظر نہیں آتا۔

ہر جمعے کی طرح اس جمعے بھی احسن والدین کی قبروں پر فاتحہ خوانی کرنے کے لیے گئے مگر اس بار ایک خوشخبری کے ساتھ۔

’پہلا کام ہی میں نے یہ کیا کہ امی ابو کی قبروں پر گیا اور ان سے شیئر کیا۔ کاش اگر آج وہ زندہ ہوتے تو ان کے لیے یہ سب سے فخر کی بات ہوتی۔۔۔ شاید وہ اب بھی دیکھ رہے ہوں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10858 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp